Friday , January 19 2018
Home / عرب دنیا / اسرائیل اور فلسطین کے امریکی سفیر سے امن مذاکرات

اسرائیل اور فلسطین کے امریکی سفیر سے امن مذاکرات

یروشلم 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کار آج امریکی سفیر مارٹن ایمبیک سے بات چیت کریں گے تاکہ لڑکھڑاتے امن مذاکرات میں توسیع کا راستہ تلاش کیا جائے۔ یہ اجلاس ایک دن کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ اسرائیل نے اِس تاخیر کی وجہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی پولیس عہدیدار کا قتل قرار دیا ہے لیکن فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اِس

یروشلم 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کار آج امریکی سفیر مارٹن ایمبیک سے بات چیت کریں گے تاکہ لڑکھڑاتے امن مذاکرات میں توسیع کا راستہ تلاش کیا جائے۔ یہ اجلاس ایک دن کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ اسرائیل نے اِس تاخیر کی وجہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی پولیس عہدیدار کا قتل قرار دیا ہے لیکن فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اِس کا مقصد امریکی سفیر مارٹن ایمبیک کو بات چیت میں شرکت کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کار اتوار کے دن اپنا اجلاس منعقد کرچکے ہیں اور ایک ہفتہ قبل ایمبیک کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات بھی ہوچکے ہیں۔ یہ جمود کا شکار امن کارروائی کو بچانے کی آخری لمحہ کی کوشش ہے جس کا آغاز وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے جولائی میں کیا تھا۔ مذاکرات کی مدت 9 ماہ مقرر کی تھی۔ امریکہ مذاکرات کی مدت میں 29 اپریل کی قطعی آخری مہلت کے بعد بھی جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ لیکن مذاکرات دو ہفتے قبل تعطل کا شکار ہوگئے جبکہ اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کے ایک گروپ کی رہائی سے انکار کردیا جس سے وہ سابقہ دور کے مذاکرات میں اتفاق کرچکا تھا۔

فلسطینیوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کئی بین الاقوامی معاہدوں کی تعمیل کی خواہش ظاہر کی۔ اِس بحران کے باوجود صدر فلسطین محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینا نے پرزور انداز میں کہاکہ مذاکرات میں توسیع ممکن ہے، اگر اسرائیل 26 قیدیوں کو رہا کردے اور 104 پرانے قیدیوں کی رہائی کی تعداد مکمل کرے، جس سے اسرائیل قبل ازیں اتفاق کرچکا ہے۔ محمود عباس نے اسرائیلی اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ سے جو رملہ کے دورہ پر تھے کہاکہ وہ 14 عرب اسرائیلیوں کی رہائی پر زور دیں گے۔ کثیرالاشاعت اسرائیلی روزنامہ ہا آرٹیز کے بموجب اگر بات چیت میں توسیع کی جائے تو محمود عباس پہلے 3 ماہ تک سرحدات کے بارے میں سنجیدگی سے تبادلہ خیال پر زور دیں گے۔ فلسطینیوں کی خواہش ہے کہ ایک علیحدہ مملکت قائم کی جائے جو اسرائیل کے زیرقبضہ مغربی کنارہ اور غزہ پٹی کے علاقوں پر مشتمل ہو جن پر اسرائیل نے 1967 ء کی 6 روزہ جنگ کے بعد قبضہ کرلیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT