Friday , August 17 2018
Home / Top Stories / اسرائیلی فوج کی درندگی اور غزہ میں جھڑپوں سے 52فلسطینی شہیداور 2400زخمی

اسرائیلی فوج کی درندگی اور غزہ میں جھڑپوں سے 52فلسطینی شہیداور 2400زخمی

نہتے فلسطینیوں کے قتل عام اور غارت گری کے درمیان مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ کا افتتاح ، صیہونی اور سامراجی طاقتوں کا جشن ، محمود عباس نے قتل عام کی مذمت کی

یروشلم ۔ 14 مئی ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے آج یروشلم میں اپنا سفارتخانہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ اقدام کے تحت کھول دیا جبکہ غزہ سٹی کے ہزاروں فلسطینیوں نے اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیاجہاں اسرائیلی فوجیوں نے کم از کم 52 فلسطینیوں کو جھڑپوں کے دوران گولی مارکر شہید کردیا ۔ یہ 2014 ء کے بعد بدترین پرتشدد کارروائی تھی ۔ امریکی سفارتخانہ کی افتتاحی تقریب میں صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعہ کہا کہ آج ہم سرکاری طورپر اقوام متحدہ کا سفارتخانہ یروشلم میں کھول رہے ہیں ، میری مبارکباد طویل عرصہ سے اس کا انتظار کیا جارہا تھا ۔ انھوں نے کہاکہ اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے جس کو کسی بھی دیگر خودمختار ملک کی طرح اپنے دارالحکومت کو نامزد کرنے کا حق حاصل ہے ۔ دریں اثناء غزہ سٹی سے موصولہ اطلاع کے بموجب اسرائیلی فوجیوں نے کم از کم 52 احتجاجی مظاہرین کو اجتماعی احتجاج کے دوران غزہ کی سرحد پر آج گولی مارکر شہید کردیا ۔ یہ 2014ء کی سرحد پار جنگ کے بعد بدترین تباہ کن واقعہ تھا ۔ اس کے سائے اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ کی افتتاحی تقریب پر بھی پڑے ۔ سفارتخانہ کے قیام کے اقدام پر برہم احتجاجیوں نے ٹائیروں کو نذر آتش کردیا جس کی وجہ سے فضاء میں سیاہ کثیف دھواں پھیل گیا ۔ انھوں نے آتشی بم اسرائیلی فوجیوں پر سرحد پار پھینکے اور سنگباری کی ۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج نے اپنے دبابوں کے ذریعہ احتجاجیوں پر فائرنگ کردی جس کی وجہ سے احتجاجی مظاہرین پناہ لینے کیلئے دوڑنے لگے ۔ فوج کے بموجب فوجیوں پر بعض علاقوں سے فائرنگ کی گئی ۔ اسرائیل نے کہا کہ یہ لوگ سرحدی باڑھ توڑکر آگے بڑھنا چاہتا تھے ، تاہم فوجیوں نے اُن پر گولی چلادی اور کم از کم 3 فلسطینی بم نصب کرنے کی کوشش میں ہلاک ہوگئے۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے یروشلم میں اپنے سفارتخانہ کی تقریب افتتاح منعقد کی اور اسے ایک عظیم دن برائے اسرائیل قرار دیا ۔ تاہم آج ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے اور سفارتخانہ کھولنے کی پورے عالم عرب کی جانب سے مذمت کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا لب و لہجہ تبدیل کردیا اور کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے تیار ہیں۔ دوپہر بعد 27 فلسطینی بشمول 5 نابالغ ہلاک کردیئے گئے ۔ دوپہر تک مہلوک فلسطینیوں کی تعداد 52 ہوچکی تھی ، جن میں 5 بچے شامل تھے ۔ غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ ان پانچ نابالغ بچوں میں ایک لڑکی بھی شامل ہے ۔ وزارت کے بموجب 1204 فلسطینیوں کو گولی کے زخم آئے ، ان میں وہ 11 افراد بھی شامل ہیں جن کی حالت نازک ہے ۔ بیان کے بموجب دیگر 2400افراد مختلف شدت کے زخموں بشمول آنسو گیاس کے شل کے زخموں کا شکار ہیں۔بیت المقدس میں سفارتخانہ کے قیام سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اشتعال انگیز اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہزاروں فلسطینی آج اسرائیلی سرحد کے قریب جمع ہوگئے تھے اور چند چھوٹے گروپوں نے سنگباری کے علاوہ سرحدی رکاوٹوں کو توڑنے کی کوشش کی جبکہ سرحد کے اُس پار صیہونی سکیورٹی فورسیس کے مسلح نشانہ باز وہاں فلسطینیوں کے خلاف مورچہ سنبھالے ہوئے تھے ۔ یروشلم سے محض چند کیلومیٹر کے قریب فلسطینی علاقوں میں آج دن بھر فلسطینیوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہوچکا تھا لیکن اسرائیل نے سخت ناکہ بندی کے ساتھ اس علاقہ کا محاصرہ کرلیا تھا ۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ’’تقریباً 10,000 پرتشد اشرار‘‘ اسرائیل سے متصلہ غزہ پٹی کی سرحد کے مختلف مقامات پر جمع ہوچکے ہیں ۔ نیز سکیورٹی فصیل سے نصف کیلومیٹر دور دیگر کئی ہزار فلسطینی خیموں میں جمع ہورہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’’وہ ہمارے سپاہی اس علاقہ میں اشرار کے تشدد کا فائرنگ کے ذریعہ معیاری ضابطوں کے مطابق جواب دے رہے ہیں ‘‘ ۔ امریکی در ڈونالڈ ٹرمپ نے 6 ڈسمبر 2017 ء کو انتہائی متنازعہ اور اشتعال انگیز قدم اُٹھاتے ہوئے اس متنازعہ شہر کو اسرائیل کے صدر مقام کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے وہاں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا ، جس کے نتیجہ میں مشرق وسطیٰ کی پہلے ہی کشیدہ صورتحال مزید ابتر ہوگئی تھی اور یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کا ایسے وقت افتتاح کیا جارہا ہے جس سے چند دن قبل امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طئے شدہ نیوکلیئر سمجھوتہ سے دستبرداری اختیار کی تھی جس کے دو دن بعد اسرائیل نے شام میں ایرانی تنصیبات کو خطرناک فضائی حملوں کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجہ میں کئی شامی و ایرانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ گولان پہاڑیوں میں اسرائیلی سپاہیوں کی سمت شام سے کئے گئے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل نے یہ کارروائی کی تھی ۔ رملہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر فلسطین محمود عباس نے آج غزہ سرحد پر اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے جھڑپوں کے دوران قتل عام کی مذمت کی ۔ انھوں نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ثالث کا کردار اب ادا نہیں کرے گا ۔ اسلامی تحریک حماس غزہ پٹی پر برسراقتدار ہے۔ اُس نے عہد کیا کہ احتجاج جاری رہے گا ۔

TOPPOPULARRECENT