Wednesday , December 13 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اسلامی قوانین پر عمل آوری سے ہی پرامن معاشرہ کی تشکیل

اسلامی قوانین پر عمل آوری سے ہی پرامن معاشرہ کی تشکیل

کریم نگر /7 جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کریم نگر ٹی این جی اوز فنکشن ہال میں بروز چہارشنبہ 6 جنوری کو سماج میں امن و رواداری کے عنوان منعقدہ جلسہ عام میں جو مقامی صدر جناب محمد خیرالدین کی صدارت میں منعقد ہوا اس میں مختلف مذاہب مکتب فکر کے دانشوروں نے خطاب کیا ۔ جناب محمد عبدالعزیز سکریٹری جماعتاسلامی ہندتلنگانہ اور جناب محمد رفیق نائب صدر جماعت اسلامی ہند اے پی نے قرآن و حدیث کے حوالوں سے سماج میں امن و رواداری کا کسی طرح قیام ممکن ہے ۔ اس کی مثالیں دیتے ہوئے حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ کی خلافت کے طرز عم لکو پیش کریت ہوئے کہا کہ آج اسی طرح اسلامی قوانین پرعمل کیا جائے تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی ۔ جناب عبدالعزیز نے زور دے کر کہا کہ آدم اور حضرت محمدﷺ تک بے شمار رسول ، پیغمبر بھیجے گئے ۔ جنہوں نے اللہ کی ہدایت کے مطابق اس چار روزہ زندگی گذارنے کیلئے اصول و ضوابطہ بتائے لیکن اپنی حرص و ہوس خود غرضی کی وجہ سے رب العزت کے بتلائے گئے اصولوں سے انحراف کیا اور تباہی کا راستہ اختیار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حق و باطل کیا ہے اس کا فرق سمجھا دیا گیا ہے ۔ حق کو چھوڑ باطل کو اپنانے کی وجہ سے ہی خرابی ہے ۔ آج ملک کو آزادی ہوئے 70 سال ہوچکے ہیں ۔ لیکن باگ ڈور صرف دس فیصد کے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ساری دولت انہی کے فیصد میں ہے ۔ غریب مزید غریب ہوتا جارہا ہے ۔ خواتین کی عزت محفوظ نہیں ۔ معزز مہمان جناب محمد رفیق نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی یکجہتی امن و امان کی برقراری کیلئے پہلے ہمیں اپنے مذاہب کا گہرا مطالعہ کرنا چاہئے کیونہ ہر مذہب میں اچھائی کی تعلیم دی گئی برائی سے روکا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے ۔ اللہ کے تبلائے گئے راستہ پر عمل کرنے کی تلقین کی ۔ انہوں نے اسلامی طرز عمل پر روشنی ڈالی ۔ اس جلسہ کو سمدرالہ وجئے سارتھی ، ریواپال کھولو نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کریں کسی کو برا بھلانہ کہیں ، برائی نہ کریں ۔ ایک ان دیکھی طاقت بھگوان ، گاڈ ، اللہ ہے جس کی مختلف طریقوں سے پرارتھنا ، پوجا عبادت کی اچھے کاموں پر سورگ اور برے کاموں پر نرک میں جانا ہواگ ۔ یہ عقیدہ ہوتو پھر کوئی غلط راہ نہیں اپنائے گا ۔ جناب محمد خیرالدین صدر جلسہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اس جہاں میں رہنے والے اپنی چند روزہ زندگی میں ایک دوسرے کا خیال کرھنے لگیں گے ۔ کسی کو نقصان پہونچانے کی کوشش نہ کریں گے اور اپنے مذاہب کی تعلیمات پر عمل کریں گے تو امن برقرار رہے گا ۔ رواداری ہوگی جلسہ کی کارروائی جناب معزالدین نے چلائی ۔ قبل ازیں جلسہ کا آغاز عبدالفتح لطیفی کی تلاوت کلام اور جناب عبدالقدیر کے ترجمہ سے ہوا ۔ افتتاحی کلمات جلسہ کی غرض غایت پر جناب عبدالواجد نے روشنی ڈالی ۔ بعد ازاس سیرت النبی ﷺ کے سلسلہ میں انگریزی اور تلگو میں مضمون نویسی کے منعقدہ مقابلوں میں اول دوم اور سوم آنے والے طلباء و طالبات اور دیگر 50 طلباء و طالبات کو توصیفی سرٹیفکیٹس اور انعامات کی تقسیم عمل میں لائی گئی ۔ پی ونشی کو انگریزی مضمون پر تین ہزار بی شیوا کو انگریزی مضمون پر دوسرا دو ہزار اور ندا علیم کو 15 سو نقد انعام دیا گیا ۔ اسی طرح سندھیا رانی افضل احمد ، آر راجہ ، جی مہیش کو تین ہزار دو ہزار ، پندرہ سو کے دو انعامات دئے گئے ۔ مضمون نویسی مقابلہ میں ہزاروں طلبہ نے حصہ لیا تھا ۔ نقد انعامات کیلئے ڈاکٹر بشیر احمد ایم اے علیم اور شیخ محمود نے تعاون دیا ۔ اسی کے ساتھ دیگر توصیفی انعامات کیلئے ڈاکٹر بشیر احمد نے بھی تعاون کیا ۔ شہ نشین پر عبدالحئی شعیب لطیفی نعیم الدین وغیرہ تھے ۔

TOPPOPULARRECENT