Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر سے نیک توقعات کا اظہار

اردو یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر سے نیک توقعات کا اظہار

جامع منصوبہ کو قطعیت ، چانسلر یونیورسٹی جناب ظفر سریش والا کا بیان
حیدرآباد ۔ 21۔ اکتوبر (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے امید ظاہر کی کہ نئے وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز کی قیادت میں یونیورسٹی ترقی کی نئی منزلیں طئے کرے گی اور اس کا شمار ملک کی نامور اور معیاری یونیورسٹیز میں ہوگا۔ ظفر سریش والا نے ڈاکٹر اسلم پرویز کے تقرر کو یونیورسٹی کے لئے فعال نیک قرار دیا اور کہا کہ وہ نہ صرف ایک سائنسداں ہیں بلکہ دینی مزاج کے حامل شخص ہیں جنہوں نے ذاکر حسین دہلی کالج کی ترقی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ سریش والا نے امید ظاہر کی کہ نئے وائس چانسلر تمام اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد اصلاحات کا عمل شروع کریں گے اور انقلابی اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر کی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل ڈاکٹر اسلم پرویز سے ان کی بات چیت ہوئی اور دونوں نے یونیورسٹی کی ترقی کے سلسلہ میں ایک جامع  منصوبہ کو قطعیت دی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اردو یونیورسٹی ملک کی دیگر سنٹرل یونیورسٹیز کی طرح ترقی کرے، اس کا شمار ایسی یونیورسٹی میں ہو جہاں طلبہ داخلہ کیلئے جوق در جوق پہنچے۔ اس یونیورسٹی کے فارغین اس طرح قابل ہوں کہ انہیں بڑے خانگی ادارے ملازمت فراہم کرنے میں فخر محسوس کریں۔

 

ظفر سریش والا نے یونیورسٹی کی ترقی اور معیار بلند کرنے کیلئے ڈاکٹر اسلم پرویز سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ حکومت کی سطح پر جو بھی مدد درکار ہوگی ، وہ فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 17 برسوں میں یونیورسٹی کی حالت افسوسناک رہی ۔ اس کے پالی ٹکنک اور آئی ٹی آئی ابھی تک مسلمہ نہیں ہے جس کے باعث وہاں کے فارغین سرکاری ملازمتوں کے لئے نااہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں فاصلاتی تعلیم ایک مذاق بن چکی ہے۔ یونیورسٹی میں کئی شعبے ایسے ہیں جن میں اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ سابقہ وائس چانسلر نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے فنڈس حاصل کرنے پر توجہ نہیں دی جس کے باعث 11 ویں پنچسالہ منصوبے کا بجٹ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔ ظفر سریش والا کی مساعی پر یو جی سی نے 205 کر وڑ روپئے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی میں علاقائی عصبیت کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی اور گزشتہ چند برسوں میں جن افراد کے ساتھ ناانصافی کی گئی ان کو انصاف ملے گا۔ سابق میں اگر کسی کے خلاف جانبدارانہ فیصلے کئے گئے تو نئے وائس چانسلر اس کی اصلاح کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT