Tuesday , November 21 2017
Home / سیاسیات / ارونا چل پردیش میں صدر راج کے نفاذ پر تنازعہ

ارونا چل پردیش میں صدر راج کے نفاذ پر تنازعہ

کانگریس اور بی جے پی کی ایک دوسرے کے خلاف تنقید
نئی دہلی ۔ 27 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : کانگریس نے آج ارونا چل پردیش میں صدر راج کے نفاذ پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ہندوستانی وفاقی نظام کو پامال کرنے اور دستور کے بیجا استعمال کی کوشش ہے ۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر منیش تیواری نے بتایا کہ ارونا چل پردیش میں صدر راج کا نفاذ وفاقی جذبہ کے مغائر ہے اور دستور کے دفعہ 356 کے بیجا استعمال کی بدترین مثال ہے ۔ واضح رہیکہ ایک مرکزی کابینہ نے کانگریس کے زیر اقتدار ارونا چل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کی اتوار کی شب سفارش کی تھی جس کے باعث سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔ مسٹر منیش تیواری نے کہا کہ حکومت کو اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے تھا چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور یہ مطالبہ حق بجانب ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ تک حکومت کو انتظار کرنا چاہئے تھا تاہم کانگریس کی تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی لیڈر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ صدر راج کا نفاذ پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا ہے اور کانگریس کو شکایت کا کوئی حق نہیں ہے کیوں کہ وہ خود ریاست میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اروناچل پردیش میں صدر راج کے حالات کسی اور نہیں بلکہ کانگریس کے باغی ارکان اسمبلی نے پیدا کئے ہیں اور دستور کا تقاضہ بھی ہے کہ مقررہ مدت میں اسمبلی اجلاس طلب کیا جائے ۔ بصورت دیگر عدم استحکام کی صورتحال حاوی ہوجائے گی ۔ فیصلہ کی مدافعت کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر نے کہا کہ مرکزی کابینہ نے صدر جمہوریہ کو سفارش کی اور صدر نے سیاسی سوجھ بوجھ کی بناء پر صدر راج کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کے باعث کانگریس کے پاس شکایت کی کوئی وجہ نہیں ہے اور صرف سیاسی مسئلہ بنانے کی کوشش میں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT