اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے یورپی و امریکی دانشوروں کی اپیل

نیویارک۔15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) یورپ اور امریکہ کے اہم دانشوروں کی جانب سے اسرائیل کے بائیکاٹ کی اپیل کے بعد مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے بطور احتجاج یروشلم میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، جبکہ نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت جنوبی افریقہ کی سفید فام سرکار سے زیادہ نسل پرست ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائ

نیویارک۔15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) یورپ اور امریکہ کے اہم دانشوروں کی جانب سے اسرائیل کے بائیکاٹ کی اپیل کے بعد مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے بطور احتجاج یروشلم میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، جبکہ نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت جنوبی افریقہ کی سفید فام سرکار سے زیادہ نسل پرست ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ کاروائیوں پر مغربی دنیا کے اہم دانشوروں کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ مشہورطبیعات داں اسٹیفن ہاکنگ بھی اب اس احتجاج میں شامل ہو گئے ہیں اور انہوں نے بطور احتجاج اگلے ماہ یروشلم میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

اس سے پہلے برطانیہ اور امریکہ کی اہم ترین یونیورسٹیوں کے دانشوروں نے اسٹیفن ہاکنگ پر زور دیا تھا کہ وہ یروشلم کی کانفرنس میں نہ جائیں۔ امریکی مفکر نوم چومسکی نے بھی اسرائیل کے سہ جہتی بائیکاٹ کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان صنعتی اداروں کا بھی بائیکاٹ کیا جائے جنہوں نے اسرائیل میں سرمایہ لگا رکھا ہے۔ چومسکی نے جو خود ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے کہا ہے کہ اسرائیلی نسل پرستی جنوبی افریقہ کے سفید فام حکمرانوں سے زیادہ سنگین ہے کیونکہ جنوب افریقی حکومت سیاہ فاموں کو اپنا شہری سمجھتی تھی جبکہ اسرائیلی حکومت فلسطینی آبادی سے چھٹکارا چاہتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT