Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / اسرائیل نے فلسطین میں 800 متنازعہ مکانات کی منظوری دیدی

اسرائیل نے فلسطین میں 800 متنازعہ مکانات کی منظوری دیدی

فلسطینی اتھاریٹی کی جانب سے حسب معمول برہمی کا اظہار، فیصلہ واپس لیا جائے : سکریٹری جنرل اقوام متحدہ بانکی مون

مقبوضہ بیت المقدس30 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاھو کی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں مجموعی طور پر آٹھ سو مکانات کی فوری تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں سے تین سو مکانات غرب اردن کے وسطی شہر رام اللہ میں قائم “بیت ایل” نامی کالونی میں تعمیر کیے جائیں گے جب کہ باقی پانچ سو مکانات مشرقی بیت المقدس میں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کابینہ کی جانب سے مغربی کنارے کی “بیت ایل” یہودی بستی میں تین سو مکانات کی تعمیر اسرائیلی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے ردعمل میں کی جا رہی ہے۔ چہارشنبہ کو سپریم کورٹ نے اس کالونی میں دو مکانات کو غیر قانونی قرار دے کر انہیں مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکومت نے دو مکانات کو مسمار کرنے کا فیصلہ بادل نخواستہ قبول کیا مگر ساتھ ہی تین سو مکانات کی تعمیر کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ ’’بیت ایل‘‘ میں مکانات مسماری کے عدالتی حکم کے بعد فوج نے کاروائی کر کے مکانات مسماری کرنے کی کوشش کی تو یہودی آباد کاروں اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا ہے۔

اسرائیلی سپریم کورٹ نے پچھلے ماہ اپنے ایک فیصلے میں “بیت ایل” میں قائم دو مکانات کو فلسطینیوں کی اراضی پر بنائے جانے کی وجہ سے 30 جولائی تک مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ اراضی کے فلسطینی مالک عبدالرحمان قاسم نے بتایا کہ میں نے بیت ایل میں اپنی اراضی پر بنائے مکانات کی مسماری کی کاروائی کو خود دیکھا۔ مجھے آج خوشی ہے کہ میں نے کھویا ہوا حق حاصل کر لیا ہے۔ یہ میری فتح ہے اور یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ اس وقت فلسطین کے چپے چپے پر بنی یہودی کالونیاں فلسطینیوں سے چھینی گئی اراضی پر تعمیر کی گئی ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی یروشلم اور غرب اردن میں مکانات کی تعمیر کا اعلان عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری ہے۔ حکومت نے ان مکانات کی تعمیر کا اعلان تین سال قبل کیا تھا مگر ان کی تعمیر کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کی مشرقی بیت المقدس میں پانچ سو مکانات ‘بسغات زئیو، روموت، غیلو اور ھارحوما’ سمیت متعدد دیگر کالونیوں میں بنائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ اس وقت غرب اردن میں غیر قانونی طور پر بنائی گئی کالونیوں میں چار لاکھ یہودی جب کہ بیت ایل میں دو لاکھ یہودی رہائش پذیر ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مکانات کی تعمیر کے اعلان پر فلسطینی اتھارٹی نے حسب معمول سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن حنان عشراوی نے مکانات کی تعمیر کے اسرائیلی اعلان کو “صہیونی ریاست کی جنوبی توسیع پسندانہ جارحیت” قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی اسرائیلی حکومت کے توسیع پسندانہ اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT