Tuesday , December 18 2018

اساتذہ کی خدمات میں معقولیت پسندی تبادلوں یا اسکولس کو بند کرنا نہیں

اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر تعلیم جگدیش ریڈی کی وضاحت

اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر تعلیم جگدیش ریڈی کی وضاحت
حیدرآباد۔/14نومبر، ( سیاست نیوز) وزیر تعلیم جگدیش ریڈی نے ایوان کو یقین دلایا کہ تلنگانہ کے سرکاری اردو مدارس میں معیار تعلیم بہتر بنانے اور اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کی جانب سے سرکاری مدارس کی زبوں حالی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بارے میں توجہ دلائے جانے پر وزیر تعلیم نے کہا کہ اساتذہ کی خدمات میں معقولیت پسندی ( ریشنلائزیشن ) کا فیصلہ معیار تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد اساتذہ کے تبادلے یا پھر اسکولوں کو بند کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جی او ایم ایس 6مورخہ 27ستمبر کے ذریعہ اساتذہ کی خدمات کو معقول بنانے کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط جاری کئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جن سرکاری مدارس میں اساتذہ کی تعداد طلبہ کے تناسب سے زیادہ ہے وہاں کے اساتذہ کو ایسے مدارس منتقل کیا جائے گا جہاں اساتذہ کی تعداد کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی سرکاری اسکول کو بند کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتی۔ جگدیش ریڈی نے کہا کہ سرکاری مدارس نے طلبہ کی تعداد میں اضافہ اور محنت مزدوری کرنے والے بچوں کو مدارس میں شریک کرنے کیلئے باقاعدہ مہم شروع کی جارہی ہے۔ انہوں نے تمام جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ہر بچہ کو تعلیم کی فراہمی اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کریں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سرکاری مدارس میں تعلیمی معیار خانگی مدارس سے کم ہے جس کے سبب غریب خاندان بھی خانگی اسکولوں کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ بنیادی سہولتوں کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ اگسٹ تک تمام سرکاری مدارس میں بیت الخلاؤں کی تعمیر اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کا منصوبہ ہے۔ حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز تک یہ کام مکمل کرلیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی خدمات میں معقولیت سے متعلق حکومت نے فیصلہ 40ٹیچرس یونینوں کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مدارس ایسے ہیں جہاں طلبہ کی تعداد صرف 20ہے اور اساتذہ 10ہیں جبکہ بعض مدارس میں 200سے زائد طلبہ کیلئے صرف 5اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے بہتر استعمال اور ہر بچہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے مقصد سے ریشنلائزیشن کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون حق تعلیم کے تحت طلبہ اور اساتذہ کا تناسب 1:30 ہونا چاہیئے۔ حکومت سرکاری مدارس میں اسی تناسب کے مطابق اساتذہ کی تعیناتی کے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اساتذہ کی تنخواہیں ماہانہ 40تا50ہزار ہیں جبکہ خانگی اسکولوں میں اس قدر تنخواہ نہیں دی جاتی۔ حکومت کسی بھی اسکول کو بند کرنے یا اساتذہ کے تبادلوںکا منصوبہ نہیں رکھتی۔ جگدیش ریڈی نے کہا کہ انگلش میڈیم تعلیم کے رجحان کے سبب سرکاری اسکولوں پر اثر پڑا ہے اور غریب خاندان بھی انگلش میڈیم کی طرف رجوع ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری مدارس میں انگریزی تعلیم کو متعاف کرنے اور تین سالہ بچوں کو داخلہ کی اجازت دینے سے متعلق تجاویز حکومت کے زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بی جے پی ارکان ڈاکٹر لکشمن، کشن ریڈی، این وی ایس ایس پربھاکر اور سی ایچ رامچندرا ریڈی نے ضمنی سوالات کرتے ہوئے سرکاری مدارس کی زبوں حالی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 450 سے زائد سرکاری مدارس بند ہوچکے ہیں۔ کشن ریڈی نے بتایا کہ ان کے حلقہ انتخاب میں سرکاری مدارس کے معیار میں بہتری کے باعث عوام داخلوں میں دلچسپی دکھارہے ہیں۔ کانگریس کی ڈی کے ارونا کے سوال پر وزیر تعلیم نے کہا کہ ریاست کے 7.2 فیصد اسکولوں میں لڑکیوں کیلئے علحدہ بیت الخلاء نہیں ہیں۔ 28982 سرکاری اسکولوں میں سے 2122 اسکولوں میں لڑکیوں کیلئے بیت الخلاء کی سہولت نہیں ہے۔ سروا سکھشا ابھیان کے فنڈ کے ذریعہ 5اضلاع کے 1356اسکولوں میں 1520 بیت الخلاء تعمیر کئے گئے مابقی اسکولوں میں مرکزی حکومت کے سوچھ ودیالیہ پروگرام کے تحت بیت الخلاء تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT