Friday , November 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / ’’اسلامی تربیت مسلم معاشرے کی اہم ضرورت‘‘

’’اسلامی تربیت مسلم معاشرے کی اہم ضرورت‘‘

از : ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
اسلامی تعلیمات کے تین اہم موضوعات (۱)اعتقادات (۲)عبادات اور (۳)معاملات ہیں ۔ جس طرح اعتقادات میں تصور توحید و رسالت اور عبادات میں نماز کو اہمیت اور فضیلت حاصل ہے اسی طرح معاملات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کو فوقیت حاصل ہے۔ قرآن حکیم کی متعدد آیات میں رب کی عبادت کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم ملتا ہے ۔ارشاد ربانی ہے’’اور یاد کرو جب لیا تھا ہم نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے (اس بات کا) کہ نہ عبادت کرنا بجز اللہ کے اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا‘‘ (سورۃ البقرۃ آیت ۸۳) احادیث شریفہ میں بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا میں نے پوچھا پھر کون سا عمل ؟ فرمایا ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا۔ (بخاری، مسلم)
قرآن حکیم اور احادیث نبویہ ﷺ میں عبادت رب کے فوری بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا جارہا ہے چونکہ رب کی ربوبیت اور والدین کی تربیت میں بہت ساری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ جس طرح رب بغیر کسی لالچ اور طمع کی بندوں کی پرورش کرتا ہے اسی طرح والدین بھی اولادکو پالتے ہیں، جس طرح ہر دین میں خدا کے تصور کو اہمیت دی گئی ہے اسی طرح ہر دین میں والدین کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیا گیاہے، جس طرح بندے پر رب کی اطاعت و فرمانبردی ہر لحظہ لازم ہے اسی طرح اولاد پر والدین کی فرمانبرداری کرنا ہر وقت ضروری ہے، جس طرح انسان رب کی عبادت کا حق ادا نہیں کرسکتا اسی طرح اولاد بھی اپنے والدین کا حق ادا نہیں کرسکتی۔

شریعت مطہرہ میں توحید کے بعد والدین کو سب سے اونچا درجہ حاصل ہے۔رحمت عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ’’کسی باپ کی طرف سے اس کی اولاد کے لیے سب سے بہتر تحفہ یہ ہے کہ وہ اس کی اچھی تربیت کرے‘‘ (ترمذی شریف)  لہذا مسلمانوں کو بچوں کی تربیت پر نہ صرف توجہ دینی ہوگی بلکہ تربیت کے وہی اصول اپنانے ہوں گے جو مربی حقیقی نے قرآن کی پہلی سورت یعنی سورۃ الفاتحہ میں بیان فرمائے ہیں۔بلا تفریق مذہب و ملت ہر والدین اپنی اولاد کی تربیت کرتے ہیں لیکن اکثریت کی تربیت صرف جسمانی تقاضوں کو پورا کرنے اور عصری تعلیم اور تقاضوںکو پورا کرنے کو ہی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ہمارے مشاہدے میں آتا ہے کہ اگر کوئی بچہ اعلی تعلیم حاصل کرلیتا ہے تو والدین سکون کی سانس لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تربیت کا حق ادا کردیا۔ اگر تربیت کا مقصد تعلیم سے آراستہ کرنا ہی ہوتا اور مجرد تعلیم ہی پر انسان کی دینی اور دنیوی کامیابی کا مدار ہوتا تو شیطان ہرگز ملعون نہ ہوتا چونکہ وہ تو فرشتوں کا بھی استاد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم کی پہلی آیت پاک جس کا تعلق تعلیم سے ہے اس میں مجرد پڑھنے کا حکم نہیں ہے بلکہ ارشاد ہورہا ہے پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ لیکن ہم لفظ ’’اقرا‘‘ پر تو عمل کررہے ہیں لیکن ’’باسم ربک الذی خلق‘‘ کو کہیں نہ کہیں فراموش کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں۔

انسان کی حقیقی دینی و دنیوی کامیابی و کامرانی کا مدار روحانی تربیت پر منحصر ہے۔ موجودہ دور میں والدین نے اس پہلو کو تقریباً فراموش کردیا ہے جبکہ بحیثیت مسلمان ہمارے لیے یہ پہلو زیادہ اہم ہیں چنانچہ جب مسلم گھرانوں میں بچہ یا بچی پیدا ہوتی ہے تو تحنیک (یعنی چبائی ہوئی گھجور یا شہید بچہ کو چٹوانا ) کے فوری اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جاتی ہے یعنی جسمانی و روحانی تربیت کا یکساں خیال رکھا جاتا ہے ۔ علماء کرام نے یہاں تک بیان فرمایا ہے کہ تحنیک کرنے والا شخص صالح اور متقی ہو۔ جسمانی تقاضے کو پورا کرنے میں بھی روحانیت کو اہمیت و فوقیت دی گئی ہے لیکن آج ہم جسمانی تربیت کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں ۔ اس کے برعکس ہمارے اسلاف کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس دنیوی اسباب وافر مقدار میں مہیا نہ ہونے کے باوجود ان کی زندگیاں نہ صرف قابل رشک تھیں بلکہ اغیار کیلئے بھی نمونہ تھیں چونکہ وہ جسمانی تربیت سے کہیں زیادہ روحانی تربیت کو ترجیح اور فوقیت دیتے تھے۔
دین اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان دونوں میں توازن کو برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لہذا بحیثیت مسلمان ہمیں تربیت کے دونوں پہلوئوں کو مد نظر رکھنا چاہیے تب ہی والدین اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوپائیں گے۔ جب والدین اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ نبھانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو والدین کو کسی کے سامنے یہ کہنا نہ پڑے گا کہ میری اولاد بڑی نافرمان اور غیر سماجی اور غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث ہے، جس کے باعث والدین کا  سر قوم اور ملک کے سامنے شرم سے جھک جائے، ضعیفی کے عالم میں بھی    اشیا مایحتاج کے حصول کیلئے والدین کو دوڑ دھوپ کرنے کی اور اپنے ہی گھر میں اجنبیوں کی طرح رہنے کی نوبت نہیں آئیگی اور  بیت المعمرین (Old Age Home) کے چلن میں تیزی سے گراوٹ آئیگی، یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب والدین تربیت کے ظاہری اور باطنی پہلوئوں کو مد نظر رکھ کراپنی اولاد کی تربیت کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT