Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اساتذہ کے تقررات کے لیے ایک ہی ٹسٹ منعقد کرنے کا فیصلہ

اساتذہ کے تقررات کے لیے ایک ہی ٹسٹ منعقد کرنے کا فیصلہ

مضمون واری علحدہ امتحان ، جی چکراپانی چیرمین تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کا اجلاس سے خطاب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے ایک ہی ٹسٹ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریزیڈنشیل جائیدادوں کی طرح پریلمس اور مینس سسٹم کے بجائے ڈی ایس سی کی طرز پر ہر سبجکٹ کے لیے ایک ٹسٹ کا انعقاد کرانے سے اتفاق کیا گیا ہے ۔ صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن پروفیسر جی چکرا پانی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں ٹیچرس کے تقررات کا جائزہ لینے کے بعد قدیم طریقے سے ہی ٹیچرس کے تقررات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ٹیٹ میں اہل ثابت ہونے والے امیدواروں کو 20 فیصد ویسٹیج بھی دیا جائے گا ۔ فی الحال اسکولس میں دی جانے والی تعلیم کی بنیاد پر مضمون واری نصاب تیار کیا جائے گا ۔ اس کی ذمہ داری ( ایس سی ای آر ٹی ) کو سونپ دی گئی ہے ۔ محکمہ تعلیم نے غیر منقسم اضلاع کے اساس پر ٹیچرس کے مخلوعہ جائیدادوں کی فہرست تیار کی تھی ۔ تاہم اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد 31 اضلاع کے تحت تقررات کے عمل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ 8792 ٹیچرس جائیدادوں پر تقررات کرنے کی محکمہ فینانس نے منظوری دی ہے ۔ تمام اضلاع میں ٹیچرس کے تقررات کو یقینی بنانے کے لیے مزید 2500 جائیدادوں پر تقررات کرنے کا بھی سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ جن اضلاع میں مخلوعہ جائیدادیں نہیں ہیں ان اضلاع میں 2018 تک ریٹائرڈ ہونے والے ٹیچرس کے جائیدادوں پر تقررات کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے ۔ ان جائیدادوں کو موجودہ نوٹیفیکیشن میں شامل کیا جائے گا یا علحدہ سپلیمنٹری نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا ۔ اس کا آئندہ چار تا پانچ دن میں پتہ چل جائیگا ۔ جملہ 8792 کے بجائے 11500 ٹیچرس کی جائیدادوں پر تقررات کرنے پر غور کیا جائے گا ۔ محکمہ فینانس کی منظوری کے بعد ہی تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن قدم آگے بڑھائے گا ۔ محکمہ تعلیم نے نئے اضلاع میں ٹیچرس تقررات کے لیے نیا روسٹر سسٹم تیار کرنے میں مصروف ہے ۔ غیر منقسم اضلاع کا روسٹر سسٹم نئے اضلاع کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا ۔ اس لیے نیا روسٹر سسٹم تیار کیا جارہا ہے ۔ تاہم ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے لیے مختص جائیدادوں کے لیے قدیم روسٹر سسٹم پر ہی عمل ہوگا ۔ 23 اکٹوبر سے قبل نوٹیفیکیشن جاری ہونے کا قوی امکان ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT