Sunday , November 18 2018
Home / Top Stories / اسلام، فرانسیسی معاشرہ سے ہم آہنگ ،سروے میں فرنچ شہریوں کی رائے

اسلام، فرانسیسی معاشرہ سے ہم آہنگ ،سروے میں فرنچ شہریوں کی رائے

نئی دہلی ۔ 14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) یوروپ میں فرانس ایسا ملک ہے جہاں دوسرے ملکوں کی بہ نسبت مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی پائی جاتی ہے۔ فرانس میں مسلمان خوشحال زندگی گذارتے ہیں۔ قومی تعمیر میںاہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہیکہ فرانس میں اسلام اور مسلم دشمن طاقتیں نہیں چاہتی کہ وہاں مسلمانوں کی اہمیت میں اضافہ ہو۔ فرانسیسی سیاست میں ان کا رول بڑھے۔ ان ہی مقاصد اور اپنے ناپاک عزائم کے ذریعہ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلم معاشرہ فرانسیسی معاشرہ سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتا لیکن مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتاہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے کے مصداق مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمیاں و خدشات پیدا کرنا، افواہیں پھیلانے کی لاکھ کوششوں کے باوجود ایک نئے جائزہ میں یہ بات سامنے آتی ہیکہ فرانسیسی عوام اسلام اور مسلمانوں کو قبول کرنے لگے ہیں۔ نئے جائزہ میں انکشاف ہوا کہ 56 فیصد فرانسیسی عوام کا ماننا ہیکہ اسلام فرانسیسی معاشرہ کے اقدار سے ہم آہنگ ہے حالانکہ دو برس قبل ایسا رجحان نہیں پایا جاتا تھا۔ اس وقت 50 فیصد فرانسیسی باشندوں کا خیال تھا کہ مسلمان فرانسیسی معاشرہ سے میل نہیں کھاتے اور ہم آہنگ نہیں ہیں۔ لی جنرل ڈی ڈیمانشے کی طرف سے IFOP نے اس اسٹڈی کا اہتمام کیا، جس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 43 فیصد فرانسیسی باشندوں کا ماننا ہیکہ مذہب فرانسی زندگی سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ یہ سروے ایک ایسے وقت سامنے آیا جب صدر ایمانول میکرون فرانسی معاشرہ میں اسلام کے کردار پر اپنے ویژن کا اعلان کرنے والے ہیں اور اس گھڑی کا فرانسی باشندے بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ لی جرنل ڈی ڈیمانشے کو گذشتہ سال نومبر میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایمانول میکرون نے کہا تھا کہ وہ فرانس میں اسلام کو ازسرنو منظم کرنے کے خواہاں ہے تاکہ بنیاد پرستی کے خلاف لڑا جاسکے اور قومی ہم آہنگی کا تحفظ ہو۔ ستمبر 2017ء میں بھی ایک سروے میں کہا گیا جس میں یہ دیکھا گیا کہ فرانسیسی مسلمان اپنے ملک کے بارے میں کیا احساسات رکھتے ہیں۔ اس سروے میں دیکھا گیا کہ فرانسیسی مسلمانوں کا اپنے ملک سے مضبوط رشتہ ہے اور ملک کی محبت کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور فرانسیسی مسلمان اس معاملہ میں دوسرے یوروپی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں سے آگے ہیں۔ سروے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ فرانس میں اعلیٰ سطحوں پر مسلمانوں کے خلاف امتیاز بھی پایا جاتا ہے۔ اسٹڈی میں پہلی نسل کے مسلمانوں میں اپنے نئی نسل سے کہیں زیادہ حب الوطنی پائی گئی۔ جرنل ڈی ڈیمانشے کے سروے میں عوام سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ حلال غذائی اشیاء پر ٹیکس سے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں؟ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو فرانس میں مسلمانوں کی عبادتگاہوں پر استعمال کیا جائے گا۔ اس تعلق سے ان کمی سوچ و فکر کیا ہے؟ اس نکتہ پر کوئی مباحث نہیں ہوا۔ جواب دینے والوں کی اکثریت (70 فیصد) نے اس تجویز کی مخالفت کی صرف 29 فیصد فرانسیسی عوام نے حلال ٹیکس کی تائید کی۔ سروے کے ذریعہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ بائیں بامو کے رائے دہندوں کے خیال میں مسلمان فرانسیسی معاشرہ سے ہم آہنگ ہیں۔ فرانس کی سوشلسٹ پارٹی کی تائید کرنے والے 73 فیصد لوگوں نے ایقان ہیکہ مسلمان فرانسیسی معاشرہ سے ہم آہنگ ہیں جبکہ لیفٹ ونگ پارٹی لافرانس انسومائنر کی تائید کرنے والے 60 فیصد رائے دہندوںکا بھی فرانسیسی مسلمانوں کے بارے میں یہی خیال ہے ۔ فرانسیسی صدر ایمانول میکرون کی تائید کرنے والے 50 فیصد لوگوں کی بھی فرانسیسی مسلمانوں کے بارے میں یہی رائے ہے۔ اس کے برعکس دائیں بازو کی لیس ریپبلکنس پارٹی کے حامیوں میں سے 63 فیصد کے خیال میں مذہب فرانسیسی معاشرتی اقدار سے میل نہیں کھاتا۔

TOPPOPULARRECENT