Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / اروند کجریوال کے دفتر پر دھاوا غیر جمہوری

اروند کجریوال کے دفتر پر دھاوا غیر جمہوری

غضنفر علی خان
چیف منسٹردہلی اروند کجریوال کے دفتر پر سی بی آئی کا دھاوا اور فائیلس کی تلاشی ان میں سے بعض اہم دستاویزات کی ضبطی کسی بھی طرح سے ایک جمہوری حکومت کے شایان شان نہیں ہے ۔ ہم ایک وضاحتی مملکت میں رہتے ہیں جہاں ریاستی حکومتوں کے اپنے اختیارات ہیں۔ مرکزی حکومت ریاستوں کو متحد رہنے کے لئے مشیر کا کام انجام دیتی ہے۔ اروند کجریوال نے دہلی ریاست کے اسمبلی انتخابات جس شاندار انداز میں جیتے تھے اور جس شرمناک ہزیمت کا بی جے پی کو شکار بنایا تھا وہ ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ یہ چناؤ بی جے پی نے ایسے وقت ہارا تھا جبکہ سارے ہندوستان میں بقول وزیراعظم نریندر مودی ان کا طوطی بول رہاتھا ۔ بی جے پی نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں میں سے 67 پر کجریوال کی عام آدمی پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں گے اور بی جے پی کا مکمل صفایا ہوجائے گا ۔

اس شکست اور ہزیمت نے بشمول وزیراعظم مودی پارٹی کے اور لیڈروں میں بھی انتقامی جذبہ پیدا کردیا ہے جس کا بے ڈھنگے پن سے پارٹی اظہار بھی کر رہی ہے ۔ اچانک بی جے پی حکومت کو یہ احساس کیوں ہوگیا کہ دہلی کے منتخبہ چیف منسٹر اروند کجریوال کے پرنسپال سکریٹری بدعنوانیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ اگر بالفرض محال پرنسپال سکریٹری ذکا کار ہیں تو ان کے دفتر پر دھاوے پہلے چیف منسٹر کجریوال کواس کی اطلاع دینی چاہئے تھی بلکہ باضابطہ طور پر چیف منسٹر سے اجازت حاصل کرنی چاہئے تھی ۔ جس انداز میں کجریوال کے دفتر پر سی بی آئی نے دھاوا کیا اور جس طرح سے مختلف فائیلس کو اپنی گرفت میں لے لیا ، اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت کے پاس کسی ریاست کی حکومت کے لئے کوئی احترام نہیں ہے ۔ نہ اس کو جمہوری ، وفاقی اقدار کا کوئی پاس و لحاظ ہے۔ ایک معمولی شہری کی طرح چیف منسٹر دہلی کے دفتر پر دھاوا کرنا آئین کی شریفانہ قدروں  کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا غیر اخلاقی عمل مودی حکومت نے کیوں کیا ۔ آخر وزیراعظم مودی اور ان کی حکومت کو کجریوال حکومت سے کیا دشمنی ہے ، یہ کونسی عدالت ہے ۔

دہلی حکومت دہلی کے عوام نے منتخب کی ہے  اور ان چناؤ میں بی جے پی کے نام و نشان کو عام آدمی پارٹی نے خاک میں ملا دیا تھا ۔ اب مودی حکومت ہر بات کو بہانہ بناکر دہلی حکومت کو تنگ کر رہی ہے لیکن کجریوال سرکار کو ایسی بندر بھپکیوں سے ڈرایا نہیں جاسکتا ۔ اگر ایسی کوششیں کی تھیں تو ملک کی تمام جمہوری طاقتیں اور جماعتیں مرکز کے اس طرز عمل کو برداشت نہیں کریں گی ۔ ایسی ہر حرکت ریاستی حکومتوں اور مرکزی سرکار کے درمیان فاصلے بڑھائے گی۔ ہمیں اعتماد کا فقدان بڑھتا جائے گا اور مرکز اور ریاستوں کے درمیان تصادم کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ ایسی امکانی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری مودی حکومت اور ان کیمٹھی بھر بااعتماد پارٹی لیڈروں پر عائد ہوگی۔ نقصان ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو ہوگا جبکہ ہمارے بزرگوں نے بڑی محنت اور لگن سے بنایا ہے۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں مرکز نے ریاستی حکومتوں کے ساتھ اہانت آمیز سلوک کیا جس کی تازہ مثال کیرالا میں منعقدہ ایک تقریب سے ملتی ہے جس میں وزیراعظم نے خاص طور پر شرکت کی تھی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کیرالا میں بھی وہاں کے چیف منسٹر مسٹر چنڈالا کو مدعو نہیں کیا گیا تھا ۔ کیرالا حکومت کا یہ کہنا ہے کہ ابتداء میں چیف منسٹر کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بعد میں تقریب کے میزبان نے چیف منسٹر کو مدعو نہ کرنے کا اصرار کیا اور مرکزی حکومت نے ریاستی چیف منسٹر کو دعوت نامہ روانہ نہیں کیا ۔ اروند کجریوال نے انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کو تنقید کا شکار بنایا ہے ۔ اس ناراضگی کے دوران انہوںنے وزیراعظم کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے ۔ کجریوال نے کہا کہ ’’وزیراعظم مودی بزدل ہیں اور نفسیاتی بیمار ہیں‘‘ ۔

اس پر بحث چل رہی ہے تو کجریوال نے وزارت اعظمی کی پاسداری کو تک ملحوظ نہیں رکھا۔ بی جے پی نے کجریوال سے اپنے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ شروع کردیا ۔ کجریوال نے اپنی بات کیلئے مشروط معافی کا پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم نے ابھی تک جو کچھ کہا ہے کہ اس کیلئے وہ (مودی) معافی مانگتے ہیں تو چیف منسٹر دہلی بھی معافی مانگ لیں گے ۔ کجریوال نے کہا کہ اگر انہوں نے غلط زبان استعمال کی ہے تو وہ برے انسان کہلائیں گے لیکن وزیراعظم مودی تو اپنے کرموں کیلئے گناہ گار ہیں۔ انہیںدوسروں پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ہماری جمہوریت کسی اخلاقی انحطاط کا شکار ہوگئی ۔ یہ کیسی زبان استعمال کی جارہی ہے ۔ وزیراعظم کو بزدل اور نفسیاتی مریض کہنا درست نہیں۔ سی بی آئی کے ذریعہ ایک مقبول عام چیف منسٹر کے دفتر پر بغیر علم و اطلاع دھاوا کرنا بھی درست نہیں ہے ۔ ہر عمل کا ردعمل ہونا ضروری ہے ۔ کجریوال انتہائی صاف گو انسان ہیں ۔ انہیں ذرائع ابلاغout spoken  قرار دیتے ہیں اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ وہ بہت سخت الفاظ استعمال کردیتے ہیں۔ اس واقعہ میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سیاست والوں نے ایسی زبان کس سے سیکھی۔ غیر محتاط الفاظ استعمال کرنے کی روش کس نے شروع  کی ہے ۔ مودی جی کو کجریوال سے شکایت کرنے کا کوئی حق اس لئے نہیں ہے کہ خود انہوں نے بہار کے حالیہ چناؤ میں اپنی 40 ریالیوں میں زبان پر قابو نہیں رکھا ۔ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے بیرون ممالک کے دوروں کے موقع پر انہوں نے سابقہ کانگریس حکومتوں پر لعن طعن کرتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتحال کیلئے کانگریس کو  ذمہ دار قرار دیا جو کسی طرح بھی صحیح نہیں تھا ۔ صرف ووٹ بٹورنے کیلئے انہوں نے بھی منتخبہ حکومتوں کو لتھاڑا۔ کانگریس کے وہ لیڈر جنہوں نے ملک کیلئے خدمات انجام دیں، انہیں سر بازار رسوا کیا ۔ ان کا یہ عمل کئی مرتبہ دہرایا گیا ۔ دہلی اسمبلی کے انتخابات میں بھی کجریوال کی عام آدمی پارٹی کے خلاف پروپگنڈہ کرتے ہوئے انتہائی اہانت آمیز باتیں کہی گئیں۔ بہار اسمبلی چناؤ میں لالو پرساد یادو اور نریش کمار کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ مودی کے علاوہ پارٹی کے دیگر لیڈر خاص طور پر پا رٹی کے آل انڈیا صدر امیت شاہ نے تو تمام حدیں پار کرلیں۔ پارٹی کے ذمہ دار اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لیڈروں ، ارکن اسمبلی اور پارلیمان نے 2014 ء کے انتخابات کی کامیابی کے نشہ میں چیف منسٹر دہلی سے زیادہ غیر دستوری زبان کا استعمال کیا ۔ خود نریندر مودی نے گجرات فسادات کے سلسلہ میں ’’مسلمانوں کو کتے کا بچہ‘‘ قرار دیا تھا ۔

اگر ہے کہ یہ بات راست طور پر انہوں نے نہیں کہی تھی لیکن بالواسطہ طور پر ان کا یہی مقصد تھا ۔ آج کی سیاست میں اخلاقی حدیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔ شیوسینا ملک کے بڑے اداکاروں کو جو مسلمان ہیں’’سانپ‘‘ کہتے ہیں، اس مجموعی اخلاقی گراوٹ میں کجریوال کی ابتر زبان پر اعترض کرنا اوران سے معافی کا مطالبہ کرنا کسی لحاظ سے مناسب نہیں ہے ۔ اگر معافی مانگنی ہے تو پھر ملک کے کئی سیاست دانوں بشمول وزیراعظم مودی کو معافی مانگنے کی ابتداء کرتے ہوئے ایک مثال قائم کرنی چاہئے ۔ ہرگز یہ درست نہیں کہ کجریوال نے وزیراعظم کے خلاف جو الفاظ استعمال کئے وہ صحیح ہے۔ غلطی کبھی نظیر نہیں بن سکتی ، جس کسی سے بھی غلطی ہو ان کا انحراف کرنا ضرری ہوتا ہیں۔ اس وقت تو کجریوال ہی نہیں بلکہ کئی مشہور سیاست دانوں کو اپنے طرز عمل پر غور و فکر کرتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہماری پارلیمانی جمہوریت خیال کے اظہار میں کیوں اپنی حدیں پارکر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں اور خاص طورپر پارلیمان میں ابھی بھی کچھ ایسے لیڈر اور نمائندے موجود ہیں جو شریفانہ اقدار کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے ہیں جو کبھی زبان و بیان کے معاملے میں حد پار نہیں کرتے ہو تو یہ ہے کہ ان میں سنجیدہ مزاج چند ارکان اور لیڈروں کا دم غنیمت ہے۔ ان ہی کی وجہ سے ہماری جمہوریت کی آبرو برقرار ہے، ورنہ لیڈروں کی اکثریت نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے کہ ہماری نظام حکومت پر تنقید نہ کی جائے ۔ کجریوال اور مودی جی ہی کا معاملہ نہیں ہے ۔ یہ تو دونوں کے درمیان ایک ناخوشگوار واقعہ ہے لیکن اس کے اسباب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیوں باہمی احترام اور رواداری ہماری سیاست اور عام آدمی کی زندگی سے رخصت ہورہی ہے ۔ اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جن کی وجہ سے یہ خسارہ ہورہا ہے ۔ دہلی طبقہ اس گراں بار زیاں سے قطعی بے تعلق ہے ۔ اگر اس صورتحال پر غور و خوض نہیں کیا گیا تو ہندوستان میں جمہوریت کا اخلاقی نظام ہی کمزور پڑ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT