اسرائیلی فوجیوں کی نعشیں واپس نہ کرنے پر حماس کا صفایا

یروشلم ۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل نے دھمکی دی ہیکہ غزہ میں جاری جنگ بندی کا وقت ختم ہوجائے اور توسیع کی کوششیں ناکام ثابت ہوں تو وہ حماس کا صفایا کردے گا۔ دوسری طرف 72 گھنٹوں کی جنگ بندی کو جاری رکھنے کے سلسلہ میں کسی طرح کی پیشرفت نہ ہوسکی کیونکہ اسرائیل اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے مابین کئی اہم امور پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ وزیرخ

یروشلم ۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل نے دھمکی دی ہیکہ غزہ میں جاری جنگ بندی کا وقت ختم ہوجائے اور توسیع کی کوششیں ناکام ثابت ہوں تو وہ حماس کا صفایا کردے گا۔ دوسری طرف 72 گھنٹوں کی جنگ بندی کو جاری رکھنے کے سلسلہ میں کسی طرح کی پیشرفت نہ ہوسکی کیونکہ اسرائیل اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے مابین کئی اہم امور پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ وزیرخارجہ اسرائیل آوی گیڈور لئبرمین نے کہا کہ اسرائیل بالواسطہ جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اگر جاریہ جنگ بندی ناکام ہوجائے تو پھر اسرائیل کو پہل کرنی پڑے گی۔ یعنی اس کا صاف مطلب یہ ہیکہ لڑائی میں اضافہ ہوگا اور ہم کم سے کم وقت میں اس کہانی کو ختم کردیں گے۔ وزیرخارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہیکہ اسرائیل کو غزہ میں اپنا آپریشن اس وقت تک ختم نہیں کرنا چاہئے جب تک مہلوک سپاہیوں کی نعشیں واپس نہیں مل جاتی۔ اگر دوسری طرف کے دہشت گرد ہماری بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں تو انہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جواب میں محمد طائف، (اسمعیل) ھنیہ اور غزہ پٹی میں حماس قیادت کی نعشیں انہیں حاصل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی اسی طرح کی قرارداد یا لائحہ عمل کو اسرائیلی سپاہیوں کی نعشیں واپس ہونے تک قبول نہیں کریں گے۔ لائبرمین نے غزہ جنگ کی اقوام متحدہ تحقیقات کے سلسلہ میں کسی طرح کے تعاون کا امکان بھی مسترد کردیا۔

کینیڈا کے بین الاقوامی ماہر قانون ولیم شباز جو اسرائیل پر نکتہ چینی کیلئے شہرت رکھتے ہیں وہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کی تحقیقات کے سربراہ ہوں گے جو مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ میں گذشتہ دو ماہ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کررہی ہے۔ اسرائیلی سفیر برائے اقوام متحدہ رون پروزر نے آج کہا کہ ولیم شباز کی اقوام متحدہ غزہ تحقیقات کی قیادت اسی طرح ہے جیسے آئی ایس آئی ایس مذہبی رواداری کا پروگرام منعقد کررہی ہے۔ وزارت خارجہ اسرائیل نے کہا کہ پینل کے سربراہ کی حیثیت سے ولیم شباز کا تقرر یہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل کو انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ رپورٹ پہلے ہی تحریر کی جاچکی ہے اور اب صرف دستخط کئے جانے ہیں۔ پروزر نے آرمی ریڈیو کو ایک انٹرویو میں پینل کے قانونی جواز کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا تھا۔ اس دوران غزہ میں 72 گھنٹے کی جنگ بندی آج نصف شب کو ختم ہورہی ہے اور اب تک بھی فریقین کے درمیان اہم امور پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ اسرائیل اور غزہ کے درمیان سرحدی کراسنگ کو کھولنے کے مسئلہ پر کلیدی اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس بات کا تعین نہیں ہورہا ہے کہ اس کراسنگ کی نگرانی کس طرح ہوگی اور غزہ میں کس طرح کے ساز و سامان لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT