Sunday , September 23 2018
Home / دنیا / اسلامی انتہا پسند، امریکہ کیخلاف جنگ کے دریچے

اسلامی انتہا پسند، امریکہ کیخلاف جنگ کے دریچے

واشنگٹن۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی تاریخ کی پہلی ہندو قانون ساز تلسی گیبارڈ نے کہا کہ ’’اسلامی انتہا پسند، امریکہ کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں اور اوباما انتظامیہ ’’دشمن‘‘ کو پہنچاننے سے انکار کررہا ہے‘‘۔ تلسی گیبارڈ نے جو دو ہفتے طویل دورۂ ہند سے واپس پہونچی ہیں۔ سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’فی الحال سب سے ب

واشنگٹن۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی تاریخ کی پہلی ہندو قانون ساز تلسی گیبارڈ نے کہا کہ ’’اسلامی انتہا پسند، امریکہ کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں اور اوباما انتظامیہ ’’دشمن‘‘ کو پہنچاننے سے انکار کررہا ہے‘‘۔ تلسی گیبارڈ نے جو دو ہفتے طویل دورۂ ہند سے واپس پہونچی ہیں۔ سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’فی الحال سب سے بڑی مایوسی کی بات یہ ہے کہ جب ہم وہاں کی صورتِ حال دیکھتے ہیں، ہمارا انتظامیہ یہ پہچاننے سے انکار کررہا ہے کہ ہمارا دشمن کون ہے اور جب تک ایسا ہوتا رہے گا۔ دشمن کو شکست دینے کی حکمت عملی تیار کرنا ناممکن ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں یہ پہچاننا ہوگا کہ یہ سب کچھ انتہا پسند اسلام کے بارے میں ہے۔ یہ ایک فوجی جنگ جیسا ہے کیونکہ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے اور ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ نظریہ کیا ہے اور اس کو چیلنج کرنا ہوگا۔ اس کو سمجھنا ہوگا تاکہ ہم اس کو شکست دے سکیں اور ہم اپنے شہریوں کا تحفظ کرسکیں اور امریکی شہریوں کا تحفظ کرسکیں‘‘۔ تلسی گیبارڈ جنہوں نے دوسری میعاد کے لئے ایوان نمائندگان کی حیثیت سے گزشتہ ہفتہ حلف لیا، مزید کہا کہ ’’یہ کچھ ایسے اقدامات ہیں کہ عراق، شام ،

نائجیریا اور دنیا کے دیگر حصوں کو دیکھتے ہوئے کرنا ہوگا‘‘۔ تلسی گیبارڈ نے ان کی تجاویز محض آئی ایس آئی ایس (داعش) یا القاعدہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ انتہا پسند اسلامی ایجنڈہ سے دنیا بھر میں لاحق مجموعی خطرہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ تلسی نے کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ صدر اور وائیٹ ہاؤز نے کبھی بھی یہ نہیں کہ اسلامی انتہا پسندوں کی یہ جنگ امریکہ کے خلاف ہے یا مغربی ممالک کے خلاف ہے۔ تلسی گیبارڈ بھی صدر بارک اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں اور امریکی ایوان (کانگریس) میں ان (اوباما) ہی کی آبائی ریاست ہوائی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT