Saturday , August 18 2018
Home / شہر کی خبریں / اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں والدین کو ذمہ داری محسوس کرنے کا مشورہ

اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں والدین کو ذمہ داری محسوس کرنے کا مشورہ

دفترسیاست میں مسلم باپ پر لکچر، مفتی قاسم تسخیر اور جناب عامر علی خان کا خطاب
حیدرآباد ۔ 9 ڈسمبر (سیاست نیوز) اسلامی معاشرہ کی تشکیل کیلئے ضروری ہیکہ والدین اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔ اس میں اگر باپ اپنی گوناگوں مصروفیت میں سے اولاد کی طرف متوجہ ہوکر تربیت کے ساتھ اولاد کے فہم، عقل و شعور کو بالیدگی دیتا رہے گا تو اس میں احساس ذمہ داری، اپنی شخصیت میں نکھار اور جوابدہی کا تصور پیدا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی محمد قاسم صدیقی تسخیر نے آج ادارہ سیاست کے زیراہتمام ماہنامہ لکچر سے کیا۔ جو گولڈن جوبلی ہال احاطہ روزنامہ سیاست (عابڈز) میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کی۔ مولانا مفتی محمد قاسم صدیقی تسخیر نے مرکزی موضوع اسلام کے آغوش میں زاویہ زندگی کے ذیلی موضوع ’’مسلم باپ‘‘ پر قرآن و حدیث اور سیرت رسولؐ کی روشنی میں تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ موجودہ معاشرہ میں گھریلو تنازعات نے اپنی اولاد پر صحیح نگاہ کے رکھنے کے ساتھ ان کی اسلامی طریقے پر تربیت کرنے میں دوری پیدا کی ہے جس کی وجہ سے اولاد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان میں بڑوں اور چھوٹوں کے ساتھ ادب و شفقت کا جذبہ دور ہوتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر والدین اولاد کی پیدائش سے قبل بچہ کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کریں گے تو کامیابی حاصل ہوگی اور جب بچہ اپنے تمام تر ہوش و حواس کے ساتھ تعلیمی میدان میں قدم رکھ دیا ہو اس کے ذوق و شوق کو ملحوظ رکھیں۔ باپ جب اپنے بچہ کو تربیت دے رہا ہو تو اس کو اپنے میں غصہ، کنجوسی، بخل اور دوسری برائیوں کو دور کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنے لڑکے کی صحیح تربیت کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں ان دنوں جو ماحول پایا جارہا ہے جس کی وجہ سے نئی نسل اپنے والدین سے دوری اختیار کررہی ہے اور انہیں اپنے گھر میں جگہ دینے کے بجائے ’’معمرین گھر‘‘ میں لے جاکر چھوڑ رہے ہیں جس سے ان کی شخصیت پر غلط اثرات رونما ہورہے ہیں اور جو خاندان مشرقی ممالک سے جاکر وہاں زندگی گذار رہے ہیں ان کا ذرہ برابر بھی اثر دیکھا نہیں جاتا۔ انہوں نے باپ پر اپنی اولاد کے تربیت کی بھاری ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مغربی ممالک میں رونما ہونے والے واقعات بھی بتائے۔ انہوں نے مسلم باپ کی خصوصیت اور اس کی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سورہ فاتحہ کی روشنی میں اپنے فرائض کو انجام دے گا تو وہ اپنی اولاد سے ناکامی، شکست، پست ہمتی کو دور کرنے میں کامیاب ہوسکے گا۔ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ ادارہ سیاست کی جانب سے ہر ماہ کے دوسرے ہفتہ میں یہ لکچر منعقد ہوں گے تاکہ فردسازی اور اس کی اصلاح کا کام ہوسکے۔ جب فرد کی اصلاح ہوگی تو اس کی بنیاد پر ایک صالح معاشرہ تشکیل پاسکے گا جو رحمت کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ کی اصلاح تب ہی ممکن ہے جب ہر فرد اپنی اصلاح کی طرف راغب ہو۔ مولانا احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد باغ عامہ نے ادارہ سیاست کی جانب سے اسلامی معاشرہ کی تشکیل کیلئے جو ماہانہ لکچر منعقد کئے جارہے، اس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں اصلاح کیلئے اجتماعات و کانفرنس منعقد تو کی جاتی ہیں مگر فرد کی اصلاح کی طرف اہمیت ہو تو ایک مؤثر و مثالی معاشرہ کے ساتھ مسلمانوں میں ایک انقلاب پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کو جہاں ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، قانون داں اور مختلف کورس کو اختیار کرنا ہے وہیں اس کے ذریعہ خدمت خلق کے ساتھ ایک مثالی فرد بننے کی تڑپ و سعی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑے فلاسفر نے نظریات پیش کئے تاکہ انسانیت راحت و سکون حاصل کرے مگر وہ ناکام ہوئے۔ اس کے برعکس آپؐ نے جو اسلامی نظریہ ودین پیش کیا وہ تاقیامت باقی رہے گا جس سے انسانیت اپناکر اپنی دنیا اور آخرت کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے۔ کمسن قاری محمد بن احسن الحمومی کی قرأت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔

TOPPOPULARRECENT