Wednesday , December 19 2018

اردو یونیورسٹی پر شمالی ہندکے غلبہ کی مہم

جاریہ ماہ نئے وائس چانسلر کا اعلان متوقع، سابق وائس چانسلر کے ایجنڈہ پر انچارج وائس چانسلر عمل پیرا،انتقامی کارروائیاں جاری

جاریہ ماہ نئے وائس چانسلر کا اعلان متوقع، سابق وائس چانسلر کے ایجنڈہ پر انچارج وائس چانسلر عمل پیرا،انتقامی کارروائیاں جاری
حیدرآباد ۔ 8۔ جون (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کے تقرر کیلئے مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کی سرچ کمیٹی نے اہل درخواست گزاروں کے ساتھ انٹرویو منعقد کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے آئندہ وائس چانسلر کے نام کو تقریباً قطعیت دی جاچکی ہے۔ توقع ہے کہ جاریہ ماہ کے ختم تک اردو یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کے نام کا اعلان کردیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی دہلی میں سرچ کمیٹی نے وائس چانسلر کے عہدہ کی اہلیت رکھنے والے تقریباً 8 درخواست گزاروں کے ناموں کو شارٹ لسٹ کرتے ہوئے انٹرویو منعقد کئے۔ وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے جن ناموں کی یونیورسٹی میں قیاس آرائی کی جارہی ہے، ان میں پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر فیضان مصطفیٰ اور پروفیسر فرحان قمر شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس عہدہ کیلئے مختلف گوشوں سے زبردست پیروی کی جارہی ہے تاکہ اپنی پسند کے شخص کو اس عہدہ پر مامور کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں شمالی ہند کی لابی سرگرم ہے اور سبکدوش وائس چانسلر محمد میاں اور انکے حامی اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس عہدہ پر شمالی ہند کا تسلط برقرار رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں مرکزی حکومت میں شامل بعض افراد کی تائید حاصل کی جارہی ہے۔ اسی دوران محمد میاں کے جانشین کی حیثیت سے انچارج وائس چانسلر کے عہدہ پر فائز شخصیت نے اپنے پیشرو کی جانب سے دی گئی ذمہ داریوں کی تکمیل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ انہوں نے محمد میاں کے ادھورے کاموں کی تکمیل میں کئی اہم فیصلے کئے۔ محمد میاں نے اپنے مخالفین کے خلاف لمحہ آخر میں جس طرح کارروائیاں کی تھیں ، اسی طرز پر موجودہ انچارج وائس چانسلر بھی محمد میاں کے مخالفین کو نشانہ بنارہے ہیں۔ مخالف یونیورسٹی سرگرمیوں کے الزام میں جن دو افراد کو نشانہ بنایا گیا ، ان میں ایک کے خلاف کی گئی کارروائی پر ہائیکورٹ سے حکم التواء حاصل ہوگیا لیکن یونیورسٹی عدالت کے احکام کی تعمیل سے انکار کررہی ہے۔ دوسری طرف انچارج وائس چانسلر نے ایک اور پروفیسر کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اور ایک ریٹائرڈ سیشن جج کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا ۔ یونیورسٹی اور یو جی سی قواعد کے تحت انچارج وائس چانسلر کو اہم اور پالیسی فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس کے باوجود یونیورسٹی میں غلبہ رکھنے والی شمالی ہند کی لابی من مانی فیصلوں کے ذریعہ قواعد کی صریح خلاف ورزی کررہی ہے۔ گزشتہ دنوں جس شخص کی خدمات کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس کے خلاف تحقیقات میں کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب نہیں ہوا۔ تاہم تحقیقاتی افسر نے ثبوت کے بجائے حالات اور قیاس کی بنیاد پر خاطی قرار دیدیا۔ اسی تحقیقاتی افسر کو ایک دوسرے پروفیسر کے خلاف جانچ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ انچارج وائس چانسلر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نئے وائس چانسلر کے تقرر سے قبل تحقیقات مکمل کرلی جائے تاکہ سابق وائس چانسلر کے انتقامی مشن کی تکمیل ہوسکے۔ یونیورسٹی قواعد اور روایات کے تحت کسی نان ٹیچنگ فرد کو انچارج وائس چانسلر کی ذمہ داری نہیں دی جاسکتی لیکن شمالی ہند کی لابی میں کامیاب پیروی کرتے ہوئے 3 سینئر موسٹ پروفیسرس کی سینیاریٹی نظر انداز کرتے ہوئے اپنے پسند کے شخص کو اس عہدہ پر فائز کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ یونیورسٹی کے باوثوق ذرائع کے مطابق نئے وائس چانسلر کی آمد سے قبل سابق وائس چانسلر کے ادھورے مشن کی تکمیل اور ان کی جانب سے کی گئی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کی پردہ پوشی کا کام مکمل کرنے کیلئے زبردست سرگرمیاں جاری ہیں۔ یونیورسٹی پر مسلط شمالی ہند کی لابی کو ریٹائرڈ جرنلسٹ اور یونیورسٹی کے میڈیا اڈوائزر کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ سابق وائس چانسلر نے اسی مقصد سے ان کا تقرر کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ 6 برسوں سے پی آر او کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے شخص کو جبراً دوسرے ادارے میں تبادلہ کردیا گیا جبکہ اترپردیش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو انچارج پی آر او مقرر کیا گیا ہے۔ میڈیا اڈوائزر ان تمام افراد کو نشانہ بنارہے ہیں، جو سابق وائس چانسلر کی بے قاعدگیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ یونیورسٹی میں میڈیا اڈوائزر کی برقراری کی مدت صرف ایک سال ہے اور نئے وائس چانسلر کی آمد تک سابق وائس چانسلر کے گروپ کی من مانی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ جن افراد نے بے قاعدگیوں کے خلاف آواز اٹھائی، انہیں روزگار سے محروم کرنے کی حد تک فیصلے کئے گئے جبکہ یونیورسٹی میں کئی ایسے افراد فائز ہیں جو اپنے عہدوں کیلئے اہل نہیں لیکن اس طرح کے افراد کو گواہ معافی یافتہ کی حیثیت سے استعمال کرتے ہوئے ان کی خدمات کو برقرار رکھا گیا۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے موجودہ صورتحال پر کچھ اس طرح تبصرہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ سابق وائس چانسلر کے ایجنڈہ پر عمل جاری ہے جبکہ طلبہ اور اساتذہ کو نئے وائس چانسلر کا بے چینی سے انتظار ہے تاکہ یونیورسٹی اپنے قیام کے مقاصد کی تکمیل کرسکے۔

TOPPOPULARRECENT