Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / اسرائیل کا فلسطینی ریڈیو اسٹیشن پر دھاوا

اسرائیل کا فلسطینی ریڈیو اسٹیشن پر دھاوا

نشریات کے ذریعہ اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے اکسانے کا الزام
یروشلم ۔ 3 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی فوج نے مغربی کنارہ میں واقع ایک فلسطینی ریڈیو اسٹیشن پر دھاوے کرتے ہوئے وہاں موجود تمام آلات اور سازوسامان ضبط کرلئے جن کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہیکہ وہ اسرائیل پر حملہ کرنے کیلئے نشریات کیلئے استعمال کئے جاتے تھے۔ فوج نے بتایا کہ الحریہ ریڈیو اسٹیشن کو گذشتہ شب صرف اس لئے بند کیا گیا ہے کہ وہ مغربی کنارہ میں تشدد پھیلانے میں اہم رول ادا کررہا تھا۔ اسرائیل کا یہ بھی کہنا ہے ستمبر کے وسط سے تشدد کا جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ دراصل یروشلم کے ایک مقدس مقام کے بارے میں فلسطینیوں کی جھوٹ پر مبنی مہم اور لوگوں کو ورغلانے کا نتیجہ ہے۔ فلسطینیوں کے حملہ میں 11 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر اموات چاقوزنی سے ہوئیں۔ دوسری طرف اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 69 ہے جن میں اسرائیل کے مطابق 43 فلسطینی ایسے تھے اسرائیلی فوج پر کئے گئے حملوں میں ملوث تھے۔ تشدد کا یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا، اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ وسطی اسرائیل میں کل ایک 70 سالہ اسرائیلی کو ایک فلسطینی نے چاقو گھونپ کر شدید طور پر زخمی کردیا جبکہ کچھ ہی گھنٹوں بعد تل ابیب میں ایسا ہی ایک دیگر واقعہ پیش آیا جہاں ایک فلسطینی شہری نے کئی لوگوں کو چاقوگھونپ کر زخمی کردیا جن میں ایک 80 سالہ خاتون بھی شامل تھی۔ ہبرون مغربی کنارہ کا اعظم ترین شہر ہے اور اس شہر کو ہی خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ یہاں ہزاروں یہودی قلعہ بند کالونیوں میں آباد ہیں جبکہ فلسطینی بھی یہاں کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق کہ گذشتہ ماہ کے دوران فلسطینیوں نے جملہ 29 حملے کئے جن میں 22 حملے چاقو سے کئے گئے۔ الحرید ریڈیو اسٹیشن تشدد کو ہوا دینے میں اہم رول ادا کررہا تھا کیونکہ ریڈیو اسٹیشن کی نشریات کے ذریعہ فلسطینیوں کو اسرائیلی شہریوں پر حملہ کرنے کیلئے اکسایا جارہا تھا۔ یاد رہے کہ اسرائیلی اور فلسطین میں پائیدار قیام امن کیلئے امریکہ عرصہ دراز سے ثالثی کررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT