اسرائیلی حملے ‘ چن چن کر نشانہ بنانے کی کارروائی : کیری

.............. لہو پکاریگا آستیں کا ! اسرائیلی حملے ‘ چن چن کر نشانہ بنانے کی کارروائی : کیری ٹی وی انٹرویو کے دوران سکریٹری آف اسٹیٹ کے ریمارکس ریکارڈ‘ موقف سے پھر تبدیلی

………….. لہو پکاریگا آستیں کا !
اسرائیلی حملے ‘ چن چن کر نشانہ بنانے کی کارروائی : کیری
ٹی وی انٹرویو کے دوران سکریٹری آف اسٹیٹ کے ریمارکس ریکارڈ‘ موقف سے پھر تبدیلی
واشنگٹن 21 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کل رات کیمرہ پر غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے ریکارڈ کرلئے گئے ۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے جاری وحشیانہ بمباری کو چن چن کر نشانہ بنانے والی کارروائی قرار دیا اور اس خیال کا اظہار کیا کہ وہاں حالات کو قابو میں کرنے کیلئے کچھ کیا جانا چاہئے کیونکہ خاموش بیٹھنا درست نہیں ہے ۔ تاہم بعد میں روایتی دوہرا معیار اختیار کرتے ہوئے جان کیری نے اسرائیل کی ہلاکت خیز اور وحشیانہ بمباری کو اس کے حق مدافعت سے تعبیر کیا اور یہ ادعا کیا کہ امریکہ راکٹ حملوں کے خلاف دفاعی کارروائی کے اسرائیل کے حق کو تسلیم کرتا ہے ۔ تفصیلات کے بموجب جان کیری کل رات فاکس نیوز پر انٹرویو دینے والے تھے ۔ انٹرویو سے عین قبل ایک کے معاون کا فون کال موصول ہوا اور کیری نے اپنے مائیکرو فون کا خیال کئے بغیر ہی فون پر بات چیت کی اور اپنے ساتھی سے کہا کہ غزہ میں جو اسرائیلی کارروائی کی جا رہی ہے وہ چن چن کر نشانہ بنانے والی کارروائی ہے ۔ ہمیں وہاں پہونچنا چاہئے ۔ شکریہ جان ۔ جان میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں آج رات ہی جانا چاہئے ۔ میرے خیال میں خاموش بیٹھنا دیوانہ پن ہے ۔ ان کے یہ ریمارکس ریکارڈ کئے گئے تھے اور ٹی وی شو کے میزبان کرس والیس نے اسے ٹی وی پر دکھاتے ہوئے سوال کیا کہ چن چن کر نشانہ بنانے کی کارروائی سے آپ کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ اسرائیل ضرورت سے زیادہ حملے کر رہا ہے ۔ جان کیری نے قدرے مبہم انداز اختیار کیا اور کہا کہ ان کے خیال میں یہ بہت بہت مشکل صورتحال ہے ۔ یقینی طور پر یہ مشکل صورتحال ہے ۔ تاہم انہوں نے دوبارہ سے اپنے سابقہ موقف کو بحال کرتے ہوئے ٹی وی ہوسٹ سے کہا کہ اسرائیل کو حماس کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اوباما انتظامیہ راکٹ حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے اسرائیلی حق کو تسلیم کرتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یقینی طور پر اس طرح کی کارروائی بہت بہت مشکل ہے ۔ اور انہوں نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے کیونکہ وہاں نوجوان بچے اور عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں لیکن جو جنگ چل رہی ہے وہ بہت مشکل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT