Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / اسرائیل نے فنڈز روک لئے،فلسطینی معیشت کی تباہی کا اندیشہ

اسرائیل نے فنڈز روک لئے،فلسطینی معیشت کی تباہی کا اندیشہ

واشنگٹن ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہیکہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کی جانب سے محصولات کی مد میں رقوم اور امدادی فنڈز روکے جانے کے بعد معاشی بحران سے دوچار ہوسکتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین پیساکی نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہیکہ ’’ہمیں اس بات پر گہری تشویش لاحق ہیکہ اگر فل

واشنگٹن ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہیکہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کی جانب سے محصولات کی مد میں رقوم اور امدادی فنڈز روکے جانے کے بعد معاشی بحران سے دوچار ہوسکتی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین پیساکی نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہیکہ ’’ہمیں اس بات پر گہری تشویش لاحق ہیکہ اگر فلسطینی اتھارٹی کو جلد فنڈز نہیں ملتے ہیں تو اس کیلئے اپنا نظام چلانا مشکل ہوجائے گا‘‘۔ترجمان نے کہا کہ ان فنڈز میں اسرائیل سے فلسطینیوں کو ان کی محصولات کی رقم کی منتقلی یا اضافی امدادی رقم شامل ہے۔البتہ انھوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ موجودہ صورتحال میں مستقبل قریب میں امریکی کانگریس کے ذریعہ فلسطینی اتھارٹی کی امداد ممکن نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو اس کے واجبات کی عدم ادائی کی صورت میں ہزاروں طلبہ کو اساتذہ تعلیم دینے کیلئے دستیاب نہیں ہوں گے ،اسپتال اپنا کام جاری نہیں رکھ سکیں گے اور اس کا فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں ہی کو شدید خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔جین سکئی نے خبردار کیا ہیکہ اگر فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو ختم کردیا

اور وہ مارچ کے پہلے ہفتے سے ایسا کرنے کا کَہ بھی چکے ہیں تو صورت حال بگڑ سکتی ہے۔اس صورت میں ہمیں ایک بحران کا سامنا ہوسکتا ہے جس کے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔واضح رہیکہ اسرائیل نے جنوری میں فلسطینی اتھارٹی کو محصولات کی مد میں جمع شدہ بارہ کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی رقم ابھی تک منتقل نہیں کی ہے اور اس نے فلسطینیوں کے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی رکنیت اختیار کرنے کے ردعمل میں سزا کے طور پر یہ رقم روک رکھی ہے۔فلسطینی اتھارٹی کو بطور ریاست یکم اپریل سے آئی سی سی کی رکنیت حاصل ہوجائے گی اور اس کے بعد یہ عالمی عدالت صہیونی فوج کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلا سکتی ہے جبکہ فلسطینیوں نے پہلے ہی اسرائیل کی جانب سے گذشتہ سال غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کی تحقیقات کیلئے آئی سی سی کو درخواست دے رکھی ہے۔

TOPPOPULARRECENT