Thursday , November 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / اسلامی تعلیمات میں حقوق العبادپر زور

اسلامی تعلیمات میں حقوق العبادپر زور

کنزالاسلام حسین بن احمد قرموشی
حقوق العباد کے معنی ہے انسانوں کے حقوق انسانوں پر ۔ اسلامی تعلیمات میں حقوق العباد پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ میدانِ حشر میں بھی حقوق العباد کے متعلق پوچھ ہوگی ۔ اور اس بارے میں ادنیٰ غلطی بھی قابل گرفت ہوگی ۔ ہر انسان اپنے عزیز و اقارب مساکین ، یتامیٰ ، مہمان ، مسافر ، ملک و ملت کے متعلق اپنے فرائض انجام دیتا رہے۔ ماں ، باپ ، محلہ داروں ، ہم وطنوں سے اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتا رہے ۔ حقوق العباد میں آداب مجلس ، گفتگو کے آداب اور ملاقات کے آداب بھی شامل ہیں۔ قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ بیشک مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔ لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اﷲ سے ڈرو ۔ اُمید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ( سورہ ٔحجرات۔۱۰) اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو عالمگیر برادری بنادیا ہے ۔ مسلمانوں کے درمیان بے انتہا اخوت اور رواداری پیدا کردی یہ جو دوسری قوموں میں نہیں پائی جاتی ۔ اس آیت مبارکہ میں دیئے گئے حکم کی وضاحت حضور پاک ﷺ کی کئی احادیث شریف سے ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور پاک ﷺ نے مجھے تین باتوں پر بیعت لی (۱) نماز قائم کرو (۲) زکوٰۃ پابندی سے ادا کرو (۳) ہر مسلمان کا خیرخواہ بنو۔(بخاری شریف)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان و عزت کی حفاظت اور اس کا احترام کرنا واجب ہے۔ مزید قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو ۔ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے مت پکارو ۔ ایمان لانے کے بعد غلط نام سے پکارنا بُری بات ہے ۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں( سورۂ حجرات آیت ۱۱) کسی پر الزام لگانا ، اعتراض کرنا ، عیب جوئی کرنا ، زیرلب یا اشاروں کے ذریعہ کسی کو نشانہ بنانا گناہ ہے کیونکہ ان افعال سے آپس کے تعلقات بگڑتے ہیں اور معاشرے میں بگاڑ اور فساد پیدا ہوتا ہے اس لئے اﷲ تعالیٰ نے ان سب افعال سے منع فرمایاہے۔ کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ، پڑوسی اور مہمان کا خیال رکھنا ، یتیموں ، محتاجوں اور غریبوں کی مدد کرنا سب حقوق العباد کا حصہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT