Wednesday , December 13 2017
Home / اداریہ / اسرائیل کی آگ

اسرائیل کی آگ

مظلوموں کی آہوں کی حدت سے بھی لگتی ہے آگ
اب بھی سمجھ میں گر نہ آئے داغ اپنے دامن کے دیکھ
اسرائیل کی آگ
اسرائیل میں لگی آگ فلسطینی علاقوں تک پھیلنے سے روکنے کی بروقت کارروائی نہ کرنے کے پیچھے کیا عوامل و مقاصد کارفرما ہیںا س پر خاموشی اختیار کرلی گئی ہے۔ اسلحہ کے ذخائر میں آگ کے شعلے بھڑک اٹھے اور یہودی نوآبادیات کو خالی کروایا گیا مگر فلسطینی علاقوں کی جانب آگ بھڑکنے سے روکا نہ جانا کئی شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اس آگ کی وجہ سے کئی فلسطینی علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ایک فلسطینی لڑکے کی موت کے باوجود اسرائیلی حکومت اور آتش فرو عملہ نے فلسطینی علاقہ کی جانب آگ کو آگے پھیلنے سے روکنے کے فوری اقدامات نہیں کئے گئے۔ مقبوضہ بیت المقدس کے مغرب میں تل ابیب آنے والے راستے کی سمت درختوں سے بھرے علاقوں میں خوفناک قسم کی آگ کا سامنا تھا۔ وزیراعظم اسرائیل کی درخواست پر پانچ یوروپی ممالک نے آگ بجھانے کیلئے اپنے ہیلی کاپٹروں کو بھیج دیا۔ آتشزدگی کے علاقوں میں تیز ہوا آگ بجھانے کی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ شہری دفاع کی ٹیمیں یہودی نوآبادیات سے مکینوں کو بحفاظت نکالنے کی کوششیں کی مگر فلسطینی علاقوں میں محفوظ اقدامات کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ اس آتشزدگی کے پیچھے کیا عوامل و مقاصد پوشیدہ ہیں اس پر کئی سوال اٹھ کھڑے ہیں۔ اس واقعہ کے پیچھے جن یہودیوں کا ہاتھ ہے انہیں ہنوز گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ عربوں کے قتل کیلئے مشتبہ یہودیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی گئی ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہی کہ آیا یہ آگ سیاسی یا قوم پرستی کے نام پر قصداً بھڑکائی گئی  ہے کیونکہ ایک عام آتشزدگی کے واقعہ سے زیادہ اس آگ کی نوعیت اور مقاصد کے بارے میں مختلف گوشوں سے شبہات ظاہر کئے گئے ہیں۔ گذشتہ ہفتہ اس آگ سے متاثر ہونے والے یہودیوں کے مکانات کو نقصان پہنچنے پر معاوضہ دینے میں بھی اسرائیلی حکومت کی جانبداری پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ آگ کے شعلوں کی نوعیت اور اس حوالے سے اسرائیلی حکومت کی پیدا کردہ ہیجانی کیفیت بھی مشتبہ معلوم ہورہی ہے۔ کیا یہ آگ کسی دہشت گرد کارروائیوں کا شرپسندانہ عمل ہے۔ جہاں متاثرین کو فوری امداد پہنچانے کے علاوہ انہیں معاوضہ بھی دیا گیا اور فلسطینی علاقوں کو یکسر نظرانداز کردیا گیا۔ یہ بدبختی کی بات ہیکہ جن فلسطینیوں کے مکانات اور املاک تباہ ہوئے ان تک کوئی بھی راحت، امداد نہیں پہنچائی گئی اور آگ لگانے کے ذمہ داروں کو بھی ہنوز گرفتار نہیں کیا گیا۔ ان یہودیوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی جن کے سوشیل میڈیا پر عربوں نے قتل کی اپیل کی گئیہے۔ فلسطینیوں کی تباہی اور ان کی بربادی کی تمنا رکھنے والے یہ یہودی شرپسند عناصر فلسطینی عوام کو ہونے والے نقصانات پر خوشیاں مناتے ہیں۔ انہیں سزائیں نہیں دی جاتی۔ یہودیوں کو ہر غلط کام کی چھوٹ دی جاتی ہے۔ سوشیل میڈیا سائنس پر فلسطینیوں اور عربوں پر نفرت انگیز پوسٹس روانہ کرنے اور نفرت کا اظہار کرنے والے پیامات کے باوجود اسرائیلی صحافیوں کی بازپرس نہیں ہوتی۔ فلسطینی سرحدوں پر تعینات اسرائیلی ڈیفنس فورس کی زیادتیوں کا بھی نوٹ نہیں لیا جاتا۔ جب یہی یا اس سے بھی معمولی ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے تو یہودیوں کی طاقت ظلم و زیادتی کے ساتھ نمودار ہوتی ہے اور اس طاقت کی سرپرستی کیلئے ساری دنیا اٹھ آتی ہے۔ فلسطین کی سرحدی پولیس، یا وہاں کا شہری نظم و نسق یا ڈسٹرکٹ کوآرڈنیٹنگ آفیسرس، پبلک سیکوریٹی منسٹری یا اسرائیل لینڈ اتھاریٹی وغیرہ کی زیادتیوں کا کوئی نوٹ نہ لیا جاتا یہ سراسر انسانی حقوق کی  خلاف ورزی کے علاوہ عالمی چشم پوشی کی بدترین خرابی اور بددیانتی ہے۔ آگ لگنے اور اس کے پھیلائے جانے کے پیچھے جن کے ہاتھ ہیں اس کے بارے میں اسرائیلی انٹلیجنس عہدیداروں کو سارا علم ہوسکتا ہے۔ جو معلومات اسرائیلی صحافیوں کو حاصل ہوئی ہیں ان سے اسرائیلی انٹلیجنس ادارہ ناواقف ہونے کا اظہار کرتا ہے تو یہ ڈرامہ ہے۔ آج عالمی میڈیا پر اسرائیلی صحافت کے غلبہ کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اسی لئے اسرائیلی صحافی اپنے پیشے سے زیادہ اپنی قوم پرستی اور وطنیت کو ترجیح دے کر یہودی ہونے کا ثبوت دیتے آرہے ہیں۔ جن عوامل نے فلسطینیوں کو بے بس اور ان کی ہی سرزمین پر انہیں محروس کر رکھا ہے۔ انہیں سرخیوں میں لانے کے بجائے اسرائیلی صحافت جھوٹی رپورٹس کو ساری دنیا کے میڈیا کے سہارے پھیلاتے جارہی ہے۔ اس طرح کی گھناؤنی یہودی پالیسیوں سے ظاہر ہوتا ہیکہ وہ مشرق وسطیٰ عرب دنیا میں مسلسل مسائل پیدا کرکے بدامنی اور بے چینی کو ہوا دیتے رہنا چاہتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہ یکہ عرب دنیا کی بڑی طاقتیں بھی اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر دشمن قوت کا ساتھ دے رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT