Sunday , February 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اسرائیلی ٹکنالوجی کا استعمال کرنے حکومت کا فیصلہ

اسرائیلی ٹکنالوجی کا استعمال کرنے حکومت کا فیصلہ

دورہ اسرائیل ہو یا امریکی نیوکلئیر معاہدہ ‘ جماعت بدستور خاموش
حیدرآباد۔18نومبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست میں زرعی و آبپاشی منصوبوں کو بہتر بنانے اسرائیلی تکنیک استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسرائیل کا دورہ کرواتے ہوئے اسرائیل میں تربیت کو ممکن بنانے 1000 عہدیداروں کا انتخاب کیا گیا ہے جو اسرائیل میں تل ابیب و دیگر علاقوں کا دورہ کرکے اسرائیل میں استعمال کی جانے والی تکنیک کی تربیت حاصل کریں گے۔ حکومت کی جانب سے 1000 عہدیداروں کو فی کس 2.5لاکھ روپئے کے خرچ سے اسرائیل روانہ کیئے جانے کے فیصلہ کو ریاستی و قومی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن حکومت کی حلیف اور آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے کے اعلانات کرنے والے خاموش ہیں اور حکومت کی اسرائیل نواز پالیسی پر لب کشائی سے گریز کر رہے ہیں۔ حکومت نے محکمہ آبپاشی اور زراعت کے 1000 عہدیداروں کو 25کروڑ روپئے کے خرچ سے تربیت کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ’ماڈل فارمر‘ کی تربیت کیلئے ان عہدیداروں کو تربیت فراہم کی جائے گی اور ان کے دورہ ٔ اسرائیل کیلئے حکومت کی جانب سے اخراجات کی پابجائی کی جائیگی اور یہ عہدیدار اسرائیل سے واپسی کے بعد ریاست بھر کے تمام اضلاع میں کسانوں سے ملاقات کرکے انہیں اسرائیلی تکنیک کے استعمال کی تعلیم دیں گے اور انہیں آبپاشی شعبہ میں اسرائیلی تکنیک اختیارکرنے کی ترغیب دی جائیگی ۔ ریاست کے 1000 عہدیداروں کے دورہ اسرائیل پر مقامی جماعت جو مسٹر چندر شیکھر راؤ کیلئے چیف منسٹر کے عہدہ کو معمولی تصور کرتی ہے حکومت کے اقدام پر خاموش ہے ۔ حکومت کی حلیف ہونے کے باوجود اسرائیل میں عہدیداروں کی تربیت پر خاموشی اختیار کئے جانے پر شہر میں عوام کی جانب سے سوال کئے جا رہے ہیں کہ اتنے عہدیداروں کے دورۂ اسرائیل اور وہ بھی سرکاری خرچ پر دورہ کے معاملہ میں ارکان اسمبلی و قائد مقننہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ پرانے شہر کے علاقہ یاقوت پورہ سے تعلق رکھنے والی ایک بزرگ شخصیت نے کہا کہ اسرائیل سے ریاست کے تجارتی تعلقات میں فروغ نئی بات نہیں ہے اور متحدہ آندھراپردیش میں بھی اسرائیل نے ریاست میں سرمایہ کاری کی اور متحدہ ریاست میں محکمہ پولیس کے اعلی عہدیدار اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں اس پر بھی منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی ہی رہی جبکہ اس وقت وہ اس جماعت کے حلیف تھے جو متحدہ ریاست میں برسراقتدار تھی۔ جماعت نے اس وقت بھی خاموشی ہی اختیار کر رکھی تھی جب آندھراپردیش میں حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعہ یروشلم کے دورہ کو مذہبی سفر قرار دیتے ہوئے سبسیڈی کا اعلان کیا تھا ۔ شہر حیدرآباد کے قدیم علاقہ سعید آباد سے تعلق رکھنے والے معروف شہری نے بھی اس مسئلہ کو حکومت کی پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حلیف جماعت کے قائدین کو اس مسئلہ پر اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے ۔امریکہ سے کئے گئے نیوکلئیر معاہدہ پر بھی جماعت کی خاموشی اور معاہدہ کی تائید موقف کو واضح کرنے کیلئے کافی تصور کی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT