Saturday , December 15 2018

اسرو انسان بردار خلائی مشن کیلئے سرگرم : ڈاکٹر رادھا کرشنن

ممبئی 3 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) منگلیان کی کامیابی کے بعد ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم (اسرو) ایسی ٹیکنالوجی فروغ دینے پر کام کررہی ہے کہ خلاء میں انسان بردار مشن بھیجا جاسکے، اِس تنظیم کے سابق سربراہ ڈاکٹر کے رادھا کرشنن نے آج یہ بات کہی۔ وہ یہاں 102 ویں انڈین سائنس کانگریس کے افتتاح کے موقع پر سینئر خلائی سائنسداں پرمود کالے کے ساتھ گ

ممبئی 3 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) منگلیان کی کامیابی کے بعد ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم (اسرو) ایسی ٹیکنالوجی فروغ دینے پر کام کررہی ہے کہ خلاء میں انسان بردار مشن بھیجا جاسکے، اِس تنظیم کے سابق سربراہ ڈاکٹر کے رادھا کرشنن نے آج یہ بات کہی۔ وہ یہاں 102 ویں انڈین سائنس کانگریس کے افتتاح کے موقع پر سینئر خلائی سائنسداں پرمود کالے کے ساتھ گفتگو کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم خلاء میں روبوٹس بھیجنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اب ہندوستان میں دستیاب ٹیکنالوجی کو مزید چند قدم آگے لیجانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم انسانوں کو خلاء میں روانہ کرسکیں۔ اُنھوں نے کہاکہ انسانوں کو خلاء میں بھیجنے کے لئے مناسب ماحول درکار ہے اور ارکان عملہ کے لئے ضروری لائف سپورٹ سسٹم بھی چاہئے تاکہ ناکامی کے امکانات کو کم سے کم تر کیا جاسکے اور ممکنہ ناکامی پر بچ نکلنے کا کوئی سسٹم بھی موجود رہے۔ مریخ مشن کو درپیش چیالنجوں کے تعلق سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ رکاوٹوں کی شروعات سیاروں کے مخصوص مقام کے تعین کے ساتھ ہوتی ہے اس سے مشن کی لانچنگ کے لئے دستیاب مواقع محدود ہوجاتے ہیں۔ یہ مشن 4 سال 2 ماہ کے ریکارڈ وقت میں مکمل کرلیا گیا اور خلائی گاڑی کو 18 ماہ کے نہایت مختصر عرصہ میں جانچ لیا گیا۔ ہمیں توقع تھی کہ اِس کے کارکرد رہنے کی مدت 6 ماہ ہوگی۔ اِس نے پہلے ہی مدار مریخ میں اپنے وجود کے 100 دن مکمل کرلئے ہیں اور توقع ہے کہ یہ کم از کم 6 ماہ سے زائد عرصہ تک برقرار رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT