Tuesday , September 18 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی چانسلر محمدمیاں نے مندر میں پوجا کی

اردو یونیورسٹی چانسلر محمدمیاں نے مندر میں پوجا کی

مذہب بیزار شخص نے مندر کو دلی سکون کا مقام قرار دیا

مذہب بیزار شخص نے مندر کو دلی سکون کا مقام قرار دیا
حیدرآباد /15 اگست (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی جو کہ مجموعی اعتبار سے ایک اردو ادارہ ہے اور اس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، مگر حالیہ عرصہ میں اس کے اعلی عہدوں پر ایسے افراد تقرر حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جن کے مذہبی رجحانات بالکلیہ طورپر باطل ہیں۔ وائس چانسلر اردو یونیورسٹی محمد میاں کے مذہبی خیالات پر متعدد مرتبہ سوالات اٹھائے جاچکے ہیں، اس کے باوجود ان کے طرز میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی اور یہ انتہائی اہم قومی دانش گاہ بدمذاہب اور عقائد باطلہ سے تعلق رکھنے والوں کی آماجگاہ بننے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ محمد میاں جن کے نام کے اعتبار سے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں، لیکن ان کی حرکات سے مسلم سماج شرمندہ ہو رہا ہے۔ آج تانڈور کے ایک مندر میں محمد میاں نے باضابطہ طورپر پوجا کی اور اس کے بعد اپنے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ مندروں میں پوجا سے انھیں قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ محمد میاں کے یہ الفاظ کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن ان کا یہ برملا اظہار پہلی مرتبہ منظر عام پر آیا ہے۔ ان کے متعلق یونیورسٹی کے ذمہ داروں کا ابتدا ہی سے یہ کہنا ہے کہ وہ ایک مذہب بیزار شخصیت کے حامل ہیں اور بعض مرتبہ ان کے خانگی معاملات کے متعلق بھی یونیورسٹی کے عہدہ داروں نے اظہار خیال کیا، مگر یہ سوچتے ہوئے اب تک ان کے اس طرح کے نظریات پر خاموشی اختیار کی جاتی رہی کہ مذہب ان کا ذاتی معاملہ ہے، لیکن ایک اعلی عہدہ پر فائز مسلم نام رکھنے والے عہدہ دار کی جانب سے اس طرح کے برملا اظہار سے کئی خدشات رونما ہو رہے ہیں۔ سابق میں سالار جنگ میوزیم میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران بھی محمد میاں نے برقعہ کو طنز کا نشانہ بنایا تھا اور انھیں مسلمانوں کی سخت تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن بعد ازاں انھوں نے اپنے خیالات کو توڑ مروڑکر پیش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی تردید کرنے میںاپنی عافیت محسوس کی، لیکن تانڈور کے مندر میں کئے گئے ان کے اس عمل کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دیوی دیوتاؤں کے درشن سے انھیں ذہنی سکون ملتا ہے۔ محمد میاں کا یہ عمل شاید کسی شخصیت یا حکومت کو خوش کرنے کے لئے ہوگا، لیکن ان کے اس عمل سے یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اب محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT