Tuesday , December 18 2018

اسامہ ایبٹ آباد سے نقل مکانی کا خواہاں تھا

واشنگٹن۔21مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) اسامہ بن لادن پاکستان کے ایبٹ آباد کے ایک الگ تھلگ مکان میں زندگی گزارتے ہوئے بیزار ہوچکا تھا اور دوسرے مقام پر منتقل ہونا چاہتا تھا ۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب ایبٹ آباد میں امریکی افواج نے اسامہ کے مکان پر حملہ کر کے اسے ہلاک کردیا تھا جب کہ اسامہ کچھ ماہ قبل ہی وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا ۔ اسامہ بن لادن ک

واشنگٹن۔21مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) اسامہ بن لادن پاکستان کے ایبٹ آباد کے ایک الگ تھلگ مکان میں زندگی گزارتے ہوئے بیزار ہوچکا تھا اور دوسرے مقام پر منتقل ہونا چاہتا تھا ۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب ایبٹ آباد میں امریکی افواج نے اسامہ کے مکان پر حملہ کر کے اسے ہلاک کردیا تھا جب کہ اسامہ کچھ ماہ قبل ہی وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا ۔ اسامہ بن لادن کے ہاتھوں تحریر کئے گئے ایک مکتوب کے مطالعہ کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے جس میں اس نے تحریر کیا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایبٹ آباد کے مکان سے نکل کر کسی اور مقام کو تلاش کیا جائے ۔ تحریر میں اسامہ کی بے بسی کا احساس ہوتا ہے جس میں اس نے اپنی مایوسی کا تذکرہ کیا ہے ۔ پاکستان کے شہری دو بھائیوں کو اسامہ نے اپنے مکتوب کے دریعہ مخاطب کیاہے ۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے باہر کی دنیا کا رابطہ اسامہ سے قائم کر رکھا تھا لیکن اسامہ چونکہ خوفزدہ تھا اس لئے وہ مایوس بھی ہوچکا تھا اور نقل مکانی کا خواہاں تھا ۔ تاہم اندرون چھ ماہ امریکی بحریہ SEAL ‘ ایبٹ آباد کے مکان پر ہلہ بول دیا تھا اور اسامہ کے علاوہ اس کے پاکستانی نگران کار کو بھی ہلاک کردیا تھا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اب تک تقریباً نصف دنیا کو یہ یقین نہیں ہے کہ اس کی نعش سمندر سرو کی گئی ہے ۔ بعض گوشوں سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسامہ کو ہلاک ہی نہیں کیا گیا ۔ بہرحال جتنے منہ اتنی باتیں ہیں ۔ اسامہ بن لادن کو امریکہ نے افغانستان کے کوہستانی علاقوں میں ڈھونڈ ڈھو۔ڈ کر ہار مان لی تھی اور ایک ایسے وقت جب یہ باور کرلیا گیا تھا کہ اسامہ اب شاید امریکہ کے ہاتھ کبھی نہیں آئے گا ‘ ایبٹ آباد میں امریکی بحریہ کی کارروائی اور اسامہ کی بغیرکسی مزاحمت کے ہلاک ہوجانے کی خبروں نے پوری دنیا کو چونکا دیا تھا جبکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں خوشیاں منائی گئی تھیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسامہ ایبٹ آباد سے اپنی خواہش کے مطابق نکلنے میں کامیاب ہوجاتا اور کسی اور مقام جیسے سعودی عرب میں پناہ گزین ہوجاتا تو کیا امریکہ وہاں بھی دھاوا کرنے کی جرات کرسکتا تھا جو جرات اس نے پاکستان میں دکھائی تھی ؟! ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT