Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / اروناچل پردیش پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ، وزیر اعظم کے منہ پر طمانچہ کے مترادف

اروناچل پردیش پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ، وزیر اعظم کے منہ پر طمانچہ کے مترادف

سیاسی انحراف کے خلاف فیصلہ کانگریس کے حق میں متوقع ، وجئے کمار نائیڈو
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : ترجمان تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر وجئے کمار نائیڈو نے ارونا چل پردیش کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کو وزیراعظم کے منہ پر طمانچہ قرار دیتے ہوئے تلنگانہ میں بھی سیاسی انحراف کے خلاف فیصلہ کانگریس کے حق میں آنے کی توقع کا اظہار کیا ۔ مسٹر وجئے کمار نائیڈو نے کہا کہ مرکزی حکومت انتقام کی پالیسی پر اتر آئی ہے ۔ اپنے ایجنڈے ’ بھارت مکت کانگریس ‘ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت اترکھنڈ اور اروناچل پردیش میں کانگریس کی حکومتیں تھیں ۔ صدر راج نافذ کردیا تھا تاہم کانگریس نے دونوں ریاستوں میں صدر راج کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا ۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی جانب سے دونوں ریاستوں میں نافذ کردہ صدر راج قانونی اور دستوری فیصلوں سے جائزہ لیتے ہوئے پہلے اترکھنڈ اور آج اروناچل پردیش سے صدر راج برخاست کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے ۔ اس فیصلے کے بعد عدلیہ پر عوام کا جو بھروسہ ہے وہ مزید مستحکم ہوگیا ہے اور کانگریس کیڈر میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہوا ہے ۔ مسٹر وجئے کمار نائیڈو نے کہا کہ ملک سے کانگریس کا صفایا کرنے کا بی جے پی نے جو خواب دیکھا ہے وہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا کیوں کہ کانگریس ملک کی 130 سالہ قدیم جماعت ہے ۔ جو عوامی خدمات اور ملک کی ترقی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے عملی سیاست میں ہے اور گاندھی خاندان نے ملک کی یکجہتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ۔ بی جے پی کی حالیہ عرصے میں کامیابی عارضی ہے ۔ 2019 کے عام انتخابات میں کانگریس پارٹی بھاری اکثریت حاصل کرتے ہوئے ہندوستان پر راج کرے گی ۔ عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر دونوں ناکام ہوچکے ہیں ۔ اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے نئے نئے تنازعات پیدا کرتے ہوئے ملک اور ریاست کو ترقی کے بجائے پسماندگی میں ڈھکیل رہے ہیں ۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے کانگریس کے بشمول دوسری جماعتوں کے 47 منتخب عوامی نمائندوں کو سیاسی انحراف کی ترغیب دیتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل کردیا ہے ۔ کانگریس نے اسپیکر اسمبلی اور صدر نشین کونسل کو کانگریس سے انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی ارکان قانون ساز کونسل کے ایوانوں کی رکنیت منسوخ کرنے کی یادداشتیں پیش کی ہے ۔ مگر اسپیکر اور چیرمین فیصلہ لینے میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ جس کے خلاف کانگریس پارٹی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہے ۔ 18 جولائی کو سپریم کورٹ میں سنوائی ہے ۔ کانگریس کو امید ہے ۔ اترکھنڈ اور اروناچل پردیش کی طرز پر تلنگانہ میں بھی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے کانگریس کے منتخب عوامی نمائندوں کے خلاف کانگریس کے حق میں فیصلہ آئے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT