Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / اسراف پر تقاریر و بیانات ، عملی میدان میں غیر سنجیدگی

اسراف پر تقاریر و بیانات ، عملی میدان میں غیر سنجیدگی

برائی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو مصلحت کے نام پر دبایا جارہا ہے ، قرآن مجید کی تاکید پر بھی عمل نہیں
گر تو مسلمان ہے

قسط (6 )
حیدرآباد۔ 11مئی (سیاست نیوز) اسراف کے متعلق طویل تقاریر و بیان سننے ملتے ہیں لیکن ان پر عمل کے معاملہ میں ہم عمومی طور پر غیر سنجیدہ واقع ہوئے ہیں۔ امت مسلمہ میں پھیلنے والی برائیوں میں شمار کی جانے والی عام برائیوں میں ’’اسراف ‘‘ شمار کیا جانے لگا ہے لیکن اس برائی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو مصلحت کے نام پر دبا دیا جاتا ہے تاکہ یہ برائی میں مبتلاء نہ رہنے کی حماقت کوئی نہ کر پائے۔ معاشرے کے ہر طبقہ میں پائی جانے والی اس برائی کے خاتمہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اس بات کا فیصلہ کرلے کہ اسے شیطان کے بھائی کی فہرست میں اپنا نام درج کروانا نہیں ہے۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں اسراف کرنے والے کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔اللہ رب العزت نے سورہ بنی اسرائیل میں رشتہ دار‘ مساکین اور مسافرین کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ مال کے بے جا خرچ نہ کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ بے جا مال خرچ کرتے ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اللہ کا نا شکرگزار ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی بیجا خرچ اور اسراف کے معاملہ میں مسلمان قوم بھی کسی دیگر قوم سے پیچھے نہیں ہے بلکہ بعض معاملات میں تو ہم دیگر اقوام سے کافی آگے بڑھ چکے ہیں۔ شہر میں آئے دن کھولے جا رہے شادی خانے اس بات کی دلیل ہیں کہ ہم کس حد تک اسراف میں مبتلاء ہوتے جارہے ہیں۔ طعام خانوں کے قیام کا مقصد مسافر وغیرہ کو سہولت پہنچاتے ہوئے تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لئے ہوا کرتی تھیں لیکن اب یہ ایک ایسی تجارت بن چکی ہے جس کے ذریعہ اسراف کی جانب راغب کیا جانے لگا ہے۔ یہ سہی ہے کہ تجارت غلط نہیں ہے لیکن گھروں کے بجائے ان مقامات کو آباد رکھنا بیشتر اوقات اسراف میں شمار ہوتا ہے۔ عام طور پر نظر آنے والے اسراف کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ نکاح میں اسراف کیا گیا‘ دعوت پر فضول خرچی کی گئی وغیرہ لیکن کیا صرف یہی اسراف ہے ؟ جی نہیں روزمرہ کی زندگی میں کیا جانا والا ہروہ خرچ اسراف میں شمار ہوتا ہے جو ضروری نہیں ہوتا۔اسی لئے اسراف سے اجتناب کی تربیت بھی اگر عملی طور پر کی جانے لگے تو حالات میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اکثر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ نوجوان نسل اسراف کے معنی و مفہوم سے ہی واقف نہیں ہے تو ایسی صورت میں نوجوان نسل کو اسراف سے بچنے کی تعلیم کیسے دی جا سکتی ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے وضو کیلئے استعمال ہونے والے پانی کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ۔ جب وضو کے لئے ضرورت سے زیادہ پانی کے استعمال سے روکا گیا ہے تو دیگر معاملات بالخصوص دولت کے بے جا خرچ کے متعلق کیا احکام ہوں گے اس کا اندازہ کیا جا سکتاہے۔ صرف تقاریب میں اسراف کی نشاندہی کے بجائے ہمیں خود اپنے گھروں میں ضائع ہونے والے کھانے پر توجہ دینی چاہئے جو کئی مرتبہ کچہرے دان اور پھر گھر کے قریب کچہرا کنڈی پر انڈیل دیا جاتا ہے یہ بھی اسراف میں شامل ہے۔ ایسے ہی ضرورت سے زیادہ کپڑے ‘گاڑیاں ‘ وغیرہ بھی اسراف کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں اسی لئے جہاں تک ممکن ہو سکے ایسے کام سے اجتناب کی ضرورت ہے جس میں دکھاوا ہو ۔دین اسلام نے ہمیں اچھا کھانے ‘ پہننے سے نہیں روکا ہے لیکن اسراف سے منع کرتے ہوئے مسکین اور رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید کی گئی ہے۔

بہت سارے ایسے خاندان ہمارے درمیان بستے ہیں جن کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول محال ہے ایسے خاندانوں کی مدد کے ذریعہ ہم اپنے روپیہ پیسہ کی صحیح سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جس کا اجر ہمیں بروز محشر عطا کرنے کا خالق کائینات نے وعدہ کیا ہے۔ اللہ جل شانہ نے اپنے حبیب پاک ﷺ کے ذریعہ جو تعلیم دی ہے ان تعلیمات میں دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن نوجوان نسل میں بڑھ رہی معاشرتی برائیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اخروی زندگی سے بے پرواہ زندگی گزارنے میں مصروف ہے۔ نوجوان نسل کی مختلف طریقوں سے عملی تربیت ممکن بنائی جا سکتی ہے لیکن اسے ممکن بنانے کے لئے ہمیں عمل کرتے ہوئے مثال پیش کرنی چاہئے۔ علماء کی جانب سے متعدد مرتبہ ایسی تقاریب کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا جہاں اسراف اور دکھاوا ہوتا ہو لیکن اس کا بھی امت پر کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے بلکہ اس معاملہ کی سنجیدگی سے بھی خود کو بے پرواہ کئے ہوئے ہیں ‘ اس بے حسی کے رویہ کو یہیں ختم نہیں کیا گیا تو شیطان کے بھائیوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT