Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’ارکان کو سوال کرنے کا حق ہے ، ’آمرانہ جمہوریت ‘نہیں چاہئے‘‘

’’ارکان کو سوال کرنے کا حق ہے ، ’آمرانہ جمہوریت ‘نہیں چاہئے‘‘

سوالات کا جواب دینا یا نہیں دینا وزیر کا اختیار
حیدرآباد۔ 18 مارچ (سیاست نیوز) ’’آمرانہ جمہوریت‘‘ کے مسئلہ پر مجلس کے قائد اکبرالدین اویسی اور ریاستی وزیر کے ٹی آر کے درمیان لفظی تکرار ہوگئی جبکہ کے ٹی آر نے ’’آمرانہ جمہوریت‘‘ کے الفاظ سے دستبرداری اختیار کرنے کا اکبر اویسی کو مشورہ دیا تھا۔ اکبرالدین اویسی نے حکومت پر ’’آمرانہ جمہوریت‘‘ کا رویہ اپنانے کا الزام عائد کرنے کی تردید کی۔ اسپیکر اسمبلی مدھوسدن چاری نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب وہی نکلتا ہے ، ہم بھی ہندی جانتے ہیں۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران گریٹر حیدرآباد کے حدود میں عوامی ٹرانسپورٹ نظام کے سوال پر مجلس اور حکمران ٹی آر ایس ارکان کے درمیان بحث و تکرار ہوگئی۔ قائد مجلس مقننہ اکبرالدین اویسی نے گریٹر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں آر ٹی سی بسوں کی تعداد ، ایمپلائیز کی تعداد، خاتون عملے کی تعداد، بس شیلٹرس ،اے سی اور عام بسوں کے بارے میں مختلف سوالات کئے جس پر اسپیکر اسمبلی مدھوسدن چاری نے مجلس کے قائد کو روکتے ہوئے کہا کہ یہ وقفہ سوالات ہے۔ مختصر سوالات کریں تاکہ متعلقہ وزیر کو جواب دینے میں آسانی ہو جس پر اکبرالدین اویسی نے کہا کہ وقفہ سوالات میں ایسے ہی سوال کئے جاتے ہیں اور میں سوالات کروں گا۔ جواب دینا یا نہ دینا حکومت پر منحصر ہے۔ اگر سوالات کے اطمینان بخش جواب نہیں ملے تو وہ بطورِ احتجاج واک آؤٹ کریں گے، مگر سوالات تو کریں گے۔ اسمبلی میں آمرانہ جمہوریت نہیں چلے گی۔ اسمبلی میں نئی روایات لائی جارہی ہیں۔ پہلے وقفہ سوالات شروع ہونے سے قبل ہمیں تمام سوالات کے جواب مل جایا کرتے تھے۔ اب ہر سوال پر اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ کونسا سوال اول پوزیشن کا ہے، یہ سب کہا جارہا ہے۔ وہ اس سے واقف نہیں ہے۔ ایسا ہے تو ہمیں اسمبلی نہیں بلایا جانا چاہئے۔ اکبرالدین اویسی کے جارحانہ ریمارکس پر حکمراں جماعت کے ارکان بھی اپنی نشستوں سے ریمارکس کررہے تھے۔ وزیر کا جواب حیرت کرنے والا ہے، اس سے حکومت کی سنجیدگی کا اظہار ہوتی ہے۔ ان ریمارکس پر ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اکبرالدین اویسی نے ’’آمرانہ جمہوریت‘‘ کا جو لفظ استعمال کیا ہے، اس کے استعمال کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ اسمبلی کی کارروائی جمہوری انداز میں چلائی جارہی ہے۔ اسپیکر اسمبلی ، آپ کو اپنی بات رکھنے کی مکمل آزادی دے رہے ہیں، لیکن اسپیکر اسمبلی پر سوالیہ نشان لگانا درست نہیں ہے۔ سوال کرنے کے بجائے آپ نے تحقیقات شروع کردی ہے۔ آپ چیئر کو ڈِکٹیٹ نہیں کرسکتے۔ فوری آپ ’’آمرانہ جمہوریت‘‘ کے لفظ سے دستبردار ہوجائیں۔ اکبرالدین اویسی نے حکومت پر ڈِکٹیٹرشپ کرنے کا الزام عائد کرنے کی تردید کی تب اسپیکر اسمبلی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی ہندی جانتے ہیں، اس کا مطلب یہی نکلتا ہے۔
کے ٹی آر نے کہا کہ یہ بجٹ سیشن ہے، آپ اپنے سوالات ڈیمانڈ سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔ مجلس کے رکن اسمبلی معظم خاں نے جب پرانے شہر سے سوتیلا سلوک کرنے کا الزام عائد کیا تو ٹی آر ایس کے ارکان نے پھر ایک بار فقرے کسے تو اکبرالدین اویسی نے اپنی نشست سے اُٹھ کر ٹی آر ایس کے ارکان سے کہا :’’تمہیں غصہ کیوں آرہا ہے، صبر کرو، کیا یہ سوالات اہم نہیں ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT