Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / اسلامی انتہاء پسندی کے خاتمہ کیلئے عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائیگا : ٹرمپ

اسلامی انتہاء پسندی کے خاتمہ کیلئے عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائیگا : ٹرمپ

اوباما نے فوجیں باز طلب کرکے القاعدہ و داعش کو   پنپنیکا موقع دیا
واشنگٹن ۔ 16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر عالمی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عرب ممالک سے دولت اسلامی داعش۔ اسلامی بنیاد پرستی بالخصوص ایران سے نمٹنے میں مدد طلب کی ہے۔ امریکی ریاست اوہائیو میں گذشتہ روز اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب میں ڈونالڈ ٹرمپ کا لب ولہجہ کافی حد تک ماضی کی تقاریر سے مختلف تھا۔ اگرچہ انہوں نے اسلامی بنیاد پرستی کا بار بار حوالہ دیا تاہم انہوں نے عرب ممالک، اعتدال پسند مسلمان ملکوں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ داعش جیسے گروپوں اور ایران سے نمٹنے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر بنے تو مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک بالخصوص اسرائیل، اردن اور مصر کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی قباحت نہیں کہ داعش کی سرکوبی کے لیے امریکہ روس، عرب ممالک اور ناٹو کے ساتھ مل کر کام کرے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے حسب معمول مشرق وسطیٰ کے بارے میں صدر اوباما کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اوباما عراق سے فوجیں واپس نہ بلاتے تو بغداد میں القاعدہ اور داعش کو سر اٹھانے اور کامیابیاں حاصل کرنے کا موقع کبھی نہ ملتا۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی حریف صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن پر بھی خوب تنقید کی اور کہا کہ ہلاری کسی دور میں لیبیا میں فوجیں داخل کرنے کی سب سے بڑی حامی تھی مگر اس کی غلطیوں کے نتیجے میں داعش اس وقت لیبیا اور کئی دوسرے ملکوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی یہ الزام عائد کرچکے ہیں کہ امریکی انتظامیہ کی غلطیوں کے نتیجے میں داعش اس وقت 18 ملکوں میں سرگرم عمل ہے۔ ٹرمپ کیگذشتہ روز کے خطاب میں امریکہ میں غیرملکی مسلمانوں کے خلاف لب ولہجہ کافی دھیما رہا۔ البتہ انہوں نے بنیاد پرست اسلامی نظریات کی بیخ کنی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ انتہاپسندی اور ایرانی خطرے کے تدارک کے لیے اعتدال پسند عرب ملکوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر ولید فارس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو اپنے بعض بیانات پر عوامی اور عالمی رد عمل کا اندازہ ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ماضی کے برعکس اپنا طرز گفتگو تبدیل کردیا ہے۔ العربیہ سے بات کرتے ہوئے فارس نے کہا کہ ذاتی طورپر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام کے دشمن ہرگز نہیں ہیں، البتہ انہوں نے مسلمانوں کے بارے میں جو متنازعہ بیان بازی کی تھی اب اس کی اصلاح کر رہے ہیں۔ انہیں بہت سے وفاداروں نے بتایا کہ ان کے مسلمان مخالف بیانات ان کی صدارتی مہم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ریاست اوہائیو میں خطاب کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے بڑھتے خطرات کی روک تھام کے لیے عرب ممالک کے ساتھ اتحاد کا تصور پیش کیا۔ یہاں بھی انہوں نے باراک اوباما کی انتظامیہ کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ امریکی حکومت نے ایران سے معاہدہ کرکے تہران کو کروڑوں ڈالر کی رقوم کی منتقلی کی راہ ہموار کی۔ ایران کو ملنے والی یہ رقوم انتہا پسند گروپوں کو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایک بار پھر ایران کو عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مشیر ولید فارس نے بتایا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے خیال میں ایرانی حکومت دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سرپرستی، ان کی عسکری تربیت اور مالی معاونت کی مرتکب ہے۔ شام، عراق، لبنان اور یمن میں سرگرم شدت پسند گروپوں کو ایران ہی کی طرف سے مالی اور عسکری مدد مل رہی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے بڑھتے اثر ورسوخ کو روکنے کے لیے عرب ممالک کے ساتھ اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اعتدال پسند عرب ممالک ایران کے خطرے کی انسداد کے لیے باہم متحد ہو جائیں۔

TOPPOPULARRECENT