Sunday , October 21 2018
Home / Top Stories / اسلامی دہشت گردی کا جے این یو میں مضمون۔ اے ایم یواسٹوڈنٹس نے جاویڈکر کو مکتوب روانہ کیا۔

اسلامی دہشت گردی کا جے این یو میں مضمون۔ اے ایم یواسٹوڈنٹس نے جاویڈکر کو مکتوب روانہ کیا۔

نئی دہلی۔ جواہرلا ل نہرو یونیورسٹی میں زیرتجویز مضمون’’ اسلامی دہشت گردی‘‘ تنازع کا سبب بن رہا ہے ‘ اسی کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین( اے ایم یوایس ) اورجواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین( جے این یو ایس یو) نے مرکز کے اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس کو مرکز ی حکومت کے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کو فروغ دینے کی کوشش کا حصہ قراردیا او رکہاکہ اس سے ہندوستان کے سکیولر اقدار کو نقصان پہنچے گا۔

اے ایم ایس یو نے مرکزی وزیر برائے انسانی وسائل وترقی پرکاش جاوڈیکر کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے زوردیا کہ وہ جے این یو انتظامیہ سے کہیں کہ زیرتجویز مضمون کو منسوخ کردیں اے ایم یو اسٹوڈنٹ یونین صدر مشکور احمد عثمانی نے انڈیاٹوڈے ٹی وی سے کہاکہ ’’کسی مخصوص مذہب سے دہشت گردی کو جوڑنا غلط ہے۔

ہندوستان کے سکیولر کردار پر یہ ایک بڑا سوال ہے۔یہ ایک ایجنڈہ ہے جس کے ذریعہ ملک کے باوقار یونیورسٹی کو اپنے ایجنڈہ نافذ کرنے کے لئے استعمال کیاجاسکے۔کسی مخصوص مذہب کو نشانہ بنانے کے بجائے دہشت گردی پر تحقیق اور بحث کیوں نہیں کرائی جارہی ہے‘‘۔

خبر ہے کہ جے این یو نصابی کونسل نے سنٹر فار نیشنل سکیورٹی کی تشکیل عمل میں لائی ہے جس کے تحت ’’ اسلامی دہشت گردی‘‘ کا ایک مضمون پڑھایا جائے گا۔

دہلی میناریٹی کمیشن نے پیر کے روز جے این یو راجسٹرار کے نام ایک نوٹس روانہ کرتے ہوئے زیرتجویز مضمون کی وجوہات طلب کی ہیں۔

اے ایم یو دہلی اولڈ بوائز اسوسیشن کے صدر ارشاد احمد نے کہاکہ ’’ کس طرح اسلام کو دہشت گردی سے منسو ب کیاجاسکتا ہے جبکہ تمام شعبوں کی دہشت گردی کے مذہب اسلام مذمت کرتا ہے۔الفا ‘ بوڈو او رہندو دہشت گردی کا پھر کیا؟

یہ مغرب کی سازش ہے جس کے تحت دہشت گردی کو اسلام سے منسو ب کیاگیا ہے۔ مذکورہ ایچ آر ڈی منسٹر فوری طور پر جے این یو میں اس کو بند کریں‘‘۔ یہاں تک کہ جے این یو ایس نے بھی نے مرکز پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ ’’ وہ اپنا ایجنڈہ کیمپس میں نافذ کرنے کاکام کررہی ہے‘‘۔

یونین جوائنٹ سکریٹری شبھانشو سنگھ نے انڈیا ٹوڈے سے کہاکہ ’’ نصابی دنیامیں کسی بھی فرقہ وارنہ ایجنڈے کو شامل کرنے کا مطلب متعلقہ کمیونٹی کو بدنام کرناہے‘‘۔

انہوں نے مزیدکہاکہ مرکزی حکومت ایک سیاسی نظریہ کے تحت چل رہی ہے‘ جو فرقہ پرستی پر مشتمل ہے اور وائس چانسلر کا سیاسی تقرر بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایما پر ہوا ہے‘‘

TOPPOPULARRECENT