Monday , December 11 2017
Home / دنیا / اسلامی تہذیب نہ ہوتی تو ارسطو اور سقراط بھی متعارف نہ ہوتے: الجبیر

اسلامی تہذیب نہ ہوتی تو ارسطو اور سقراط بھی متعارف نہ ہوتے: الجبیر

برلن ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ “سعودی عرب اس وقت دنیا کے سامنے تعلیم ، رواداری اور دوسروں کو قبول کرنے کی اہمیت باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے.. اور یہ معاشرے کو روشن کرنے کا راستہ ہے”۔الجبیر نے یہ بات جرمنی کے دارالحکومت برلن میں اپنے ایک جامع لیکچر کے دوران مذہبِ اسلام اور تہذیب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ “تہذیب کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہ رواداری پر مبنی اور دوسروں کے حوالے سے کشادگی کی حامل ہو”۔ انہوں نے واضح کیا کہ “جب اسلامی اور عرب دنیا پر تاریکی نے ڈیرہ ڈالا تو دنیا نے جان کاری ، علم ، جِدّت اور تخیلقی سوچ کو کھو دیا۔ اس کی سزا کے طور پر ہم دوسروں کو قبول کرنے سے محروم ہو گئے اور تہذیب جمود کا شکار ہو گئی”۔عادل الجبیر نے باور کرایا کہ “اگر اسلامی تہذیب نہ ہوتی تو آج کی دنیا کے سامنے ارسطو اور سقراط کی ثقافت کو بیان کرنے والے مؤرخ بھی نہ ہوتے.. اور اگر عرب تہذیب کا وجود نہ ہوتا تو مشرق کبھی بھی اس طرح سے مغرب کے ساتھ مربوط نہ ہوتا”۔

TOPPOPULARRECENT