Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / اروناچل پردیش کے سیاسی حالات پر پارلیمنٹ میں احتجاج

اروناچل پردیش کے سیاسی حالات پر پارلیمنٹ میں احتجاج

لوک سبھا و راجیہ سبھا کی کارروائی میں خلل ۔ صورتحال ملک کی جمہوریت اور علاقائی جماعتوں کیلئے خطرناک : غلام نبی آزاد کا بیان
نئی دہلی 17 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اروناچل پردیش میں پیش آرہے سیاسی واقعات کے مسئلہ کو کانگریس کی جانب سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں آج پھر موضوع بحث بنایا گیا جس کے نتیجہ میں جہاں لوک سبھا کی کارروائی کو اچانک ملتوی کردینا پڑا وہیں راجیہ سبھا میں بھی کام کاج دو مرتبہ ملتوی کیا گیا ۔ لوک سبھا میں کانگریس کے قائد ملکارجن کھرگے نے یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی جس کو اسپیکر نے منظور نہیں کیا ۔ اس موقع پر بی جے پی کے کئی ارکان نے کانگریس ارکان کی جانب سے ایوان کی کارروائی میں خلل پیدا کرتے ہوئے اپنے مسائل اٹھانے کے طریقہ کار کی مذمت کی ۔ جیسے ہی اسپیکر سمترا مہاجن نے وقفہ صفر کیدوران کانگریس کے رکن دیپیندر سنگھ ہوڈا کو اظہار خیال کا موقع دیا منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی امور راجیو پرتاپ روڈی نے اعتراض کیا اور کہا کہ ہم اس طریقہ کار کی حمایت نہیں کرتے ۔

اس سے قبل کانگریس ارکان نے نعرہ لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہونچ کر احتجاج کیا تھا ۔ جب ہوڈا کو اظہار خیال کا موقع دینے پر بی جے پی نے اعتراض کیا تو اسپیکر نے برسر اقتدار اقتدار ارکان سے کہا کہ یہ قدرے مختلف ہے ۔ بی جے پی ارکان کے احتجاج کے دوران ہوڈا نے کہا کہ روہتک میں ایک تقریب کیلئے انہیں دعوت نامہ دیا گیا تھا لیکن اس سے بعد میں دستبرداری اختیار کرلی گئی ۔ جب وہ اس واقعہ کی تفصیل پیش کر رہے تھے ایوان میں احتجاج بڑھ گیا جس پر اسپیکر نے انہیں روک دیا ۔ بی جے پی اور کانگریس کے ارکان وقفہ صفر کے دوران ایک دوسرے پر تنقید کرتے دیکھے گئے ۔ ملکارجن کھرگے یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اگر اسپیکر ہی اپوزیشن ارکان کا تحفظ نہیں کریگا تو کون کریگا ۔ ہنگاموں کے دوران کھرگے نے اروناچل پردیش واقعات کو موضوع بنایا اور انہیں فوری اسپیکر نے روکدیا اور کہا کہ یہ مسئلہ کل اٹھانے کی اجازت دیدی گئی تھی ۔ اچانک ہی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی ۔ تاہم اس موقع پر کانگریس ارکان نے ایوان سے واک آوٹ نہیں کیا اور دو دن کے برخلاف آج ایوان میں بیٹھے رہے ۔ راجیہ سبھا میں بھی کانگریس ارکان نے اروناچل پردیش گورنر پر ریاستی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ کانگریس ارکان کے احتجاج کی وجہ سے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کی کارروائی کو دو مرتبہ ملتوی کیا گیا ۔ کانگریس ارکان نے اروناچل پردیش کی صورتحال کو جمہوریت اور علاقائی جماعتوں کیلئے تشویشناک قرار دیا ۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک ڈپٹی اسپیکر نے اسپیکر کو عہدہ سے ہٹایا ہو اور وہ بھی اسمبلی میں نہیں بلکہ ایک عارضی اسمبلی سے ایسا کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کیا ایک دوسری اسمبلی قائم کی جاسکتی ہے ؟ ۔ یہ سب کچھ نہ صرف ریاست کیلئے بلکہ ساری علاقائی جماعتوں کیلئے خطرناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو کسی کے ڈرائنگ روم سے چلایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے ۔ نائب صدر نشین پی جے کورین نے اس پر بعد میں مباحث کی تجویز پیش کی لیکن کانگریس ارکان نے احتجاج کیا جس پر ایوان کی کارروائی کو دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑا ۔

TOPPOPULARRECENT