Wednesday , December 19 2018

اسرائیلی بربریت میں 56 مساجد شہید، 7 دواخانے تباہ، 770 جاں بحق

غزہ ، 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) غزہ میں اسرائیلی خون ریز بمباری اور بربریت انگیز کارروائیوں میں اب تک 56 مساجد شہید، 7 دواخانے تباہ اور 770 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اسرائیل پر پابندی لگانے اس کی جارحیت پر لگام لگانے اور اقوام متحدہ میں اسرائیلی بربریت کی تحقیقات کرانے کیلئے رائے دہی پر زور دیا جارہا ہے۔ آج صبح سے جاری تازہ بمب

غزہ ، 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) غزہ میں اسرائیلی خون ریز بمباری اور بربریت انگیز کارروائیوں میں اب تک 56 مساجد شہید، 7 دواخانے تباہ اور 770 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اسرائیل پر پابندی لگانے اس کی جارحیت پر لگام لگانے اور اقوام متحدہ میں اسرائیلی بربریت کی تحقیقات کرانے کیلئے رائے دہی پر زور دیا جارہا ہے۔ آج صبح سے جاری تازہ بمباری میں 18 فلسطینی جاں بحق ہوگئے جس کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد 770 ہوگئی ہے۔ ہنگامی خدمات کے حکام نے بتایا کہ تازہ حملوں میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد ہلاک ہوئے جن میں دو نوجوان بھی شامل ہیں۔ ہنگامی سرویس کے ترجمان اشرف القدرا نے بتایا کہ ایک ہی خاندان کے 6 افراد کو موت کی نیند سلا دینے والے اسرائیلی سپاہیوں نے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا ہے۔ اسرائیلی فورس نے 475 مکانات کو زمین بوس کردیا، 2644 کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ 46 اسکولس تباہ ، 56 مساجد شہید کردیئے گئے اور 7 دواخانوں کو بمباری سے اڑا دیا گیا۔

اس سے بھیانک تباہی ہوئی ہے۔ اسرائیل نے اس طرح کی جارحانہ خون ریزی اور تباہ کن کارروائیوں کی پرزور مدافعت کی ہے۔ شہر کے علاقوں پر بمباری کو وہ اپنی جائز کارروائی قرار دیتا ہے اور کہہ رہا ہے کہ غزہ کے حماس حکمران ان عمارتوں میں ہتھیاروں کا ذخیرہ رکھتے ہیں اور اپنے جنگجوؤں کو پناہ دے رکھی ہے۔ غزہ میں ایسے کئی سرنگیں ہیں جو اسرائیلی علاقوں سے جا ملتے ہیں۔ دریں اثناء اقوام متحدہ اور عالمی دباؤ کو جس نے اسرائیل سے غزہ پٹی میں صبر و تحمل برتنے کی خواہش کی ہے، اسرائیل نے مسترد کردیا۔

اسرائیل نے جنوب مشرقی غزہ پر حملے مرکوز کردیئے ہیں۔ مقامی شہری بمباری کا سامنا کرنے والے علاقوں سے فرار ہورہے ہیں۔ 770 فلسطینی جن میں سے اکثریت بے گناہ شہریوں کی ہے، غزہ میں 17 روزہ اسرائیلی جارحیت کے دوران ہلاک ہوگئی۔ 32 اسرائیلی فوجی اور 2 اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ پر اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی تحقیقات کا حکم دیا۔ فلسطینی قرارداد کی تائید میں ہندوستان، برازیل، روس، چین اور جنوبی افریقہ نے ووٹ دیا اور فلسطین کی مقبوضہ سرزمین بشمول مشرقی یروشلم میں بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے کی اپیل کی۔ اسرائیل کا قریبی حلیف امریکہ 47 ممالک میں واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے تحقیقات کی تجویز مسترد کردی۔ 29 ممالک نے قرارداد کی تائید کی تھی۔ رائے دہی سے قبل اقوام متحدہ کے سفیر برائے انسانی حقوق ناوی پلے نے اسرائیل کو انتباہ دیا کہ وہ غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب نہ کرے۔

دونوں فریقین نے لڑائی کی شدت کم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ کئی بین الاقوامی ایرلائنز کی اسرائیل کو پروازیں ہنوز معطل ہیں۔ تمام یوروپی یونین کی ایرلائنز نے اسرائیل کو اپنی پروازیں منسوخ کردی ہیں جبکہ امریکی شہری ہوا بازی اتھاریٹی نے تل ابیب کو پروازوں پر عائد امتناع برخاست کردیا ہے۔ وزیر خارجہ جان کیری اسرائیلی اور فلسطینی قائدین سے ملاقات کرکے صلح کے لئے بات چیت میں مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ معتمد عمومی اقوام متحدہ بانکی مون بھی اِس علاقہ میں ہیں۔ اُن سے ملاقات کے بعد جان کیری نے کہاکہ ہم یقینا پیشرفت کررہے ہیں لیکن ہنوز بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر امریکہ بارک اوباما نے ٹیلیفون پر وزیر خارجہ امریکہ جان کیری سے ربط پیدا کرکے غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون آج اُس وقت برہم ہوگئے جبکہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام غزہ کے ایک اسکول سے راکٹ برآمد ہوئے۔ اُنھوں نے اِس واقعہ کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا اور کہاکہ ایسا کرنے سے غزہ کے اسکولس بھی فوجی جارحیت کا نشانہ بننے اور بے قصور بچوں کی ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔ اُنھوں نے اپیل کی کہ اسکولس کو اسلحہ کا گودام نہ بنایا جائے اور طلبہ کی زندگیوں کو خطرہ میں نہ ڈالا جائے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT