Saturday , December 15 2018

اردو یونیورسٹی وائس چانسلر کا اندرون ایک ہفتہ اعلان متوقع

سرچ کمیٹی کی کارروائی مکمل ، سائنسداں کو فائز کرنے چانسلر ظفر سریش والا کی سفارش

سرچ کمیٹی کی کارروائی مکمل ، سائنسداں کو فائز کرنے چانسلر ظفر سریش والا کی سفارش
حیدرآباد۔/16جون، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کے انتخاب کے سلسلہ میں وزارت فروغ انسانی وسائل کی سرچ کمیٹی نے اپنی کارروائی مکمل کرلی ہے اور توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ وائس چانسلر کے نام کا اعلان کردیا جائے گا۔ اس بات کا اشارہ چانسلر اردو یونیورسٹی ظفر سریش والا نے نمائندہ ’سیاست‘ سے بات چیت کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرچ کمیٹی نے نئے وائس چانسلر کے سلسلہ میں ان سے بھی مشاورت کی اور بعض موزوں نام پیش کرنے کی خواہش کی لیکن انہوں نے خود کو اس عمل سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ظفر سریش والا کا کہنا تھا کہ انہوں نے سرچ کمیٹی کو مشورہ دیا کہ وہ ایسی شخصیت کا وائس چانسلر کے عہدہ پر انتخاب کریں جو ایماندار، دیانتدار اور یونیورسٹی کے معیار کو دیگر قومی یونیورسٹیز کے مساوی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ظفر سریش والا نے اس بات کا اشارہ دیا کہ نیا وائس چانسلر اس عہدہ کے درخواست گذاروں سے ہٹ کر بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سرچ کمیٹی سے سفارش کی تھی کہ وہ صرف ان افراد کے ناموں تک خود کو محدود نہ کریں جنہوں نے اس عہدہ کیلئے درخواست دی ہے بلکہ ایسے قابل افراد کی تلاش کریں جو اگرچہ درخواست گذار نہیں ہیں لیکن یونیورسٹی کے معیار کو بلند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سریش والا نے کہا کہ سرچ کمیٹی کا کام چونکہ تلاش کرنا ہے لہذا انہوں نے درخواست گذاروں سے ہٹ کر بھی کسی سائنٹسٹ کو اس جلیل القدر عہدہ پر فائز کرنے کی سفارش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اردو یونیورسٹی کا ہر شعبہ دیگر قومی یونیورسٹیز کے شعبہ جات سے مسابقت کا اہل ہو۔ انہوں نے بتایا کہ سرچ کمیٹی نے ان سے بعض ناموںکی تجویز پیش کرنے کی خواہش کی لیکن انہوں نے خود کو ترجیحات تک محدود رکھا اور شخصیات سے دور رہے۔ انہوں نے کہا کہ سرچ کمیٹی درخواست گذاروں کے علاوہ دیگر افراد کے ناموں پر بھی غور کرسکتی ہے۔ ظفر سریش والا کا کہنا ہے کہ جس طرح جامعہ ملیہ اور جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلرس سائنٹسٹ ہیں اسی طرح اردو یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی سائنٹسٹ ہونا چاہیئے کیونکہ سائنٹسٹ کا ذہن اختراعی اور ترقی کی سمت مائل ہوتا ہے اس سے یونیورسٹی کی بہتر ترقی کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وائس چانسلر کے عہدہ کی سفارش کیلئے ان سے کئی افراد رجوع ہوئے لیکن انہوں نے صرف نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل سے خود کو علحدہ رکھا۔ چانسلر اردو یونیورسٹی نے بتایا کہ وہ نئے وائس چانسلر کی پانچ سالہ میعاد کے دوران ہر سطح پر یونیورسٹی کو ترقی کی سمت دیکھنا چاہتے ہیں اور سابق میں جو کچھ بھی کمی یا خامیاں پائی گئیں ان کا تدارک کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں یونیورسٹی میں مختلف افراد کے خلاف کی گئی ناانصافیوں اور دیگر اُمور کے سلسلہ میں کئی شکایات ان سے رجوع کی گئی ہیں اور وہ ان تمام شکایات کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے ساتھ بھی ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر ناانصافی پر مبنی فیصلہ ہوچکا ہے تب بھی اس پر نظر ثانی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بہت ساری شکایات میں ناانصافیوں کے علاوہ انتظامی اُمور سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی بھی کی گئی۔ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ غلطیوں کی اصلاح اور ناانصافیوں کی تلافی کی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں ظفر سریش والا نے کہا کہ یونیورسٹی پر کسی ایک مخصوص علاقہ یا گروپ کا تسلط نہیں رہے گا کیونکہ یونیورسٹی قومی یونیورسٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں جو کچھ ہوا وہ گزر گیا لیکن ایسی سرگرمیوں کا اعادہ اب نہیں ہوسکتا۔

TOPPOPULARRECENT