Saturday , December 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / استاذ الفقہاء علامہ أبوالوفاء افغانی علیہ الرحمۃ

استاذ الفقہاء علامہ أبوالوفاء افغانی علیہ الرحمۃ

ابوزہیرنظامی

ولادت: ۱۰ذی الحجۃ الحرام ۱۳۱۰ھ     وصال: ۱۳رجب المرجب ۱۳۹۵ھ
اس کائناتِ رنگ وبومیںسب سے زیادہ لطیف رشتہ حسن ومحبت کارشتہ ہے لیکن جب بندے کی محبت کارشتہ اس حسن سے قائم ہوتاہے جسے حسنِ ازل کہتے ہیںاوراس جمال سے ہوجاتاہے جولازوال ہے توپھراس رشتے سے بڑھ کرلطیف،اس سے زیا دہ شیریںاوراس سے زیادہ نشاط انگیزکوئی دوسرارشتہ نہیںہوتا۔اہل دل کی اصطلاح میں اسے عشقِ حقیقی کہتے ہیں۔اسی مقدس رشتہ کواستوارکرنے آج سے ایک سوپینتالیس(۱۴۵)سال قبل سرزمین دکن پرعارف وقت عالم زماںشیخ الاسلام علامہ ابوالبرکات محمدأنواراللہ فاروقی فضیلت جنگ قدس سرہ العزیزنے ایک دانش گاہ علم وفن ایک میخانہ معرفت کی داغ بیل ڈالی جس کانام ’’جامعہ نظامیہ‘‘ حیدرآبادہے۔اسی جامعہ نظامیہ کے ایک گل فقیہ الامۃ،محدث جلیل،عالم کبیر،محقق کبیر،حضرت العلامہ حافظ وقاری سیدمحمودشاہ بن مبارک شاہ المعروف بہ علامہ ابوالوفاالافغانی علیہ الرحمۃکی ذات عالی مرتبت ہے جن کے تبحر،تفحص،توکل کو فصحاء عصراوربلغاء دہرخراج فکرونظرپیش کرتے ہوئے کہتے ہیں،،علامہ ایک بین الاقوامی شخصیت کے مالک تھے اور سرزمین دکن میں اٰیت من اٰیات اﷲ تھے ، کردار میں گفتارمیں اللہ تعالی کی برھان تھے۔بلندپایہ محدث وفقیہ بے بدل حضرت ابوالوفاء الافغانی ،حنفی،قادری،۱۰ ذی الحجہ ۱۳۱۰ ہجری کو افغانستان کے مشہورشہرقندھارمیں پیداہوئے ۔ اس کے کچھ عرصہ بعدجامعہ نظامیہ تشریف لائے اور بانی جامعہ سے درس تلمذکا شرف حاصل کئے ۔حضرت ابوالوفاء علیہ الرحمۃ جامعہ نظامیہ میں بے تاج بادشاہ تھے،کسی وقت کوئی عہدہ قبول نہیںفرمایا مگرآپ کے اخلاص،علمی اورعملی دبدبہ اورصحیح فکراور رہبری کی وجہ سے نہ صرف علماء جامعہ نظامیہ بلکہ ارباب اقتداربھی آپ کی رائے کوٹال نہیںسکتے تھے۔ حضرت ابوالوفاء علیہ الرحمۃ بڑے مہمان نوازتھے۔بے شمارعلماء تحقیقاتی اورعلمی کاموں اور نادر مخطوطات سے استفادہ کرنے کے لئے حیدرآبادتشریف لاتے توآپ کے پاس ہفتوںمہمان رہتے۔ بہرحال حضرت ابوالوفاء علیہ الرحمۃکی مبارک زندگی بڑی منـضبط اورباقاعدہ تھی ہرکام کاوقت مقررتھا ۔ نما ز تہجدکبھی ناغہ نہ ہوتی ،قرآن کی تلاوت دن اور رات میں الگ الگ مقررہ تھی ۔حضرت ابوالوفاء علیہ الرحمۃایک جلیل القدرعالم باعمل تھے۔ علوم عقلیہ ونقلیہ بالخصوص حدیث نبوی، فقہ حنفی پرگہری نظرتھی ۔فن قرأت،نظم قرآن،رسم قرآن اور تاریخ اسلام کاوسیع مطالعہ تھا۔مذاہب اربعہ کے اصول وفروع میں یدطولی رکھتے تھے ۔اسی سبب سے آپ کودکن میں فقہ حنفی کاامام ماناجاتاتھا۔
آخری عمر میں بیماریوںنے شدت اختیارکی اورخصوصاضعف بڑھتاگیاجگرمیںپانی جمع ہوگیاپانی نکالاگیا اس کے بعدعالم سکرات شروع ہوگیا،غشی کے عالم یوںفرماتے کہ ’’میںنے ایک نیاگھربنالیاہے‘‘ ۔ حضرت ابوالوفاء علیہ الرحمۃ کاوصال تیرہ ۱۳ رجب المرجب ۱۳۹۵ھ روزچہارشنبہ کوہواہے روح مبارک جب پروازہوئی تولبوںپرمسکراہٹ تھی اورتدفین تک قائم رہی۔  (اناﷲ وانا الیہ راجعو ن)  آپ کا مزار پُر انوار نقشبندی چمن مصری گنج حیدرآبادمیںمرجع وابستگان ہے۔
مولوی محمد تمیم نظامی
حضرت فقیہہ الاسلام علیہ الرحمہ
ولادت :  ۱۰  رمضان المبارک ۱۳۶۰ھ    وصال :  ۲۳  جمادی الثانی ۱۴۳۱ ھ
فقیہہ الاسلام حضرت علامہ حافظ مفتی ابراہیم خلیل الہاشمی علیہ الرحمہ کی پیدائش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی، جو علم ومعرفت، زہد و تقویٰ اور للّٰہیت میں یگانہ روزگار مانا جاتا ہے۔ آپ کے والد ماجد کا نام حضرت علامہ مفتی مخدوم بیگ علیہ الرحمہ ہے۔ فقیہ الاسلام کی ابتدائی تعلیم ثانی ابوحنیفہ حضرت علامہ ابوالوفاافغانی رحمۃ اﷲ علیہ کے پاس تربیت خاص اسلامی اقدار پر ہوئی مختلف علوم و فنون کی تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے جامعہ نظامیہ میں شریک کیا گیا، بعد فراغت کامل جامعہ نظامیہ میں ہی مختلف عہدوں (شیخ التفسیر اور مفتیٔ دارالافتاء جامعہ نظامیہ) پر فائز رہتے ہوئے تقریباً نصف صدی تک تدریسی خدمت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے شیخ الفقہ کی حیثیت سے آخر تک خدمت انجام دیتے رہے۔
فقیہہ الاسلام وقت اور شریعت مطہرہ کے بڑے پابند تھے۔ آپ کے شب و روز درس و تدریس کے لئے مختص تھے۔ عصر تا عشاء مطالعۂ کتب میں مصروف رہتے۔ مختلف فنون علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ، علم تاریخ اور علم ادب کی کتب میں نہ صرف مہارت تھی بلکہ دوران درس بڑی ہی جامعیت کے ساتھ شاگردوں کے ذہن نشین کردیتے۔ دشوار کن مسائل و مراحل کو بڑی آسانی کے ساتھ حل کردیتے۔ مطالعۂ کتب آپکی فطرت ثانیہ تھی۔
فقیہہ الاسلام ایک مربی، مشفق استاذ رہے، نہ صرف حق گو تھے بلکہ حق گوئی کو پسند کرنے والے بھی تھے، ایک سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وسلم تھے، فکرسلیم، صحیح عقیدہ اور عالم باعمل کے ساتھ ساتھ علوم ظاہری اور باطنی میں ماہر تھے۔ فقیہ الاسلام کو عربی، اردو اور فارسی زبان اور بہترین خطابت پر عبور تھا۔ اثناء خطبہ نصیحت آمیز ، بصیرت افروز واقعات سننے کے بعد لوگوں کے دلوں میں عمل کا جذبہ پیدا ہوجاتا تھا۔
فقیہہ الاسلام کا وصال بروز پیر بوقت ظہر ہوا۔ ( اناﷲ وانا الیہ راجعون) جیسے فقیہہ الاسلام اپنی حیات میں وقت کے پابند تھے بالکل ویسے ہی آپ علیہ الرحمہ کی نمازجنازہ وقت مقررہ پر یعنی بروز منگل صبح ۸ بجے ادا کی گئی۔ تدفین احاطۂ مصری گنج میں ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT