Friday , January 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / اسلامی معاشرہ ، ماضی و حال کے آئینے میں

اسلامی معاشرہ ، ماضی و حال کے آئینے میں

اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگر انسان صحیح طور سے ان نعمتوں کا استعمال کرے تو وہ اپنے مقصد تخلیق کو حاصل کرسکتا ہے اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اسلامی معاشرہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ہر فرد آخرت کے لئے فکرمند اور وہاں کے لئے زیادہ سے زیادہ توشہ جمع کرنے میں سرگرم عمل رہتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی جا

اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ اگر انسان صحیح طور سے ان نعمتوں کا استعمال کرے تو وہ اپنے مقصد تخلیق کو حاصل کرسکتا ہے اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اسلامی معاشرہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ہر فرد آخرت کے لئے فکرمند اور وہاں کے لئے زیادہ سے زیادہ توشہ جمع کرنے میں سرگرم عمل رہتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ تمام اعمال میں اپنے ہم عصروں سے آگے بڑھ جانے کی پوری کوشش کرتا ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور ایسی ہی چیز کے لئے حرص و ریس کرنے والے حرص و ریس کریں‘‘ (سورۃ المطففین) معلوم ہوا کہ اسلامی معاشرہ میں ایک دوسرے کے درمیان مال و دولت میں تنافس یا مسابقت نہیں ہوتا، بلکہ نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں تنافس اور مقابلہ ہوتا ہے اور یہ بات امیر و غریب، مرد و عورت، بچے اور جوان سب میں پائی جاتی ہے۔
اگر ہم حقیقت بیں نگاہوں سے ماضی و حال کے آئینے میں اسلامی معاشرہ کا موازنہ کریں اور اس کا جائزہ لیں تو ہم جس معاشرہ میں سانس لے رہے ہیں اور زندگی بسر کر رہے ہیں، اس میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں گے۔ ایک معاشرہ وہ تھا، جس کو خیر القرون کے مسلمانوں نے قائم کیا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے مل کر نہایت ہی تندہی اور جدوجہد سے اس معاشرہ کی تشکیل کی تھی، یہاں تک کہ اس معاشرہ کو تمام معاشروں میں فوقیت ملی اور یہی تمام معاشروں کے لئے نمونہ اور آئیڈیل قرار پایا۔ پھر ہوا یہ کہ اسلام کے ماننے والوں میں اسلام کے لئے جینے اور مرنے کا حوصلہ رفتہ رفتہ ختم ہوتا گیا، یہاں تک کہ اب روئے زمین پر کہیں بھی اسلامی معاشرہ اپنی اصل شکل میں موجود نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT