Thursday , September 20 2018
Home / دنیا / اسرائیل کا 2007ء میں شام کے نیوکلیئر ری ایکٹر پر بمباری کا اعتراف

اسرائیل کا 2007ء میں شام کے نیوکلیئر ری ایکٹر پر بمباری کا اعتراف

یروشلم ۔ 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل نے آج پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ اس نے 2007ء میں شام کے ایک مشتبہ نیوکلیئر ری ایکٹر پر بمباری کی تھی جبکہ چہارشنبہ کو یہ بیان بھی دیا کہ شام میں کی گئی بمباری دراصل ایران کے لئے ایک انتباہ تھی تاکہ وہ اپنے نیوکلیئر ہتھیار سازی کے پروگرام سے باز آجائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ اسرائیل نے یہ انکشاف کیوں کیا؟ جواب یہ ہیکہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے امریکہ کو کئی بار کالس کرتے ہوئے نہ صرف امریکہ بلکہ بین الاقوامی برادری سے بھی یہ خواہش کی بھی کہ شام کے حلیف ایران کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں۔ دوسری طرف اسرائیل کے انٹلیجنس منسٹر اسرائیل کاٹز نے اپنے ٹوئیٹر پر کہا کہ 2007ء میں کیا گیا آپریشن اور اس کی کامیابی نے یہ واضح کردیا ہیکہ اسرائیل نیوکلیئر ہتھیار ایسے ممالک کے ہاتھوں میں دیکھنا نہیں چاہتا جو خود اس کے (اسرائیل) وجود کیلئے خطرہ بن جائے۔ یہ انتباہ دراصل اس وقت شام کیلئے تھا اور اب ایران کیلئے ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی 5 اور 6 ستمبر 2007ء کی درمیانی شب کا تذکرہ کیا ہے جہاں F-15 اور F-16 آٹھ لڑاکا طیاروں نے ریمن اور ہٹزریم ایئربیس سے اڑان بھرتے ہوئے دائرالزور خطہ کی جانب پیشرفت کی تھی جو دمشق سے 450 کیلو میٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور اس طرح شام کے مشتبہ نیوکلیئر ری ایکٹر پر پر 18 ٹن بم برسائے گئے تھے حالانکہ ایران روزاول سے یہی کہتا آرہا ہیکہ اس کا نیوکلیئر پروگرام پرامن مقاصد اور اپنے دفاع کیلئے ہے لیکن مغرب ایران کے استدلال کو تسلیم کرنے تیار نہیں جبکہ 2015ء میں مغربی ممالک کے ساتھ اس نے ایک نیوکلیئر معاہدہ پر دستخط بھی کئے جہاں ایران نے اپنے اوپر عائد کی گئی تحدیدات برخاست کئے جانے کے عوض اپنا نیوکلیئر پروگرام مسدود کرنے کا عدہ کیا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے اس معاہدہ کو تسلیم کرنے سے ہمیشہ پس و پیش کیا اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔

TOPPOPULARRECENT