Wednesday , January 24 2018
Home / مذہبی صفحہ / اسلامی سلطنت کے عظیم حکمراں کی سادگی اور رعایا پروری

اسلامی سلطنت کے عظیم حکمراں کی سادگی اور رعایا پروری

لوگ جب اقتدار پر براجمان ہوتے ہیں تو ان کی طرز زندگی اور طور طریقے سب کچھ بدل جاتے ہیں، مال و دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے، حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی پرواہ نہیں رہتی۔ مال کو جمع کرنے میں قاعدہ قانون سب بالائے طاق ہو جاتے ہیں۔ لیکن اسلام میں نہ صرف حکمرانی و جہاں بانی کے اصول و قوانین مرتب ہیں، بلکہ ابتدائے اسلام میں ایسے حکمراں من

لوگ جب اقتدار پر براجمان ہوتے ہیں تو ان کی طرز زندگی اور طور طریقے سب کچھ بدل جاتے ہیں، مال و دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے، حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی پرواہ نہیں رہتی۔ مال کو جمع کرنے میں قاعدہ قانون سب بالائے طاق ہو جاتے ہیں۔ لیکن اسلام میں نہ صرف حکمرانی و جہاں بانی کے اصول و قوانین مرتب ہیں، بلکہ ابتدائے اسلام میں ایسے حکمراں منصب اقتدار پر فائز رہے، جو تاقیامت ساری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد مبارک میں مال و دولت کی فراوانی تھی، لیکن خلیفہ وقت نے ایسی سادگی سے زندگی گزاری کہ اس دنیا سے کچھ حصہ نہ لیا۔ جس کا اثر نہ صرف ماتحت وزراء، گورنرس اور عہدہ داروں پر پڑا، بلکہ رعایا بھی اس سادگی سے متاثر ہوئی۔

اسلامی سلطنت کے عظیم حکمراں کے ذاتی مصارف ایک اوسط انسان کے برابر تھے۔ نہ صرف سالانہ تنخواہ میں، بلکہ عام سرکاری مصارف میں بھی کوئی اضافہ نہ تھا۔ مثلاً حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ شام کے دورے پر جاتے ہیں تو صرف ایک خادم کے ساتھ نکلتے ہیں۔ ساتھ میں ایک اونٹ ہے، جس پر آقا اور غلام دونوں باری باری بیٹھ کر سفر کرتے ہیں۔ اتفاق سے منزل مقصود پر پہنچے تو غلام سوار تھا اور آقا پیدل تھے۔ آپ کی سادگی اور ایمانداری کا اثر یہ تھا کہ سرکاری ملازمین بھی نہایت دیانت دار تھے اور سرکاری مال میں تغلب و تصرف بالکل ناپید تھا۔ جب سپاہی مال غنیمت متعلقہ افسر کو لاکر دیتے تھے تو اس میں جواہرات وغیرہ ایسی چیزیں بھی ہوتیں، جن کا چھپانا بہت آسان تھا، مگر وہ ایسا نہیں کرتے تھے اور اس کی اطلاع ملنے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ بہت متاثر ہوتے۔ کیوں نہ ہو کہ وہ خود بھی سرکاری خزانے سے ایک پائی نہ لیتے تھے اور اپنے سارے خاندان کی بھی کڑی نگرانی کرتے تھے۔

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی اہلیہ حضرت ام کلثوم بنت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما نے قسطنطنیہ جانے والے سفیر کو چپکے سے ایک تحفہ سپرد کیا کہ میری طرف سے ہرقل کی بیوی کو پہنچا دینا۔ واپسی پر ایک بہت قیمتی جڑاؤ ہار آیا، جو سفیر نے حضرت ام کلثوم کو مخفی طورپر پہنچا دیا۔ حضرت عمر کو اطلاع ملی تو مسجد میں مجمع عام میں بتاکر مشورہ کیا۔ سب نے کہا: ’’تحفہ کے بدلے تحفہ، یہ بالکل جائز ہے‘‘۔ لیکن آپ نے فرمایا: نہیں، نجی تحفہ سرکاری نامہ بر کے ہاتھوں بھیجا گیا ہے‘‘ اور اہلیہ سے معلوم کیا کہ ان کے اپنے بھیجے ہوئے تحفہ کی مالیت کیا تھی؟ اور وہ رقم خزانے سے اہلیہ کو دے دی گئی اور وہ تحفہ سرکاری خزانے میں داخل کردیاگیا ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ وقتاً فوقتاً مدینہ منورہ کے بازار کا دورہ کرتے اور شہر و مضافات کا اکثر گشت لگاکر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتے۔ ایک دن ایک نووارد ناواقف غریب مسافر کی بیوی کی زچگی دیکھی۔ دوڑتے ہوئے سرکاری اسٹور پر آئے اور غلہ لے جاکر خود پکاکر اسے کھلایا اور اپنی اہلیہ کو بھی ساتھ لے گئے کہ زچہ کی مدد کریں۔ جب اہلیہ نے اندر سے آواز دی کہ ’’امیر المؤمنین! اپنے دوست کو بیٹا ہونے کی خوش خبری سنا دیجئے‘‘ تو اس وقت مسافر کو معلوم ہوا کہ جو شخص اس کی مدد میں ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ خلیفۃ المسلمین ہیں۔

ایک دفعہ ایک گھر میں شراب کی مجلس دیکھی، پتہ نوٹ کرلیا اور صبح کو بلاکر ڈانٹا۔ متعلقہ شخص نے انکار کیا۔ حضرت فاروق اعظم نے فرمایا: ’’میں نے خود چھپ کر دیکھا ہے‘‘۔ اس نے کہا: ’’اللہ تعالی نے قرآن مجید میں تجسس سے منع کیا ہے‘‘۔ آپ نے اسکو اختیار کیا اور اس کو کوئی سزا نہ دی۔

ایک دفعہ ایک نیک بخت لڑکی کو اس کی ماں کہہ رہی تھی کہ ’’اُٹھ اور دودھ میں پانی ملا‘‘۔ اس نے کہا: ’’اماں جان! امیر المؤمنین نے اس کام سے منع کیا ہے‘‘۔ ماں نے کہا: ’’بیٹی! یہ رات کا وقت ہے، امیر المؤمنین یہاں کہاں؟‘‘۔ بیٹی نے خوف خدا کو پیش نظر رکھتے ہوئے دودھ میں پانی ملانے سے انکار کردیا۔ حضرت فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے صبح کو اپنے لڑکوں کو بلاکر کہا: ’’ایک بڑی اچھی لڑکی ہے، کوئی ہے جو اس سے نکاح پر تیار ہو؟‘‘۔ حضرت عاصم نے آمادگی ظاہر کی اور اس نکاح سے ام عاصم پیدا ہوئیں، جو حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم خلیفہ کی ماں بنیں۔ (ازالۃ الخلفاء۲:۱۹۶)
آپ ہر نماز کے بعد کچھ دیر مسجد میں بیٹھے رہتے اور ہر شخص آپ سے گفتگو و فریاد کرسکتا تھا۔ اپنے آپ کو ہر فرد کے سامنے جوابدہ تصور کرتے تھے اور ہر شخص ان پر اعتراض یا سوال کرسکتا تھا۔ ایک مرتبہ لوگوں میں کپڑے تقسیم ہوئے۔ ہر شخص کو ایک ایک چادر ملی۔ حضرت فاروق اعظم کے پاس اس قسم کی دو چادریں تھیں۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ ’’ہر شخص کو ایک چادر ملی ہے، مگر آپ آج دو چادریں اوڑھے ہوئے ہیں، یہ کیسے؟‘‘۔ حضرت عمر نے فرمایا: ’’میں نے ایک چادر اپنے بیٹے سے لی ہے، سرکاری مال سے نہیں اور وجہ یہ ہوئی کہ میرا قد بلند ہونے سے میرے حصہ کی چادر مجھے کافی نہ ہوسکی‘‘۔

ایک دن نہا دھوکر، کپڑے پہن کر جمعہ کی نماز کے لئے جا رہے تھے کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کے پاس سے گزرے تواوپر کی منزل کے پرنالے سے آپ پر گندہ پانی گرا (حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے دو چوزے ذبح کئے تھے، جن کا خون پرنالے سے بہہ گیا تھا) دفع مضرت عامہ کے اصول پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے پرنالہ نکال دیا، لیکن جب حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ ’’یہ پرنالہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے نصب فرمایا تھا‘‘ تو حضرت عمر نے قسم دی کہ ’’میرے کندھے پر چڑھ کر پرنالہ دوبارہ اس کی جگہ نصب کردو‘‘۔ (وفاء الوفا)
آپ کی زندگی اتنی سادہ تھی کہ ایک دن دوپہر کے وقت دورے کے دوران غنودگی طاری ہوئی تو ایک درخت کے نیچے بغیر فرش کے لیٹ کر سو گئے۔ اتفاق سے قیصر روم کا سفیر آیا اور دارالامارۃ میں نہ پایا تو پوچھتے پوچھتے وہاں پہنچا، جہاں آپ آرام فرما رہے تھے۔ بے ساختہ کہنے لگا: ’’میرا آقا ظلم کرتا ہے، اس لئے مارے ڈر کے پہرے کے بغیر کہیں نہیں رہ سکتا۔ آپ عدل و انصاف کرتے ہو، اس لئے اس طرح اطمینان سے آرام کی نیند سوتے ہیں‘‘۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے اردو دائرۃ المعارف اسلامیہ)

TOPPOPULARRECENT