Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / اسرائیل پر دمشق کے جنوب میں ائرپورٹ کے قریب حملوں کا الزام

اسرائیل پر دمشق کے جنوب میں ائرپورٹ کے قریب حملوں کا الزام

نتائج و عواقب کیلئے تیار رہنے شام کی فوج کا انتباہ ۔ حالیہ عرصہ میں تیسری مرتبہ حملے کئے گئے ۔ یہودی مملکت کا فوری کسی تبصرہ سے گریز

بیروت 13 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) شام نے آج اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے دمشق کے مغرب میں ایک بڑے فوجی ائرپورٹ کے قریب راکٹس داغے ہیں ۔ شام نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ اس کے نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہے ۔ تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آیا وہ ان حملوں کے جواب میں کوئی فوجی کارروائی کریگا ۔ شام کی حکومت کا ادعا ہے کہ حالیہ عرصہ میں اسرائیل کی جانب سے اس طرح کا یہ تیسرا حملہ ہے ۔ سرکاری خبر رساں ادارے سانا کے ذریعہ جاری کردہ ایک بیان میں شام کی فوج نے کہا کہ کل نصف شب کے بعد سے طبریس جھیل کے قریب کے علاقہ سے کئی میزائیل داغے گئے جو معیزہ فوجی ائرپورٹ کے علاقہ میں آکر گرے تھے ۔ یہ ائرپورٹ دارالحکومت دمشق کے مغربی علاقہ کی سمت واقع ہے ۔ شام کی فوج نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ آیا ان میزائیل حملوں کے نتیجہ میں کوئی جانی نقصان بھی ہوا ہے یا نہیں ۔ دمشق کے شہریوں نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے نصف شب کے بعد کئی دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں جن کے نتیجہ میں دارالحکومت شہر دہل کر رہ گیا ۔ معیزہ ائرپورٹ کمپاؤنڈ دارالحکومت کے جنوب مغربی کنارہ پر واقع ہے اور یہ ائرپورٹ دمشق کے قریب کے باغیوں کے کنٹرول والے علاقوں پر حملوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس ائرپورٹ پر ماضی میں باغیوں نے بھی حملے کئے تھے ۔ شام کی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے حملوں کے ذریعہ ان دہشت گرد گروپس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے جو شام کی حکومت سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی فوجی کمان اور مسلح افواج اسرائیلی دشمن کو اس طرح کے حملوں کے نتائج و عواقب کیلئے تیار رہنے کا انتباہ دیتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شام کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد اور جنگ جاری رہے گی ۔

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ شام میں یہ حالیہ وقتوں میں اسرائیل کا تیسرا حملہ ہے ۔ 7 ڈسمبر کو شام کی حکومت نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل نے زمین سے زمین پر وار کرنے والے میزائیل داغے ہیں اور معیزیہ ائرپورٹ کے قریب حملے بھی کئے ہیں۔ ایک ہفتے قبل سانا نے کہا تھا کہ اسرائیلی طیاروں نے لبنانی فضائی پٹی سے دمشق کے مضافات کی سمت دو میزائیل داغے ہیں۔ یہ مضافاتی علاقہ صبورا کہلاتا ہے ۔ اسرائیلی فوج نے ان واقعات پر کسی طرح کے تبصرے سے گریز کیا ہے ۔ اور آج کے حملے کے تعلق سے بھی فوری طو رپر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے ۔ تاہم سمجھا جاتا ہے کہ اسرائیل ہی شام میں گذشتہ چند برسوں سے اس طرح کے فضائی حملے کرتا رہا ہے جن کے ذریعہ عصری ہتھیاروں کے نظام کو نشانہ بنانا ہوتا ہے ۔ شام کے پاس روسی ساختہ طیارہ شکن میزائے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ ایران کے تیار کردہ میزائیل بھی رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ شام میں لبنانی حزب اللہ گروپ کے ٹھکانوں پر بھی اسرائیل حملے کرتا رہا ہے ۔ حزب اللہ گروپ کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں لڑاکوں کو شام روانہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ صدر بشارالاسد کی افواج کی ملک کی خانہ جنگی میں مدد کرسکیں۔ شام میں گذشتہ چھ سال سے خانہ جنگی کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اویگڈور لیبرمن نے حال ہی میں واضح کیا تھا کہ ان کا ملک شام کی لڑائی میں شامل نہیں ہوگا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT