Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / اسلامی اتحاد کی کامیابی کا دارومدار سعودی عرب پر

اسلامی اتحاد کی کامیابی کا دارومدار سعودی عرب پر

فی زمانہ عالم اسلام اور عرب دنیا کا نازک ترین دور، اسلام کو بدنام کرنے کی مہم اور سازشیں جاری : صدر تیونس
ریاض ۔ 25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی نے سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف قائم کردہ اسلامی عسکری اتحاد کی حمایت کرتے ہوئے ریاض کی خدمات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والا اسلامی اتحاد محض ایک فوجی اتحاد نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مؤثر بنانے کا جامع منصوبہ ہے جس کے تحت دہشت گردی کی جنگ مذہبی، سیاسی ، ثقافتی اور فوجی میدانوں میں بھی لڑی جائے گی۔ میڈیا کے مطابق اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران تیونسی صدر نے ایک بیان میں کہا کہ ’سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردی مخالف اسلامی فوجی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فی زمانہ عالم اسلام اور عرب دنیا نازک ترین حالات سے گذر رہے ہیں۔ اسلام کو بدنام کرنے کی مہمات جاری ہیں۔ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے کا الزام عالم اسلام اور عرب ممالک پر عاید کیا جا رہا ہے۔ مسلمان ممالک کا دہشت گردی کے خلاف اتحاد اسلام کے خلاف آگ برسانے والوں کو بھی لگام دے گا اور الزام تراشی کرنے والوں کے منہ بند کردے گا۔ اسلامی عسکری اتحاد کی قیادت سعودی عرب نے اپنے ہاتھ میں لی ہے اور اس کی کامیابی کا بیڑا بھی ریاض ہی نے اٹھایا ہے۔ صدر باجی قاید السبسی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اسلامی عسکری اتحاد کی تشکیل کی مبارک دینے الا پہلا ملک ہے۔ تیونس خود دہشت گردی کا شکار ہے اور ہم دہشت گردی کے ناسور کے خلاف فیصلہ کن لڑائی لڑ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پر 22 اور 23 دسمبر کو سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے سعودی فرمانروا سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ مبصرین کے خیال میں قاید السبسی کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے نے تیونس کو مسلمان عرب ممالک میں دوبارہ شامل کرنے کیساتھ ساتھ عالم اسلام اور عرب دنیا میں تیونس کی اہمیت کو تقویت بخشی ہے۔

TOPPOPULARRECENT