Sunday , October 21 2018
Home / دنیا / ’’اسلامی جمہوریہ کے مقام اور طاقت کو آپ جانتے ہیں‘‘

’’اسلامی جمہوریہ کے مقام اور طاقت کو آپ جانتے ہیں‘‘

ایران کی طاقت کو للکار کر آپ کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے، سعودی عرب کو حسن روحانی کی وارننگ
تہران ۔ 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مشرق وسطیٰ میں دو طاقتور علاقائی حریفوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان جاری لفظی جنگ میں مزید شدت پیدا ہوگئی۔ جب ایران کے صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کو آج خبردار کیا کہ تہران کی طاقت کو للکارنے سے اس (ریاض) کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ صدر روحانی نے کہا کہ ’’تم (سعودی عرب) اسلامی جمہوریہ کی طاقت اور مقام کو جانتے ہیں۔ ہمارے عوام تم سے کہیں زیادہ طاقتور ہیںاور ایرانی عوام کے خلاف تم کچھ کرنے کے قابل و اہل نہیں ہیں‘‘۔ حسن روحانی نے مزید کہا کہ ’’امریکہ اور اس کے حلیف بھی ہمارے خلاف اپنی تمام تر صلاحیتیں جھونک چکے ہیں تھے اور انہوں نے کچھ نہیں پایا‘‘۔ حسن روحانی ایسا محسوس ہوتا ہیکہ 1980-88 کی ایران ۔ عراق جنگ کا حوالہ دے رہے تھے، جس میں انقلابی ایران نے کئی مغربی حکومتوں اور خلیجی عرب ریاستوں کی تائید سے اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین کی طرف سے چھیڑی گئی جنگ میں اپنی کامیابی کا حوالہ دے رہے تھے۔ روحانی کی اس وارننگ سے قبل سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ مملکت سعودی عرب میں مقررہ نشانوں کے خلاف استعمال کیلئے وہ (ایران) یمن کے حوثی باغیوں کو میزائیلس فراہم کررہا ہے۔ اس اقدام کو انہوں نے ’’راست فوجی جارحیت‘‘ قرار دیا تھا۔ تاہم ایران نے حوثی باغیوں کو کسی بھی قسم کے میزائلس کی سربراہی کے الزام کی پرزور تردید کی ہے اور کہا تھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب فوجی اتحاد کی فضائی و سمندری ناکہ بندی کے درمیان یہ (میزائلس) کی سربراہی ناممکن ہے۔ ایرانی صدر روحانی نے اپنے ملک کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ حوثی باغیوں اور سعودی تائید یافتہ یمن حکومت کے درمیان تصادم اور اس علاقہ میں جاری دیگر جنگوں کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔ صدر روحانی نے کہا کہ ’’ہم یمن، عراق و شام اور حتیٰ کہ سعودی عرب کی بھی فلاح اور ترقی چاہتے ہیں۔ دوستی، اخوت اور باہمی تعاون کے سواء کوئی دوسرا متبادل راستہ نہیں ہے‘‘۔ حسن روحانی نے ایران سے کہا کہ ’’اگر آپ (سعودی عرب) یہ سمجھتے ہیں کہ ایران آپ کا دوست نہیں ہے اور یہ کہ امریکہ اور صیہونی حکومت (اسرائیل) آپ (سعودی عرب) کے دوست ہیں تو یہ آپ کی یہ حکمت عملی اور تجزیہ کی غلطی کررہے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT