Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / استحکام جمہوریت اور حقائق کو پیش کرنے میں ذرائع ابلاغ کا اہم کردار

استحکام جمہوریت اور حقائق کو پیش کرنے میں ذرائع ابلاغ کا اہم کردار

بدعنوانیوں پر منفی اثرات ، امریکی قونصل خانہ حیدرآباد میں مذاکرہ ، ششانک بنگالی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔24اکٹوبر(سیاست نیوز) ذرائع ابلاغ ادارے جمہوریت کے استحکام اور عوام کو حقائق سے واقف کروانے میں کلیدی کردار ادا کریں۔ صحافی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے انکشاف کے ذریعہ جمہوری نظام کو مستحکم بناتے ہیں لیکن وہ ہی اگر بدعنوانیوں میں و بے قاعدگیوں میں ملوث ہونے لگ جائیں تو اس کے منفی اثرات جمہوریت پر مرتب ہوتے ہیں۔ امریکی قونصل خانہ حیدرآباد کی جانب سے منعقدہ مذاکرہ کے دوران مذاکرے میں شامل سرکردہ صحافیوں نے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ و صحافتی اداروں کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ امریکی و ہندستانی انتخابات میں ذرائع ابلاغ اداروں کا استعمال عام بات بن چکی ہے بلکہ انتخابات میں نہ صرف اپنی تشہیر کیلئے ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا جانے لگا ہے اس سے بھی زیادہ حزب مخالف کی کردار کشی کیلئے استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔مسٹر ششانک بنگالی ساؤتھ ایشیاء کرسپانڈنٹ ایل اے ٹائمس نے اس مذاکرے سے خطاب کے دوران کہا کہ ہندستان اور امریکہ میں انتخابات کے دوران ذرائع ابلاغ ادارے کسی مخصوص پارٹی یا امیدوار کی حمایت کرنے لگے ہیں اور ہندستانی و امریکی میڈیا کا رول ظاہر ہونے لگا ہے جبکہ سابق میں کسی بھی ذرائع ابلاغ ادارے کی پالیسی کا اندازہ لگانا دشوار کن ہوا کرتا تھا۔ اس مذاکرے میں مسٹر ڈی امر‘ مسز للیتا ائیر‘ پروفیسر کے ناگیشور راؤ ایڈیٹر ہنس انڈیا اور مسٹر گیبریل ہانس اولیویئیرکے علاوہ دیگر موجود تھے۔ مسٹر ششانک بنگالی نے بتایا کہ انتخابات کے دوران رائے دہندوں تک رسائی کیلئے ذرائع ابلاغ کا استعمال درست ہے لیکن اس پر کروڑہا روپئے خرچ کیا جانا مناسب نہیں اور رسائی کے حصول کے بجائے مخالف کی کردار کشی کا عمل ذرائع ابلاغ اداروں کی ساکھ متاثر کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے حالات سے ذراع ابلاغ اداروں کو نکالنے کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ مسٹر ششانک بنگالی نے ہندستانی و امریکی انتخابات میں ذرائع ابلاغ کے کردار پر عوامی تشویش کو بجا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی امیدوار یا جماعت کی تائید کے بجائے حقائق کو پیش کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ مذاکرے کے دوران میڈیا کی ساکھ کو بچانے کے اقدامات پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ سوشل میڈیا کی جانب سے چلائے جانے والے پروپگنڈہ سے ذرائع ابلاغ ادارے متاثر ہونے لگے ہیں جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ترسیل کی جانے والی خبروں پر گہری نظر رکھی جانی چاہئے۔ پروفیسر ناگیشور راؤ نے بتایا کہ انتخابات کے دوران دولت خرچ کرنا کوئی نئی بحث نہیں ہے لیکن ذرائع ابلاغ پر جو دولت خرچ کی جا رہی ہے وہ تمام حدود کو تجاوز کرتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے رکن قانون ساز کونسل کے انتخاب کے تجربہ کی بنیاد پر کہا کہ انہیں بھی لاکھوں روپئے ذرائع ابلاغ پر خرچ کرنے پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ کئے جانے والے منفی یا مثبت پروپگنڈہ کا گہرائی سے جائزہ لیا جانا چاہئے۔ پروفیسر کے ناگیشور راؤ نے بتایا کہ انتخابات میں ذرائع ابلاغ کے استعمال کے لئے دولت خرچ کئے جانے کی اطلاعات غیر درست نہیں ہیں بلکہ اب تو سوشل میڈیا پر بھی دولت خرچ کی جانے لگی ہے جں کی مثال ہیلاری کلنٹن کے سوشل میڈیا کے دانشمندانہ استعمال اور ڈونالڈ ٹرمپ کی اس سلسلہ میں چوک کی اطلاعات ہیں۔ مسز للیتا ائیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں سوشل میڈیا پر کنٹرول کے اقدامات کئے جانے ضروری ہیں کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ غیر مصدقہ اطلاعات کسی کی منفی تشہیر کا سبب بننے لگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اطلاعات کو روکنے کے لئے میکانزم ضروری ہے۔ مسٹر ڈی امر نے کہا کہ امریکی انتخابات کے دوران ذرائع ابلاغ پر کروڑہا روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی انتخابات میں ایک امیدوار کی جانب سے ایک بلین ڈالر کے خرچ کی اطلاع کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اتنی دولت ایک امیدوار کی جانب سے خرچ کی جانا کہاں تک درست ہے؟ اسی دوران پروفیسر کے ناگیشور راؤ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہی نہیں ہندستان میں بھی اتنی دولت ’میڈیا منیجمنٹ‘ پر خرچ کی جارہی ہے۔ مسٹر ڈی امر نے بتایا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کارپوریٹ اداروں کے استعمال کے ذریعہ ذرائع ابلاغ کے اداروں پر دولت خرچ کیا جانا تشویشناک ہے۔مسٹر گیبریل ہانس اولیویئیر نے اس موقع پر اظہار تشکر کیا۔ مذاکرے میں موجود سرکردہ صحافیوں نے شرکا ء کی جانب سے کئے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔

TOPPOPULARRECENT