Saturday , December 15 2018

اسراف کے خاتمہ اور تعلیم کو عام کرنے پر ہی مثالی مسلم معاشرہ کا قیام ممکن

فوج میں تقررات کیلئے بھی درخواست دینے نوجوانوں کو مشورہ ‘ بنڈلہ گوڑہ میں ’دوبہ دو ملاقات ‘ پروگرام سے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا خطاب

O O سیاست کی خدمات کی اقطاع عالم میں خصوصی پہچان : محمد معین الدین
OO شادی کے آسان مسئلہ کو گھناؤنا بنادیا گیا : ڈاکٹر شیخ سیادت علی

حیدرآباد۔ یکم اپریل ( سیاست نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے آج کہا کہ مسلمان ان دنوں معاشی اور تعلیمی اعتبار سے پست ہیں اس اہم مسئلہ کو حل کرنے سیاست سے جو کوشش کی جا رہی ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ جب تک تعلیم کو عام نہ کیا جائیگا اور خاندانوں کو شادیوں میں اسراف و جہیز کی لعنت کا خاتمہ کرنے ابھارا نہ جائیگا اس وقت تک معاشرہ مثالی معاشرہ بن نہ سکے گا ۔ جناب زاہد علی خان 83 ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام سے خطاب کر رہے تھے جو سیاست و ملت فنڈ کے زیر اہتمام ریگل کنونشن روبرو مغل انجنیئرنگ کالج بنڈلہ گوڑہ میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں پرانے شہر اور نئے شہر سے والدین کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر مہمان خصوصی جناب شیخ صادق علی بانی ریگل گروپ ‘ جناب محمد معین الدین پروپرائٹر ریگل کنونشن بنڈلہ گوڑہ تھے ۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ جن لڑکیوں کی ان دنوں شادیاں نہیں ہوئی اس کی وجہ معلوم کروانے ایک سروے کروایا گیا جس کی رپورٹ یہ آئی کہ 30 ہزار لڑکیاں پرانے شہر میں ایسی ہیں جو شادیوں کی عمر کو پار کرچکی ہیں ۔ اس لئے سیاست کی جانب سے آواز اٹھائی گئی تھی کہ شادیوں میں اسراف کو کم کرکے ایک کھانا اور ایک میٹھا پر ترجیح دی جائے تاکہ جہیز اور اسراف کو اس کے ذریعہ کم کیا جاسکے ۔ انہوں نے اس پر تاسف کا اظہار کیاکہ آج بھی شادی بیاہ میں اسراف کا معاملہ بڑے عروج پر اور منگنی کے نام پر لوگ کئی لاکھ روپئے خرچ کرتے ہوئے انواع واقسام کے ڈشش رکھ رہے ہیں جو اسراف کا بین ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شادیوں میں بیجا اسراف و فضول خرچی کو دیکھتے ہوئے میں نے طئے کیاکہ ان شادیوں میں شرکت نہ کریں ۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم محاسبہ کریں اور شادی بیاہ کے معاملات کو اسراف و فضول خرچی سے دور رکھیں ۔ انہوں نے مسرت کا اظہار کیا کہ آج پرانے شہر میں لڑکیاں تعلیم کی طرف دلچسپی بڑھا رہی ہیں ۔ اس لئے انہیں سیاست و ملت فنڈ کی جانب سے اعلی تعلیم میں داخلے دلوائے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت اقلیتوں کو 12% تحفظات کا جو واویلا مچائی ہے اس پر خاموشی اختیار کرلی گئی ہے اور حکومت اپنی میعاد کو تکمیل کرنے پر ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ جہاں اپنی صلاحیتوں کو دیگر میدانوں میں لگا رہے ہیں وہیں فوج میں بھی درخواستیں دیں ۔ آج بھی ہندوستانی مسلمان فوج میں شامل ہیں اور وہ بہتر طور پر ملک کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ جناب محمد معین الدین نے کہا کہ ریگل کنونشن کے تیار ہونے کے بعد خواہش تھی کہ ملت اسلامیہ کے لڑکے اور لڑکوں کا یہ اولین کام جو سیاست و ملت فنڈ سے عرصہ دراز سے انجام پا رہا ہے وہ ریگل کنونشن میں انجام پائے ۔ انہوں نے جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست اور جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر کی رشتوں کے ضمن میں شبانہ روز محنت کی سراہنا کی اور کہا کہ پروگرام اقطاع عالم میں اپنی ایک پہچان بنا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج والدین کی یہ خواہش کہ لڑکیوں کا انتخاب خوبصورت حسین بنیاد پر ہو لیکن ایک کامیاب ازدواجی زندگی کیلئے خوبصورتی کے ساتھ صالح کردار اور مومنانہ اوصاف ضروری ہیں جبھی گھر کو جنت ایک شوہر اور بیوی بناسکتے ہیں ۔ ڈاکٹر شیخ سیادت علی نے کہا کہ مسلمان ہمیشہ اپنے ماضی کی طرف نظر دوڑائیں کہ ماضی کتنا تابناک و روشن تھا ۔ انہوں نے کہا کہ شادی کا مسئلہ جو کہ آسان ہونا چاہئے ہم نے اسے ایک گھناونا بنا دیا ۔ آج نئے طریقہ اپنی زندگیوں میں اس طرح اپنا ئے جا رہے ہیں مغربی تہذیب میں ان طریقوں کو دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہوتی ہوگی ۔ اس موقع پر جناب شیخ صاد ق علی اور جناب محمد معین الدین کو جناب زاہد علی خان کے ہاتھوں خطاطی کے نادر نمونے تحفتاً پیش کئے گئے ۔ دوبہ دو ملاقات پروگرام میں علحدہ کاؤنٹرس قائم کئے گئے تھے ۔

انجنیئرنگ میں جناب زاہد فاروقی ‘ انورالدین اور والینٹرس محمدی اور شہناز ‘ میڈیسن کاؤنٹر پر ڈاکٹر دردانہ ‘ڈاکٹر سیادت علی اور ثناء ‘ پوسٹ گریجویٹ میں سید ناظم الدین ‘ تسکین اور مہک ‘ گریجویٹ کاونٹر رائیس النساء ‘ سید الیاس باشاہ اور اقراء ‘ ایس ایس سی کا ونٹر عالم جعفری ‘ لطیف النساء ‘ مہر ‘ عقدثانی کاؤنٹر پر ثانیہ ریحانہ ‘ آمنہ فاطمہ اور مہروز ‘ تاخیر سے شادی کاؤنٹر پر کوثر جہاںنے والدین اور سرپرستوں کی رہبری کا فریضہ انجام دیا ۔ تیز گرمی کے باوجود والدین اور سرپرستوں کی بڑی تعداد آج کے پروگرام میں شریک تھی ۔ اس طرح لڑکیوں کے 200 سے زائد اور لڑکوں کے 100 سے زائد رجسٹریشن ہوئے ۔ اس موقع پر اس پروگرام کی ملک کی تمام ریاستوں کے اضلاع اور بیرونی ممالک میں مقیم حیدرآبادی فیملیز کے استفادہ کیلئے راست ملاحظہ کرنے پروگرام کے آغاز سے اختتام تک سیاست کے فیس بک اسکائپ ‘ یوٹیوپ پر راست مشاہدہ کی سہولت مہیا کی گئی ۔ بیرونی ممالک سعودی عرب ‘ کویت ‘ دوحہ قطر ’ امریکہ ‘ کینڈا ‘ حیدرآباد جرمنی ‘ لندن آسٹریلیا ‘جاپانی اور دوسرے ممالک میں موجود مرد و خواتین نے سیاست فیس بک کے ذریعہ 60 ہزار Reach اور 10 ہزار سے زائد Views اور 100 سے زائد Comments موصول ہوئے ۔ پروگرام کو جناب محمد عابد محی الدین ‘ جناب زاہد فاروقی نے آن لائن کے ذریعہ پہنچانے میں تعاون کیا ۔ اور ان کے ہمراہ مقیم جناب فہیم انصاری ‘ سید رضوان ‘ سید نظام الدین ‘ (فوٹوز) محمد مظہر ‘ سیداظہر اور دوسروں کا تعاون رہا ہے ۔ اور میں اس پروگرام میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلوں کیلئے آن لائن رجسٹریشن کاؤنٹر بھی قائم کیا گیا تاکہ والدین اس سے استفادہ کرسکے اور وہیں اس کاؤنٹر کے ذریعہ آسرا اسکیم کے تحت بیواوں ‘ معذورین ‘ عمر رسیدہ افراد میں وظائف دے رہی ہے ۔ اس کی تفصیلات سے واقف کروایا گیا ۔ جناب خالد محی الدین کوآرڈینٹر نے والدین اور سرپرسرتوں کی رہبری و رہنمائی کی ۔ جناب ماجد انصاری ‘ شاہد حسین ‘ ڈاکٹر ایوب حیدری ‘ حیات حسین حبیب اور دوسرے موجود تھے۔ لڑکیوں کے رجسٹریشن کاؤنٹر پر ترنم ‘ مہک ‘ آمنہ حمیرہ ‘ آمنہ اور لڑکیوں کے رجسٹریشن کاؤنٹر پر سیما ‘ احمدی ‘ جبین ‘ اسماء اور یاسمین نے رجسٹریشن کئے ۔ ریگل کنونشن کے انتظامیہ اور محکمہ پولیس اور دوسروں سے اظہار تشکر کیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT