Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / اسرائیلی فورسیس کے ساتھ تازہ جھڑپیں ‘2فلسطینی ہلاک

اسرائیلی فورسیس کے ساتھ تازہ جھڑپیں ‘2فلسطینی ہلاک

آج سلامتی کونسل کا بند کمرہ میں ہنگامی اجلاس، مسجد اقصیٰ میں سکیورٹی اقدامات پر نظرثانی کا اشارہ

یروشلم ۔23جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) دو فلسطینی اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوگئے جب کہ فوج نے ایک حملہ آور کے مکان کو ناکہ بند کردیا ۔ قبل ازیں فوجیوں پر انتہائی حساس مسجد اقصیٰ کے علاقہ میں حملہ ہوا تھا ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک بند کمرہ اجلاس کل منعقد ہوگا ۔تاکہ بڑھتے ہوئے تشدد پر مصر ‘ فرانس اور سوڈان نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ یروشلم میں کشیدگی کم کرنے پر غور کیا جاسکے ۔ ان کے اس مطالبہ کی اکثریت کی جانب سے تائید کی گئی تھی ۔ جمعہ کے دن خونریزی کے بعد اموات واقع ہوئی تھیں ۔ ایک 19سالہ فلسطینی اسرائیلی نوآباد کاروں کے ہاتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں ہلاک کردیا گیا تھا ۔ اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں تین فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے ۔ کل فلسطینی نوجوانوں نے سنگباری کی اور فوج پر پٹرول بم پھینکے ‘ جب کہ فوج 19سالہ حملہ آور کو مقبوضہ مغربی کنارے کے دیہات میں محصور کرنے کی کوشش کررہی تھی اور اس کے مکان کو منہدم کرنے کی تیاریاں کررہی تھی ۔ اسرائیل اکثر حملہ آوروں کے خاندانوں کو ان کے مکان منہدم کر کے یا ان کے مکانوں کی بطور دھمکی ناکہ بندی کر کے سزا دیا کرتی ہے ۔ حالانکہ انسانی حقوق گروپس کا کہنا ہے کہ یہ اجتماعی سزا ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ مشرقی یروشلم میںا ور مغربی کنارے کے فلسطینی دیہاتوں میں بھی یروشلم کے قریب تشدد پھوٹ پڑا ۔

پولیس نے کہا کہ انسداد فسادات اقدامات ان افراد کے خلاف ضروری ہیں ۔ قلندریہ میں جو مغربی کنارے اور یروشلم کے درمیان واقع ہے کم از کم 8فلسطینی زخمی ہوگئے ۔ وزارت صحت فلسطین نے اس کی اطلاع دی ہے ۔ ایک فلسطینی زخموں سے جانبر نہ ہوسکا جو اُسے مشرقی یروشلم میں آئے تھے ۔ ایک 17سالہ شخص ادئے نواجا اسرائیلیوں کی فائرنگ سے کل الازاریا میں زخمی ہوگیا ۔ ایک اور فلسطینی جس کی عمر 18سال تھی قریب ہی ایک پٹرول بم قبل از وقت پھٹ پڑنے سے ہلاک ہوگیا ۔ اسرائیل کے داخلی سلامتی کے محکمہ شن بیتھ نے آج دریں اثناء کہا کہ 23 افراد کو عسکریت پسند حماس گروپ کے سرگرم کارکن ہونے کے شبہ میں گرفتار کرلیا گیا ۔ حماس غزہ پٹی پر برسراقتدار ہے ۔ ان گرفتاری میں سینئر ارکان شامل ہیں ۔ شن بیتھ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے مسجد اقصیٰ کے اطراف و اکناف کشیدہ صورتحال کے بناء پر انسداد اقدامات کئے ہیں ۔آج اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی پر ایک راکٹ داغا تھا ۔ اسرائیلی فوج کے بیان کے بموجب یہ راکٹ فضاء میں ہی پھٹ پڑا ۔ کسی بھی فلسطینی گروپ نے کسی حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔ فوج کے اقدامات پر بشمول حرم قدسی کے احاطہ میں میٹل ڈیٹکٹر کے خلاف بطور احتجاج پُرتشدد احتجاج ہوا ۔ نماز جمعہ سے پہلے پُرتشدد واقعات پیش آئے ۔

اسرائیل نے ایک بندوق بردار اور ایک چاقو سے حملہ کرنے والے افراد کو گرفتار کرلیا ‘ جن کے ہاتھوں 14جولائی کودو اسرائیلی ملازم پولیس ہلاک ہوگئے تھے ۔ فلسطینیوں نے ان اقدامات کو مسترد کردیا ‘ جب کہ اسرائیلیوں نے کہا کہ یہ مسجد اقصیٰ پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی تازہ کوشش ہے ۔ قدیم شہر یروشلم میں مسجد اقصیٰ پر ایک تنازعہ موجود ہے جسے مسلمان اور یہودی دونوں اپنا مقدس مقام قرار دیتے ہیں ۔ قبل ازیں 2000ء میں اُس وقت کے قائد اپوزیشن ایرل شیرون کے دورہ مسجد اقصیٰ پر انتفاضہ کا آغاز ہوا تھا جو چار سال تک جاری رہا ۔ اسرائیلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 14جولائی کا حملہ اسمگل کی گئی بندوقوں سے کیا گیا تھا جو غیرقانونی طور پر مسجد اقصیٰ میں منتقل کی گئی تھیں اور فائرنگ ملازمین پولیس پر مسجد اقصیٰ کے احاطہ سے کی گئی تھی ۔اس دوران وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو پر مسجد اقصیٰ میں نئے سکیورٹی اقدامات اور گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری تشدد کے بعد دباؤ بڑھ گیا ہے ۔ اسرائیلی عہدیداروں نے اشارہ دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ میں کئے گئے اقدامات کو تبدیل کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ مسجد کے باب الداخلہ پر میٹل ڈیٹکٹرس نصب کئے گئے تھے جس کے بعد تشدد پھوٹ پڑا اور اب تک 8 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT