Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کا آتشیںبم پتنگوں کا استعمال

اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کا آتشیںبم پتنگوں کا استعمال

سرحد پر یہودیوں کی ناکہ بندی کے خلاف مظاہروں میں شدت ، فلسطینیوں کو دور رہنے اسرائیلی فوج کے دھمکی آمیز پمفلٹ

غزہ ۔ 21 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام)غزہ سرحد پر اسرائیلی فوج کی جارحیت کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں نے اب آتشیں بم پتنگوں کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے ۔ اپنے اختراعی عمل کو جاری رکھتے ہوئے فلسطینی نوجوانوں نے نئے تجربے کرتے ہوئے یہودی فوج کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ نوجوان سرحد پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو اس پار پتنگوں کے ذریعہ آتشیں بم چھوڑ رہے ہیں جو اسرائیلی فوجی کیمپس کے قریب گرکر چھوٹی چھوٹی آگ پھیلارہے ہیں ۔ احتجاج کے دوران غزہ کے شہریوں نے اسرائیل کی جانب درجنوں پتنگیں چھوڑی ہیں جن کے ساتھ آگ کے گولے بھی لگے ہوئے تھے ۔ ان پتنگوں کے ساتھ انتباہ والی تحریر بھی تھی کہ اسرائیلیوں کو سرزمین فلسطین میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ غزہ سٹی کے قریب سرحد پر فلسطینیوں نے 60 سنٹی میٹرس کے پتنگوں کو تیار کیا جو فلسطینی پرچم کے رنگوں سے بنائے گئے تھے ۔ جب سے پتنگس تیار ہوئیں تو انھیں دھاتی تار سے جوڑکر فضاء میں چھوڑا گیا جب پتنگیں اسرائیلی علاقہ کی جانب پہونچ جاتی تو ان کو دھاتی تار سے منقطع کردیا جاتا اور یہ یہودی بستیوں پر جاگرتے ۔

ایک 16 سالہ نوجوان عبداﷲ نے کہاکہ ہم نے اپنا پیام یہودیوں تک پہونچانے کے لئے ان پتنگوں کو استعمال کرنا شروع کیا ہے اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ واپس لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 30 مارچ سے اس علاقہ میں شدید احتجاج ہورہے ہیں۔فلسطینی نوجوانوں کے چھوٹے چھوٹے گروپس اسرائیلی سرحدی رکاوٹوں کے قریب پہونچکر فوج پر سنگباری کرتے ہیں ۔ جلتے ہوئے ٹائیر اُن کی طرف دوڑاتے ہیں۔یہودیوں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں نے انھیں نشانہ بنانے کیلئے آتشیں بموں اور دھماکوں ڈیوائس کا بھی استعمال کیا ہے ۔ 30 مارچ سے اب تک اسرائیلی فوج نے 34 فلسطینی نوجوانوں کو ہلاک اور دیگر سینکڑوں کو زخمی کردیا ہے جبکہ اسرائیل کی جانب کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو سرحدی رکاوٹوں سے دور رکھنے کیلئے دھمکی آمیز ورقئے برسائے ہیں ۔ یہودی فوج نے ان ورقئیوں کے ذریعہ دھمکی دی ہے کہ اگر فلسطینی اس کے علاقہ میں گھسنے کی کوشش کریں تو انھیں نقصان اُٹھانا پڑے گا ۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہر طرح کی صورتحال کیلئے تیار ہیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے باشندوں پر زور دیا کہ وہ سرحد پر کی گئی ناکہ بندی اور رکاوٹوں سے دور رہیں اور ان رکاوٹوں کو توڑنے کی کوشش نہ کریں۔ اسرائیل نے فلسطینیوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حماس کی باتوں میں آکر آپ اپنی جان نہ لیں ۔ فلسطینیوں کو دھمکی دینے والے یہ پمفلٹس فوج کی جانب سے برسائے گئے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی سرحد کا دفاع کررہی ہے ۔ واضح رہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی قبضے اور مقامی آبادیوں کو برخاست کرنے کی جدوجہد کے 70 برس پورے ہونے پر احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں فلسطینیوں نے 15 مئی کو وسیع پیمانہ پر سرحدی رکاوٹوں کے خلاف احتجاج کرنے کافیصلہ کیا ہے۔

اسرائیلی فائرنگ سے مزیدچار فلسطینی ہلاک
یروشلم۔ 21 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) غزہ کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے کی جانے والی اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں چار فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک 15 سالہ لڑکا بھی شامل ہے ۔ہزاروں مظاہرین گزشتہ کئی روز سے غزہ پٹی کی اسرائیلی ناکہ بند کے خلاف احتجاج میں مصروف ہیں۔ جمعہ کے روز بھی بعض مقامات پر سرحدی باڑ پر پتھراؤ کیا گیا۔ مارچ کے اختتام سے جاری اس احتجاج میں ہلاک ہونے والے فلسطینی کی مجموعی تعداد 32 ہو چکی ہے ، جبکہ 16 سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT