Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / اروناچل پردیش میں کانگریس حکومت بحال

اروناچل پردیش میں کانگریس حکومت بحال

سپریم کورٹ کا فیصلہ،چیف منسٹر ٹکی نے جائزہ حاصل کرلیا، بی جے پی اور مرکز کو دوسرا زبردست دھکہ
نئی دہلی ۔ 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور مرکز میں اس کی زیرقیادت حکومت کو آج زبردست دھکہ لگا جب سپریم کورٹ نے اروناچل پردیش میں کانگریس کی حکومت کو بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے جنوری میں اس (کانگریس) حکومت کے زوال کا سبب بننے والے ریاستی گورنر کے تمام فیصلوں کو کالعدم کردیا اور کہاکہ گورنر کے فیصلے دستور کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے کانگریس کو ایک نئی طاقت ملی ہے جس سے ناہم ٹکی کی زیرقیادت برطرف شدہ حکومت کی بحالی کی راہ ہموار ہوگئی ہے چنانچہ ٹکی نے آج رات دہلی میں اروناچل بھون میں چیف منسٹر کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرلیا۔ پانچ رکنی بنچ کے تاریخی متفقہ فیصلہ میں دیگر کئی اقدامات کے علاوہ گورنر جیوتی پرساد راج کھوہ کے اس پیغام کو بھی کالعدم کردیا گیا جس میں انہوں نے اسمبلی سیشن کی 13 جنوری 2016ء کے بجائے 16 تا 18 ڈسمبر 2015ء کو مقررہ وقت سے قبل شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ جسٹس جے ایس کیھر کے زیرقیادت دستوری بنچ نے اروناچل پردیش اسمبلی میں 15 ڈسمبر 2015ء کے مطابق جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کا حکم بھی دی ہے۔ مرکز کو سپریم کورٹ سے یہ دوسری مرتبہ ایک بڑا دھکہ لگا ہے۔ قبل ازیں مئی کے دوران عدالت عظمیٰ نے اترکھنڈ اسمبلی میں اکثریت کے تازہ امتحان کا حکم دیا تھا، جس کی بدولت ہریش راوت کی زیرقیادت کانگریس حکومت کو دوبارہ اقتدار حاصل ہوگیا

جس کو مرکز نے 27 مارچ کو برطرف کرتے ہوئے صدر راج نافذ کیا تھا۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کہا کہ عدالت کے فیصلہ پر عمل کیا جائے گا اور گورنر تمام ضروری اقدامات کریں گے۔ناہم ٹکی نے اس فیصلہ کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’’تاریخی‘‘ فیصلہ ہے اور اس نے جمہوریت کا تحفظ کیا ہے اور انصاف کو یقینی بنایا ہے۔ ٹکی نے جو اپنی حکومت کی معزولی سے قبل اروناچل پردیش کے چیف منسٹر تھے، کانگریس کے 47 کے منجملہ 21 ارکان نے چیف منسٹر کے خلاف بغاوت کردی تھی اور گڑبڑ و غیریقینی صورتحال کے درمیان ناہم ٹکی کی زیرقیادت حکومت برطرف کردی گئی تھی۔

اروناچل پردیش میں 26 جنوری کو صدر راج نافذ کردیا گیا تھا۔ مزید برآں سپریم کورٹ کی جانب سے 20 فبروری کو اپنا فیصلہ محفوظ کئے جانے سے کچھ پہلے کانگریس کے باغی لیڈر کالیکھو پل نے کانگریس کے 18 باغی ارکان کے علاوہ دو آزاد اور 11 بی جے پی ارکان کی تائید سے اروناچل پردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ 60 رکنی ریاستی اسمبلی میں بی جے پی کے 11 ارکان، کالیکھوپل حکومت کی باہر سے تائید کررہے تھے۔ اس بنچ نے قبل ازیں صدر راج کے نفاذ بعدازاں اس کی منسوخی اور نئی حکومت کے قیام سے متعلق دو درخواستوں کو علحدہ کردیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ صدرجمہوریہ اسی وقت مداخلت کرسکتے ہیں جب گورنر اور وزرائے کونسل کے مابین رابطہ منقطع ہوجائے۔ اسی طرح گورنر بھی اپنے اختیارات کا وزارتی کونسل کی مدد اور مشورہ کے بغیر اسی وقت استعمال کرسکتے ہیں جب حکومت ایوان میں اکثریت سے محروم ہوجائے۔ اس دوران مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ مرکز نے ریاستی گورنر جیوتی پرساد راج کھوہ کی تجویز پر عمل کیا ہے۔ چنانچہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مرکزی حکومت کے خلاف نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT