Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / استنبول کے سیاحتی مقام پر آئی ایس کا خودکش حملہ

استنبول کے سیاحتی مقام پر آئی ایس کا خودکش حملہ

ISTANBUL, JAN 12 :- Rescue teams gather at the scene after an explosion in central Istanbul, Turkey January 12, 2016. Turkish police sealed off a central Istanbul square in the historic Sultanahmet district on Tuesday after a large explosion, a Reuters witness said, and the Dogan news agency reported several people were injured in the blast. REUTERS/UNI PHORO-18R

10 سیاح بشمول 9 جرمن شہری ہلاک، 15 افراد زخمی، اردغان اور دعوت گلو کی مذمت
استنبول ۔ 12 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) سے تعلق رکھنے والے ایک خودکش بمبار نے آج صبح استنبول کے تاریخی ضلع میں خود کو بم سے اڑالیا، جس کے نتیجہ میں 10 افراد ہلاک ہوگئے۔ ان میں 9 جرمن سیاح ہیں۔ اس کے علاوہ 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ خودکش بمبار نے استنبول کے سلطان احمد ضلع میں جو سیاحوں کیلئے کافی مقبولیت رکھتا ہے، یہ حملہ کیا۔ حملہ آور 28 سالہ شام کا شہری بتایا گیا ہے۔ وزیراعظم ترکی احمد دعوت گلو نے کہا کہ حملہ آور آئی ایس کا رکن تھا اور انہوں نے دہشت گرد گروپ کے خاتمہ تک چین سے نہ بیٹھنے کا عہد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ دہشت گرد گروپ ترکی یا ساری دنیا کیلئے کوئی خطرہ نہ ہو۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ دعوت گلو نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے فون پر بات کی اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے اس بات کی توثیق کی کہ مہلوکین میں اکثریت جرمن شہریوں کی تھی۔ قبل ازیں انجیلا مرکل نے کہا تھا کہ تمام شہری جرمن سیاحتی گروپ کا حصہ تھے۔ صدر رجب طیب اردغان نے بھی اس حملہ کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ شام کے خودکش بمبار نے جو کارروائی کی ہے ، اس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ 10 مہلوکین میں حملہ آور بھی شامل ہے یا نہیں۔ انجیلا مرکل نے برلن میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حملہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ آج استنبول پر حملہ ہوا ، کل پیرس پر حملہ ہوا تھا ، تیونس پر حملے جاری ہیں اور انقرہ میں بھی اس سے پہلے حملے ہوچکے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گردی ایک بار پھر اپنا سفاکانہ اور غیر انسانی چہرہ دکھانے لگی ہے۔ آج کیا گیا خودکش دھماکہ اس پارک میں کیا گیا جو تاریخی نیلی مسجد سے تقریباً 25 میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور یہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور تک سنائی دی۔ ترکی کی دوگن خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ زخمیوں میں ناروے اور پیرو کا ایک شہری بھی شامل ہے۔ سیؤل میں وزارت خارجہ کے عہدیدار نے ٹیکسٹ میسج کے ذریعہ یہ اطلاع دی کہ جنوبی کوریا کے ایک شہری کی انگلی میں زخم آئے۔ ناروے کی وزارت خارجہ نے بھی وہاں کے ایک شہری کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی جس کا مقامی ہاسپٹل میں علاج کیا جارہا ہے ۔ نائب وزیراعظم نعمان خرطلمس نے دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی ہے ۔ جرمنی اور ڈنمارک نے اپنے شہریوں کو استنبول میں سیاحتی مقامات پر عوامی ہجوم سے دور رہنے کی ہدایت دی۔ گزشتہ سال ترکی نے آئی ایس کے خلاف امریکی زیر قیادت لڑائی میں سرگرم رول ادا کرنا شروع کیا۔ اس کے علاوہ ترکی نے امریکی طیاروں کے لئے اپنے فضائی اڈے کھول دیئے جہاں سے شام میں دہشت گروپ پر فضائی حملے کئے جارہے ہیں۔ ترکی نے دہشت گردوں کے داخلہ کو روکنے کے مقصد سے شام کے ساتھ 900 کیلو میٹر طویل سرحد پر سیکوریٹی بڑھادی تھی۔ سلطان احمد میں جہاں آج خودکش حملہ کیا گیا، استنبول کے سیاحتی مقامات کا پڑوسی علاقہ ہے، یہاں توپ قاپی محل اور سابقہ چرچ ہیگیہ صوفیہ بھی ہے، جسے اب میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT