Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی پر ’سیاست‘ کے انکشافات درست ثابت

اردو یونیورسٹی پر ’سیاست‘ کے انکشافات درست ثابت

حیدرآباد۔/14مئی، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شمالی ہند کے تسلط کا پھر ایک مرتبہ مظاہرہ ہوا اور مرکزی حکومت پر اثر انداز ہوتے ہوئے انچارج وائس چانسلر کی حیثیت سے پروفیسر خواجہ ایم شاہد کا تقرر کیا گیا۔ سبکدوش وائس چانسلر محمد میاں کے بااعتماد اور راز دار سمجھے جانے والے خواجہ محمد شاہد کا تعلق بھی نئی دہلی سے ہ

حیدرآباد۔/14مئی، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شمالی ہند کے تسلط کا پھر ایک مرتبہ مظاہرہ ہوا اور مرکزی حکومت پر اثر انداز ہوتے ہوئے انچارج وائس چانسلر کی حیثیت سے پروفیسر خواجہ ایم شاہد کا تقرر کیا گیا۔ سبکدوش وائس چانسلر محمد میاں کے بااعتماد اور راز دار سمجھے جانے والے خواجہ محمد شاہد کا تعلق بھی نئی دہلی سے ہے جہاں سے سبکدوش وائس چانسلر تعلق رکھتے ہیں۔ وزارت فروغ انسانی وسائل پر مختلف ذرائع سے اثر انداز ہوتے ہوئے سبکدوش وائس چانسلر نے اپنے بااعتماد رفیق کو انچارج وائس چانسلر کے عہدہ پر فائز کرنے میں کامیابی حاصل کرلی جبکہ یونیورسٹی کے قواعد کے مطابق وہ انچارج وائس چانسلر کے عہدہ کی اہلیت نہیں رکھتے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ محمد میاں کی میعاد کے آخری دن یعنی 13مئی کو ہی انچارج وائس چانسلر خواجہ شاہد نے جائزہ حاصل کرلیا اور انچارج رجسٹرار کی دستخط سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جسے آج یونیورسٹی میں گشت کرایا گیا۔ اگرچہ اعلامیہ پر تاریخ 13مئی درج ہے لیکن یونیورسٹی میں اسے آج برسر عام کیا گیا تاکہ جائزہ حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اس طرح روز نامہ ’سیاست‘ نے انچارج وائس چانسلر کے انتخاب کے سلسلہ میں جو انکشاف کیا تھا وہ صد فیصد درست ثابت ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ قواعد کے مطابق یونیورسٹی کے سینئر ترین پروفیسر کو یہ ذمہ داری دی جاتی ہے۔ اس زمرہ میں تین پروفیسرس تھے لیکن اُن کی سینیاریٹی کو نظرانداز کرتے ہوئے وائس چانسلر کے قریبی فرد کو یہ ذمہ داری دے دی گئی۔ شمالی ہند کی لابی نے اس قدر چالاکی کا مظاہرہ کیا کہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچنے کیلئے پہلے درجہ پر موجود سینئر پروفیسر سے تحریر حاصل کرلی گئی کہ وہ انچارج وائس چانسلر کے عہدہ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس زمرہ میں موجود دوسرے پروفیسر رخصت پر ہیں جبکہ تیسری خاتون پروفیسر کو مختلف ذرائع سے انچارج وائس چانسلر کے عہدہ سے دور رکھنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ یونیورسٹی کے ذرائع نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگرچہ وزارت فروغ انسانی وسائل کو قواعد میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے لیکن سبکدوش وائس چانسلر ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ کسی طرح ان کی بے قاعدگیوں کا بعد میں خلاصہ ہو۔ لہذا ان کے تمام فیصلوں کو چھپانے کیلئے ان کی ریاست سے تعلق رکھنے والے اور ان کے قریبی شخص کو اس عہدہ پر فائز کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم سے قربت رکھنے والے ایک شخص نے اس معاملہ میں اہم رول ادا کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سبکدوشی سے ایک ماہ قبل وزارت فروغ انسانی وسائل نے محمد میاں کی میعاد میں توسیع کو قطعیت دے دی تھی لیکن ’’سیاست ‘‘ کی جانب سے یونیورسٹی کی بے قاعدگیوں کے انکشافات کے بعد وزارت نے اپنا ذہن تبدیل کرلیا۔ اب جبکہ میعاد میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں تھی لہذا سبکدوش وائس چانسلر نے اپنے قریبی شخص کیلئے مہم چلائی۔ انہوں نے رجسٹرار کے اہم عہدہ پر اپنے قریبی شخص کو فائز کرنے کی کارروائی مکمل کرلی اب صرف تقرر کے احکامات کی اجرائی باقی ہے۔ اگرچہ سبکدوش وائس چانسلر کسی کو اطلاع دیئے بغیر اچانک اپنے وطن واپس ہوگئے لیکن ان کے بعض حواری اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ انہیں دوبارہ مدعو کرتے ہوئے ایک تہنیتی اور وداعی تقریب منعقد کی جائے۔ وداعی تقریب تو عموماً میعاد کی تکمیل کے آخری دن کی جاتی ہے لیکن اس کیلئے اساتذہ اور طلبہ ذہنی طور پر تیار نہیں تھے لہذا سبکدوش وائس چانسلر کے حواریوں کے ذریعہ تقریب کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے بتایا کہ انہیں وائس چانسلر کی روانگی اور انچارج وائس چانسلر کے تقرر کی اطلاع ’سیاست‘ کی رپورٹ سے ملی۔ انچارج وائس چانسلر ابھی تک پرو وائس چانسلر کی ذمہ داری نبھارہے تھے۔ علاوہ ازیں وہ بعض دیگر اداروں کے بھی انچارج ڈائرکٹر کی حیثیت سے برقرار ہیں۔ اردو یونیورسٹی میں فی الوقت یہ بحث جاری ہے کہ انچارج وائس چانسلر کب تک برقرار رہیں گے اور مرکزی حکومت نئے وائس چانسلر کے تقرر کا عمل کب تک مکمل کرلے گی۔ یونیورسٹی کے انتہائی باوثوق اور اعلیٰ ذرائع کے مطابق سبکدوش وائس چانسلر کی سفارش پر ہی انچارج وائس چانسلر کا تقرر کیا گیا۔ دوسری طرف توقع کی جارہی ہے کہ باقاعدہ وائس چانسلر کے انتخاب کیلئے قائم کردہ سرچ کمیٹی اندرون دو ماہ حکومت کو ناموں کی سفارش کردے گی۔ سبکدوش وائس چانسلر نے واپسی سے قبل کئی افراد کو نشانہ بنایا اور اس کے لئے بعض ایسے افراد کا سہارا لیا گیا جو عدم اہلیت کے باوجود یونیورسٹی میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں ملازمت سے برطرفی کی دھمکی اور نوٹسوں کی اجرائی کے ذریعہ گواہی معافی یافتہ بننے پر مجبور کیا گیا۔ کئی افرادکو نوٹسیں جاری کی گئی تھیں لیکن ان کی مرضی کے مطابق بعض افراد کے خلاف گواہی دینے کے عوض میں نہ صرف نوٹس سے دستبرداری اختیار کرلی گئی بلکہ ملازمت کو باقاعدہ بنادیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انچارج وائس چانسلر کے تقرر اور جائزہ حاصل کرنے کے باوجود یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ابھی بھی محمد میاں بحیثیت وائس چانسلر برقرار ہیں۔ اس سے یونیورسٹی میں شمالی ہند کے غلبہ اور ان کے حواریوں کی کثرت کا اندازہ ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT