Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی کے ویب سائیٹ پر گمراہ کن مواد

اردو یونیورسٹی کے ویب سائیٹ پر گمراہ کن مواد

میڈیا سنٹر کے بارے میں غلط معلومات، غیر اردو داں افراد کو ذمہ داری، قیام کے مقاصد سے انحراف

میڈیا سنٹر کے بارے میں غلط معلومات، غیر اردو داں افراد کو ذمہ داری، قیام کے مقاصد سے انحراف
حیدرآباد ۔13 ۔ اپریل (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں جاری بے قاعدگیوں اور قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق انکشافات کے بعد مختلف شعبہ جات اور ڈپارٹمنٹس کے بارے میں تفصیلات منظر عام پر آنے لگی ہیں۔ یونیورسٹی کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے والے افراد اور تنظیموں نے وائس چانسلر کی سرپرستی میں جاری گزشتہ پانچ برسوں کی بے قاعدگیوں کی تفصیلات مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کو روانہ کی ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے وزیٹر صدر جمہوریہ پرنب مکرجی اور چانسلر ظفر سریش والا کو بھی تفصیلات روانہ کی گئیں۔ بتایا جاتاہے کہ یونیورسٹی کے حکام نے بیرونی افراد کے داخلہ پر عملاً پابندی عائد کردی ہے اور یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ہر ملازم اور عہدیدار کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاری ہے تاکہ یونیورسٹی میں جاری من مانی اور بے قاعدگیوں کو منظر عام پر آنے سے روکا جاسکے۔ یونیورسٹی ایک طرف مکمل شفافیت اور قواعد پر عمل آوری کا دعویٰ کر رہی ہے تو دوسری طرف یونیورسٹی کے ویب سائیٹ اس کے ان دعوؤں کو جھوٹ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی ویب سائیٹ پر یونیورسٹی کے بارے میں تفصیلات پر مشتمل ایک پیج موجود ہے جس میں یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد اور یونیورسٹی کے تحت چلنے والے اداروں کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس صفحہ پر پیش کی گئی بعض تفصیلات حقائق سے بعید اور گمراہ کن ہیں۔ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ کیمپس میں انسٹرکشنل میڈیا سنٹر (آئی این سی) قائم کیا گیا تاکہ نصاب پر مبنی آڈیو ، ویڈیو پروگرام تیار کئے جاسکے تاکہ مختلف پروگراموں میں زیر تعلیم طلبہ کو سہولت ہو جن میں فاصلاتی تعلیم کے طلبہ شامل ہیں۔ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم سی کے ذریعہ عوام کے لئے مختلف ڈاکومینٹری پروگرام کی تیاری عمل میں لائی جاتی ہے اور اس کے براڈ کاسٹ کیلئے یونیورسٹی نے دوردرشن پرسار بھارتی سے یادداشت مفاہمت کی ہے اور دوردرشن کے اردو چیانل پر باقاعدہ یونیورسٹی کے تیار کردہ پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی نے یہ دعویٰ کیا کہ یکم جنوری 2010 ء سے یہ پروگرام دوردرشن کے اردو چیانل پر پیش کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں جب حقائق کا پتہ چلایا گیا تو معلوم ہوا کہ دوردرشن سے کئے گئے یادداشت مفاہمت کی مدت ختم ہوچکی ہے اور اب ای ٹی وی اردو پر یونیورسٹی کے پروگرام پیش کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یونیورسٹی تازہ تفصیلات کو اپنی ویب سائیٹ پر پیش کرتی لیکن یونیورسٹی نے دوردرشن کے اردو چیانل پر پروگراموں کی پیشکشی کا گمراہ کن مواد ویب سائیٹ پر پیش کیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق میڈیا سنٹر کی جانب سے تیار کئے جانے والے ڈاکومینٹریز کا معیار اس قابل نہیں کہ جس سے طلبہ اور عوام کو فائدہ ہو۔ دوردرشن کا اردو چیانل عوام میں بہت کم دیکھا جاتا ہے، اس کے علاوہ اب ای ٹی وی اردو پر جو پروگرام پیش کئے جارہے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ وہ نئے نہیں بلکہ سابق میں تیار کردہ پروگرام ہیں، جنہیں دوبارہ پیش کیا جارہا ہے۔ شفافیت کا دعویٰ کرنے والی یونیورسٹی اور اس کے حکام اپنی اس گمراہ کن ویب سائیٹ کے بارے میں کیا جواب دیں گے؟ بتایا جاتا ہے کہ صرف ضابطہ کی تکمیل کیلئے اس سنٹر کے ذریعہ بعض پروگرام تیار کئے گئے جن سے طلبہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ اس طرح اس سنٹر کے قیام کا مقصد ہی عملاً فوت ہوچکا ہے ۔ یونیورسٹی کے ویب سائیٹ پر یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد میں اردو زبان کی ترقی اور فروغ کا دعویٰ کیا گیا لیکن افسوس انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کے سربراہ خود غیر اردو داں ہیں اور ان کا تعلق بتایا جاتا ہے کہ شمالی ہند سے ہے۔ جس ادارہ کا سربراہ خود غیر اردو داں ہو ، کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ادارہ اردو کی ترقی اور فروغ میں اہم رول ادا کرے گا۔ وائس چانسلر اور دیگر اعلیٰ حکام کے قریبی اور پسندیدہ افراد کو اہم عہدوں پر فائز کردیا گیا، بھلے ہی وہ اردو داں کیوں نہ ہو۔ یونیورسٹی میں ملازمت کیلئے پہلی شرط اردو داں ہونا ہے لیکن اردو یونیورسٹی میں کسی بھی عہدہ پر غیر اردو داں کا تقرر ہوسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ بھلے ہی اردو سے واقف نہ ہو لیکن وائس چانسلر اور دیگر اعلیٰ افراد سے قربت رکھتا ہو۔ یونیورسٹی کے تعارف سے متعلق پیج پر حکام نے ادھوری معلومات فراہم کی ہیں۔ ہونا تو چاہئے تھا کہ یونیورسٹی کے قیام سے لیکر آج تک مختلف کورسس اور ڈپارٹمنٹس کے آغاز اور ان سے فارغ ہونے والے طلبہ کی تفصیلات بھی پیش کی جاتی۔ بجائے اس کے تعارف میں ایسی تصویر پیش کی گئی جیسے یونیورسٹی انتہائی کامیابی کے ساتھ اردو داں طبقہ کی خدمت کر رہی ہے۔ جہاں تک یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کی تکمیل کا سوال ہے، کسی بھی وائس چانسلر نے اس جانب توجہ مبذول نہیں کی۔ بتایا جاتاہے کہ یونیورسٹی کے کئی اہم عہدوں پر ابھی بھی غیر اردو داں افراد فائز ہیں اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کئی ایسے عہدے قائم کردیئے گئے جن کے ڈپارٹمنٹس کا کوئی وجود نہیں۔

TOPPOPULARRECENT