Sunday , July 22 2018
Home / شہر کی خبریں / اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ ہند اسرائیلی صہیونی اور ہندوتوا طاقتوں کے درمیان اتحاد کی علامت

اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ ہند اسرائیلی صہیونی اور ہندوتوا طاقتوں کے درمیان اتحاد کی علامت

فلسطین میں مظالم کے اسرائیلی قائدین کا خیر مقدم ملک کے مفاد کے خلاف ، بی ڈی ایس کے ذمہ داروں کا بیان
حیدرآباد۔15جنوری (سیاست نیوز) اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کا ہندستان میں خیر مقدم نہیں کیا جاتا بلکہ اسرائیلی مظالم اور ہندستانی تاریخی خارجہ پالیسی کے مطابق ہندستانی عوام اسرائیل اور ہندستان کے بڑھتے تعلقات کی شدت سے مخالفت کرتے ہیں۔ ہندستان میں چلائے جانے والی بی ڈی ایس تحریک جو کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ اور اسرائیلی سرمایہ داروں کی حوصلہ شکنی کیلئے کام کرتی ہے نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان میں اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا مختلف شہروں کا دورہ اسرائیلی صہیونی اور ہندوتوا طاقتوں کے درمیان اتحاد کی علامت ہے۔ بی ڈی ایس کے ذمہ داروں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام پر مظالم کی تاریخ رقم کرنے والے اسرائیل کے قائدین کا ہندستان میں خیر مقدم کیا جانا ملک کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ ہندستان میں جمہوریت کے خطرہ میں ہونے کے خدشات کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ فلسطینی عوام ہندستانی شہریوں کی جانب سے بی ڈی ایس کی تحریک میں شمولیت کے سبب ان کے مشکور ہیں اور بائیکاٹ تحریک فلسطینیو ںمیں حوصلہ پیدا کر رہی ہے لیکن اب ملک میں جن حالات کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم کا دورہ ہورہاہے اس سے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ ہندستان پوری دنیا کی جانب سے اقوام متحدہ میں الگ تھلگ کئے جانے والے ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک سے تعلقات کو خطرہ میں ڈال رہا ہے۔ بی ڈی ایس نے سپریم کورٹ کے 4ججس کی پریس کانفرنس اور ملک میں خوف کا ماحول پیدا کرتے ہوئے صحافیوں‘ دلتوں‘ اقلیتوں‘ کسانوں‘ طلبہ اور دیگر طبقات کو ہراساں کیا جا رہاہے اور یہ پالیسی اسرائیلی پالیسی کا ہی نتیجہ ہے۔سپریم کورٹ کے 4 سینیئر ججس کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ملک میں شہری حقوق اور آزادی کو کس درجہ خطرہ لاحق ہے۔ بی ڈی ایس کے نمائندوں نے بتایاکہ وہ ہند۔اسرائیل دوستی کے فروغ اور تعلقات کے استحکام کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور ان تعلقات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ہندستانی عوام کے احساس و جذبات کے مغائر سمجھتے ہیں۔اقوام متحدہ میں ٹرمپ کے یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کے فیصلہ کی ساری دنیا نے مخالفت کی اور خود ہندستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں اس فیصلہ کی مخالفت کرنے کے باوجود ہندستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کاسرخ قالین پر خیر مقدم کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے زخموں کو کریدا ہے اور ہندستانی شہری جو فلسطینی کاز کے حامی ہیں ان کے جزبات کو مجروح کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ ہند سے ہندستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ان کا یہ دورہ اسرائیلی مفادات کی تکمیل کا ضامن ثابت ہوگا اسی لئے اس دورہ کی شدت سے مخالفت کی جانی چاہئے۔ بی ڈی ایس کے مطابق اس دورہ کے دوران اسرائیل سے اسلحہ کی خریدی میں اضافہ ہوگا اور زرعی ٹیکنالوجی کے نام پر کسانوں کو بحران کا شکار بنایاجائے گا جس کا راست فائدہ اسرائیلی کھاد کمپنیو ںکو حاصل ہوگا اسی کے علاوہ ہندستانی آبپاشی شعبہ میں سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کرتے ہوئے ملک کے ذخائر آب کے متعلق خانگیانے کی پالیسی تیار کی جا سکتی ہے اسی لئے ہندستانی عوام کو صہیونی نظریہ کو فروغ دینے والی مملکت اسرائیل کے وزیر اعظم کے دورہ ہند کی مخالفت کرنی چاہئے ۔ اسرائیل ہندستان کو خفیہ طریقہ سے اپنے شہریوں پر نظر رکھنے کی ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ذریعہ بھی مدد کر رہا ہے جو کہ ہندستانی جمہوریت اور شہری آزادی و انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ثابت ہورہی ہے لیکن یہ طریقہ کار اسرائیل میں فلسطینی عوام کے خلاف استعمال کیا جا چکا ہے اور اسی طریقہ کار کو ہندستان میں مخالف ہندو توا طاقتوں کو زیر کرنے کیلئے استعمال کیا جانے لگا ہے۔

TOPPOPULARRECENT